|
بارہ گھنٹوں میں غیر ملکی
امدادی ٹیمیں پہنچنا شروع ہو گئیں جنہوں نے متاثرین کو گری ہوئی
عمارتوں سے نکالنا شروع کر دیا
آٹھ اکتوبر کو پاکستان میں
آنے والے شدید زلزلے میں کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اس بارے میں حکومت
نے بارہا اپنے بیانات میں تبدیلی کی ہے جس کی وجہ سے سات دن گزرنے
پر بھی بظاہر کسی کو معلوم نہیں کہ زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد
کتنی ہے
ہفتے کے روز صبح آٹھ بج کر
اکیاون منٹ پر آنے والے زلزلے سے اسلام آباد کے مارگلہ کا تاور
گرنے اور ایک عمارت گرنے سے سینکڑوں افراد ملبے تلے دب گئے تھے
حکومت کا ابتدائی زور اس
بات تھا کہ اسلام آباد کی عمارتوں سے رہائشیوں کو زندہ نکالا جائے
۔ لیکن کیسے ؟ اس بارے میں حکومت اور حکومتی اداروں کو کچھ معلوم
نہیں تھا ، ایک افرا تفری کا عالم تھا ہر کسی کے اس اچانک افتاد پر
ہاتھ پھول گئے اور کسی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسی آفات سے سی
نمٹنے کےلیئے ابدتائی طور پر کیا کیا جاتا ہے
ادھر اسی وقت پاکستان کے
زیر انتظام کشمیر میں زلزلہ آیا جس میں پاکستان آرمی کے سینکڑوں
فوجی ہلاک ہوگئے لیکن حکومت کو معلوم نہیں ہو سکا کہ کشمیر میں کیا
ہوا ہے ، اگر ایسا ہوتا تو فوجیوں کی ایک آدھ امدادی ٹیم یا سروے
ٹیم ایک گھنٹے بعد کشمیر میں پہنچ جاتی ۔ لیکن حکومت کو یہ معلوم
ہی نہیں ہو سکا کہ کہاں کیا ہوا ہے
خود صدر مشرف کا کہنا ہے کہ
12 گھنٹوں تک معلوم
ہی نہیں ہو سکا کہ کہاں کیا ہوا ہے
بارہ گھنٹے ایسے زلزلے میں
بارہ دن کے برابر ہوتے ہیں۔ بارہ گھنٹوں میں معلوم نہیں ہوا کیا
ہوا کہاں ہوا اور اگلے بارہ گھنٹوں میں صرف اسلام آباد پر توجہ رہی
اور اگلے بارہ گھنٹوں غیر ملکی امدادی ٹیمیں پاکستان پہنچ گئیں اور
انہوں نے ملبوں تلے سے دبے ہووں کو نکالنا شروع کر دیا
یقیناََ یہ سوال حکومت۔ صدر
اور دوسرے اداروں سے کیا جائے گا یا کیا جاتا رہے گا کہ پاکستان نے
پاکستانی متاثرین کےلیئے کیا کیا ؟ |