ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

 
 
 

 

 

 

 

 
 
 

 

 
 
 

 

 
 
 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 
 

Tuesday, 20 December 2005 23:20 PSTاشاعت

 

حکومت نے ایسے واقعات کی تردید کی ہے

 

اردو سروس ۔ نیٹ

 

کسی متاثرہ علاقے میں پولیس یافوج کا کنٹرول نہیں ۔فوج کا کام امداد پہنچانا ہے

پاکستان میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد ان لاوارث بچوں اور بچیوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں جن کے ماں باپ زلزلے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں بچوں کے اغوا اور عورتوں کی آبرو ریزی کی شکایت آئی تھیں لیکن حکومت کا کہنا تھا کہ سباچھا ہے۔

 اردو سروس جرمنی کے مظفرآباد میں نامہ نگار زاہد سرور کا کہنا تھا کہ کئی لوگوں نے شکایت کی تھی کہ بچوں کو اغوا کیا جا رہا ہے اور عورتوں کی آبرو ریزی کے واقعات ہوئے ہیں

اردو سروس نے مظفرآباد میں امدادی کاموں کی نگرانی کرنے والے پاکستان میں انصار برنی ٹرسٹ کے چیئرمین اور بانی انصار برنی سے ان کے سیٹلایئٹ فون پر رابطہ کر کے ان سے بچوں کے اغوا کے بارے میں پوچھا تھا جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ بچوں کو اغوا کیا گیا ہے کیونکہ مجھے یہ شکایات موصول ہوئی ہیں اور ہم بچوں کے لیئے حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں

اب ایک اور واقع نے جس میں ایک بچی کو اغوا کے بعد لاہور کی ایک طواف کے پاس بیچ دیا ہے سامنے آیا ہے جس نے حکومت کے ان تمام دعووں پر پانی پھیر دیا ہے جس میں وزیر اعظم شوکت عزیز اور ان سے نیچے والے حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ یہ جھوٹ ہے اور حکومت نے بچوں کے ََ سیکورٹی پروف  ََ انتظامات کیئے ہیں

نوائے وقت نے سنڈے ٹائمز کے نمائندے سے خبر دی ہے کہ ایک 6 لاوارث بچی عائشہ کو پچاس ہزار میں لاہور کی ایک کوثر نامی طواف کے ہاتھ بیچ دیا گیا ہے

لاہور کی اس طوائف کا کہنا ہے کہ وہ اب اس بچی کو پڑھائے لکھائے گی اور اس بچی کو سستے داموں نہیں بیچے گی

اس طوائف کا کہنا ہے کہ عائشہ نامی اس بچی کو یہاں کوئی بھی ایک لاکھ روپے میں خرید سکتا ہے اس لیئے وہ ابھی اس بچی کو بیچنے کا ارادہ نہیں رکھتی

صدر مشرف نے زلزلے سے تیس لاکھ متاثرین کی امدادی نگرانی کےلیئے صرف چار فوجی افسروں کو متعین کیا ہوا جس تمام متاثرہ علاقوں کی امدادی سرگرمیاں کنٹرول کر رہے ہیں

ان چاروں فوجی افسروں کا کہنا ہے کہ ہر طرف امداد تیزی سے پہنچ رہی ہے صرف خیموں کی کمی ہے

ان افسران کی پریس کانفرنسوں کے مطابق کہیں کوئی گر بڑ نہیں ہے اس وقت صرف خیموں کی ضرورت ہے اور فوج کو ان علاقوں میں بھیجا جارہا ہے جہاں تک ابھی امداد نہیں پہنچی

لیکن متاثرہ علاقوں کی رپورٹیں اور متاثرین اور امدادی کارکنوں کے انٹرویوز کے مطابق حالت سونامی سے بھی بدتر ہے کہیں کوئی کنٹرول نہیں لوٹ مار عام ہے اور اب بھی امدادی قافلوں کو لوٹا جا رہا ہے

متاثرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو اغوا کیا جا رہا خصوصاََ بچیوں کو اغوا کیئے جانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

عسکری ۔ سیاسی اور جنگی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی تمام ذمہ داری صدر مشرف پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے کسی بھی سول حکومت کو امدادی سرگرمیوں میں شامل نہیں کیا جس کی وجہ ہر متاثرہ علاقے میں امداد کی کمی کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بچوں کے اغوا کے تشویش ناک واقعات پیش آ رہے ہیں

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

دوست کو ارسال کریں

صفحہ اول

 

صفحہ اول

پاکستان

بھارت

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

فن اور فنکار

کالم ۔ تجزیئیے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

اردو سروس اورآپ

اشتہارات

©urdu-serviceتمام جملہ حقوق بحق اردو سروس محفوظ ہیں