|
تو اسرائیل دوبارہ حملے کریگا
اسرائیلی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا
کہ ’ حزب اللہ سلامتی کونسک کی قرارداد کے مطابق جنوبی لبنان کی
سرحد سے بیدخل اور غیر مسلح ہوجائے بصورت دیگر اسرائیل حزب اللہ پر
دوبارہ حملے کریگا
’یروشلم پوسٹ ‘ کے مطابق اسرائیلی
حکومت کا کہنا ہے کہ ’ حزب اللہ غیر مسلح ہو ورنہ جنگ کا دوبارہ
ایک اور راؤنڈ ہو سکتا ہے‘
حزب اللہ نے ابھی تک غیر مسلح ہونے سے
انکار کیا ہے جبکہ حزب اللہ کا بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے کسی بھی
حملے کا دوبارہ اسی طرح جواب دیا جائیگا جیسے اس سے قبل دیا گیا ہے
اسرائیلی حملوں کا تینتیس دنوں تک مقابلہ کرنے اور اب جنگ بندی کے
بعد حزب اللہ کے گوریلا جنگجو اب لبنان میں بمباری سے بکھرے گھروں
کی تعمیر اور بے گھروں افراد کو اشیائے خوردونوش پہنچا رہے ہیں
جبکہ حزب اللہ نے بے گھر افراد کےلیئے عارضی عارضی
رہاشگاہوں کا انتظام بھی شروع کردیا ہے
حزب اللہ نے بے گھر افراد کو نقد رقم
بھی دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ حزب اللہ کے جنگجو بے گھر افراد کے
علاوہ زخمی ہونے والے افراد کےلیئے میڈیسن کے اخراجات کا تخمینہ
بھی لگا رہے ہیں تاکہ ایسے افراد کو بنیادی سہولتوں کے علاوہ نقد
رقم بھی دی جا سکے
جنگ
بندی کے بعد جہاں لاکھوں لبنانی شام اور لبنان کے مختلف مقامات سے
واپس اپنے بکھرے گھروں کو لوٹ رہے ہیں وہیں شام لبنان اور
ایران میں لوگ نمازوں اور مزاروں پر حاضریاں دے کر حزب اللہ کےلیئے
دعائیں کر رہے ہیں
اسرائیلی فوج کی واپسی کے ساتھ ہی خود لبنان کے علاوہ شام اور
ایران میں حزب اللہ کو جنگ میں کامیاب قرار دے کر فتح کا جشن منایا
جا رہا ہے
تاہم شام کے صدر بشارالاسد کی تقریر کے
بعد مشرق وسطی کے سیاسی حالات میں کھچاؤ آ گیا ہے
اسرائیل کے لبنان پر تینتیس دنوں تک فضائی اور زمینی حملوں کے بعد
سلامتی کونسل کی امن قرارداد پر اسرائیلی فوجوں کی واپسی نے ایک ’
نئے مشرق وسطی ‘ کو اجاگر کیا ہے تاہم یہ نیا مشرق وسطی امریکہ کے
’ نئے مشرق وسطی ‘ سے قطعی مختلف ثابت ہوا ہے لبنان
پر اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کے بعد شام کے صدر بشارالاسد نے پہلی
مرتبہ پارلیمنٹ، قومی اسمبلی اور ملک کی اعلی شخصیات کے سامنے شامی
عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کیخلاف جنگ
جیتنے پر مبارکباد کی مستحق ہے
بشارالاسد نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر بھی سخت تنقید کی
انہوں
نے کہا کہ ’ نیا مشرق وسطی ‘ وجود میں آیا ہے تاہم یہ نیا مشرق وسطی
امریکی صدر بش کے نئے مشرق وسطی سے برعکس ہے
بشار
الاسد نے کہا کہ امریکہ کا نئے مشرق وسطی کا خواب تباہ ہو گیا ہے
جبکہ بش حکومت کے ہوتے ہوئے مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہو سکتا
بشارالاسد نے اپنی اس اہم تقریر میں اسرائیل کو شکست خوردہ کہا ہے
انہوں
نے کہا کہ ’ اسرائیل کی شکست حزب اللہ کا کمال ہے جو جنگ کی جیت پر
مبارکباد کے لائق ہے
ادھر
اسرائیل اور امریکہ نے شامی صدر کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے
کہا ہے کہ شام اور ایران حزب اللہ جیسی دہشتگرد تنظیم کے حامی ہیں
اور حزب اللہ کو مدد دینے والوں میں شام اور ایران شامل ہیں
اسرائیل
نے شام سے کہا ہے کہ وہ لبنان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے
تاہم
اسرائیلی وزیر اعظم نے تینتیس دن کی جنگ کے بعد اسرائیل کو فتح یاب
قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل میں ہونے والی حکومت اور فوج پر سخت تنقید
اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کو مسترد کر رہی ہے
ادھر
جرمن وزیر خارجہ ’ فرانک والٹر سٹائن مائیر ‘ جو اس وقت مشرق وسطی کے
دورے پر ہیں نے سعودی عرب جاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شام کے صدر
بشارالاسد سے اب ملاقات نہیں کرینگے
جرمن
وزیر خارجہ نے شام کے صدر بشارالاسد کی تقریر کو نا مناسب قراردیا ہے
امکان
ہے کہ لبنان کی امن فوج میں جرمنی کی بری اور بحری فوج بھی شامل ہوگی
اسرائیلی وزیر واعظم ایہود المرٹ نے نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے
درمیان یہ کہنا شروع کیا تھا کہ ہم امن فوج کے طور پر جرمنی کی فوج
کو تعینات کرنا پسند کرینگے تاہم جرمنی میں حکومتی اتحاد نے اس بارے
کوئی جواب نہیں دیا تھا
امکانی
طور پر جرمن وزیر خارجہ کا دورہ مشرق وسطی اسی سلسلے کی ایک کڑی
ہوسکتی ہے جس میں جرمنی کے کردار پر عربوں سے بات چیت شامل ہے
ادھر لبنان کے متعدد شہروں میں
اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والی عمارتوں سے لاشیں نکالی جا رہی
ہیں
امکان ہے ایسی سینکڑوں لاشیں دستیاب
ہوسکتی ہیں جنہیں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے دفنایا نہیں جا سکا تھا
جبکہ متعدد مقامات پر تباہ ہونے والی بڑی عمارتوں کے ملبے تلے بھی
لاشیں دبی ہوئی ہیں جس سے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی
تعداد کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے تاہم
جنگ بندی اور بعد ازاں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کی تقریر کے
بعد لبنان میں جنگ کی جیت کا جشن منایا جا رہا ہے جس میں ہزاروں
افراد نے حصہ لیا |