|
ہے، پاکستان کی تاریخ میں
چونکہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ غیر ملکی فوجوں نے غیر معینہ مدت
کےلیئے پاکستان میں بیس کیمپ بنا لیئے ہیں جس کی وجہ سے عوام بے
چینی کا اظہار کرنے لگی ہے
صدر مشرف کو امریکہ یا نیٹو
ممالک کی طرف سے کوئی قابل ذکر امداد تو نہیں مل سکی صرف وعدے ہی
دستیاب ہوئے ہیں لیکن ان ممالک کے فوجی ضرور پہنچ گئے ہیں
نیٹو اور امریکی فوج کے بیس
کیمپ پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں ہونگے جبکہ زلزلے سے اتنی ہی
تباہی صوبہ سرحد میں بھی ہوئی ہے لیکن کوئی غیر ملکی فوجی اس علاقے
میں نہیں اتارا گیا
کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں
اسلامی امدادی تنظیموں کے امدادی بینر بھی اتارے جانے کی خبریں
سامنے آئی ہیں جس پر احتجاج بھی کیا گیا ہے
متاثرہ علاقوں میں کام کرنے
والی اسلامی تنظیموں کے کئی کارکنوں کا کہنا تھا کہ ممکن ہے اب
ہمیں اس علاقے سے نکال دیا جائے
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج
کی وجہ سے کچھ راستوں کو محدود بھی کر دیا گیا
آثار ایسے نظر آرہے ہیں کہ
کچھ دنوں تک اسلامی امدادی تنظیموں کو اس علاقے سے بے دخل کر دیا
جائے گا اگر ان علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رہیں تو وہ غیر
سرکاری این جی اوز۔ نیٹو ۔ امریکی اور پاکستانی فوج کی ہونگی
متاثرہ علاقوں میں بالخصوص
کشمیر کے کم آبادی والے علاقوں میں امداد کی رفتار اسی طرح سست ہے
اور ہزاروں لوگ علاج معالجے سے محروم ہیں جبکہ سردی ناقابل برداشت
ہو رہی تاہم ایریا میں امدادی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے فوجی
افسران کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد مزید کئی ہفتے سردی کا مقابلہ
کر سکتے ہیں
علاقے میں دوکانیں تو کھلی
نظر آ رہی ہیں اور خرید و فروخت بھی ہو رہی ہے تاہم متاثرین کےلیئے
مہنگائی ناقابل برداشت ہے
ادھر پاکستان میں امریکہ کے
سفیر کا کہنا ہے کہ امریکی افواج پاکستان میں اس وقت تک رہے گی جب
تک وہ سمجھے گی کہ امدادی کاموں میں اس کی ضرورت ہے
سفیر کا کہنا تھا کہ غیر
ملکی فوج کے پاکستان سے جانے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دیا جا سکتا
جس کی وجہ سے پاکستانی عوام اور اپوزیشن کئی خدمشات کا اظہار کر
رہے ہیں پاکستان میں
اپوزیشن اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ََ کیا پاکستانی فوج
امداد کرنے کے قابل نہیں رہی ؟ |