|
اردو سروس جرمنی کے
مظفرآباد میں نامہ نگار زاہد سرور کا کہنا تھا کہ کئی لوگوں نے
شکایت کی تھی کہ بچوں کو اغوا کیا جا رہا ہے اور عورتوں کی آبرو
ریزی کے واقعات ہوئے ہیں
اردو سروس نے مظفرآباد میں
امدادی کاموں کی نگرانی کرنے والے پاکستان میں انصار برنی ٹرسٹ کے
چیئرمین اور بانی انصار برنی سے ان کے سیٹلایئٹ فون پر رابطہ کر کے
ان سے بچوں کے اغوا کے بارے میں پوچھا تھا جس کے جواب میں ان کا
کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ بچوں کو اغوا کیا گیا ہے کیونکہ مجھے یہ
شکایات موصول ہوئی ہیں اور ہم بچوں کے لیئے حفاظتی اقدامات کر رہے
ہیں
اب ایک اور واقع نے جس میں
ایک بچی کو اغوا کے بعد لاہور کی ایک طواف کے پاس بیچ دیا ہے سامنے
آیا ہے جس نے حکومت کے ان تمام دعووں پر پانی پھیر دیا ہے جس میں
وزیر اعظم شوکت عزیز اور ان سے نیچے والے حکومتی ارکان کا کہنا تھا
کہ یہ جھوٹ ہے اور حکومت نے بچوں کے ََ سیکورٹی پروف ََ
انتظامات کیئے ہیں
نوائے وقت نے سنڈے ٹائمز کے
نمائندے سے خبر دی ہے کہ ایک 6
لاوارث بچی عائشہ کو پچاس ہزار میں لاہور کی ایک کوثر نامی طواف کے
ہاتھ بیچ دیا گیا ہے
لاہور کی اس طوائف کا کہنا
ہے کہ وہ اب اس بچی کو پڑھائے لکھائے گی اور اس بچی کو سستے داموں
نہیں بیچے گی
اس طوائف کا کہنا ہے کہ
عائشہ نامی اس بچی کو یہاں کوئی بھی ایک لاکھ روپے میں خرید سکتا
ہے اس لیئے وہ ابھی اس بچی کو بیچنے کا ارادہ نہیں رکھتی
صدر مشرف نے زلزلے سے تیس
لاکھ متاثرین کی امدادی نگرانی کےلیئے صرف چار فوجی افسروں کو
متعین کیا ہوا جس تمام متاثرہ علاقوں کی امدادی سرگرمیاں کنٹرول کر
رہے ہیں
ان چاروں فوجی افسروں کا
کہنا ہے کہ ہر طرف امداد تیزی سے پہنچ رہی ہے صرف خیموں کی کمی ہے
ان افسران کی پریس
کانفرنسوں کے مطابق کہیں کوئی گر بڑ نہیں ہے اس وقت صرف خیموں کی
ضرورت ہے اور فوج کو ان علاقوں میں بھیجا جارہا ہے جہاں تک ابھی
امداد نہیں پہنچی
لیکن متاثرہ علاقوں کی
رپورٹیں اور متاثرین اور امدادی کارکنوں کے انٹرویوز کے مطابق حالت
سونامی سے بھی بدتر ہے کہیں کوئی کنٹرول نہیں لوٹ مار عام ہے اور
اب بھی امدادی قافلوں کو لوٹا جا رہا ہے
متاثرین کا کہنا ہے کہ بچوں
کو اغوا کیا جا رہا خصوصاََ بچیوں کو اغوا کیئے جانے کی کوششیں کی
جا رہی ہیں
عسکری ۔ سیاسی اور جنگی
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی تمام ذمہ داری صدر مشرف پر عائد ہوتی
ہے جنہوں نے کسی بھی سول حکومت کو امدادی سرگرمیوں میں شامل نہیں
کیا جس کی وجہ ہر متاثرہ علاقے میں امداد کی کمی کی وجہ سے ہلاکتوں
میں اضافے کے ساتھ ساتھ بچوں کے اغوا کے تشویش ناک واقعات پیش آ
رہے ہیں |