|
انیس سالہ برطانوی فوجی جیسن کا کہنا تھا کہ عراق جنگ لڑنے کےلیئے
عراق نہیں جائینگے
جیسن کا کہنا تھا کہ وہ عراق میں چھوٹے بچوں کو ہلاک نہیں کرنا
چاہتے
جیسن نے عراق جاکر وہاں لڑنے اور بچوں کو ہلاک کرنے کی بجائے خود
اپنی جان لے لی
نوجوان برطانوی فوجی جیسن نے ساٹھ کے قریب خواب آور گولیاں کھا کر
اپنی کلائی کی خون کی بڑی رگ کاٹ لی جس کے بعد وہ جانبر نہ ہوسکے اور
دم توڑ دیا
جیسن کی والدہ کا کہنا ہے کہ جیسن نے مرنے سے قبل ایک خط لکھا جس
میں انہوں نے لکھا کہ وہ عراق نہیں جائینگے اور نہ عراق میں چھوٹے
بچوں کو ہلاک کرینگے
جیسن کیلسیا کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو عراق جانے کا
خوف تھا
ایک برطانوی اخبار کے مطابق جیسن کے والد کا کہنا ہے کہ ان
کے بیٹے کا کہنا تھا کہ انہیں عراق بھیجا جا سکتا ہے جہاں انہیں ’
بچوں کو بھی نشانہ بنانا ہوگا ، کیونکہ عراق میں بچے بھی خود کش
حملوں میں حصہ لیتے ہیں ‘
جیسن کیلسیا کو بتایا گیا کہ عراق میں ’ پہلے گولی مارو اور پھر
پوچھو‘ پر عمل کرنا پڑتا ہے
تاہم جیسن کیلسیا نے ایسا کرنے کے بارے میں اپنے خوف کا اظہار کیا
اور عراق جانے سے انکار کردیا
تاہم ابھی تک عراق میں ایسا کوئی واقع پیش نہیں آیا جس میں بچوں
نے خود کش دھماکے یا حملوں میں حصہ لیا ہو
واضع رہے عراق میں اب تک متعدد برطانوی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ
برطانیہ میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا
گیا جبکہ شہریوں کی ایک تعداد کا کہنا ہے کہ عراق سے فوجیں واپس
بلائی جائیں
عراق جنگ کے بارے میں ٹونی بلیئر نے اعتراف کیا تھا کہ عراق سے
کوئی ایٹمی ہتھیار تو نہیں ملا لیکن تاریخ عراق پر ہمارے حملے کو
درست ثابت کردیگی
|