Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 21 August 2006 23:10 (PST)اشاعت

اسرائیلی حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے

 

اسرائیل میں فوجیوں کی ہلاکت پر سخت تنقید

لبنا ن کے خلاف جنگ میں مبینہ شکست کے بعد اسرائیل کے متعدد حلقوں سے ایہوداولمرٹ کی حکومت کے مستعفی ہونے کے مطالبات ہورہے ہیں، جامعہ عبریہ کے پروفیسر شلوموافینزی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستعفی ہوجائے اور ملک میں مڈٹرم 

 انتخابات کرائےجائیں

تل ابیب سے عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخبار یدیعوت و احرونوت میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں شلوموافینزی لکھتا ہے کہ اگرچہ سیاسی حالات کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت ایسا نہ کرے اور تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے سے انکار کردے لیکن جلد یا بدیر حکومت کو لبنان کی جنگ کے حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینا پڑے گی

 ماضی میں بھی 1973ء میں غولاد میرنے اور پہلی لبنانی جنگ میں مناحیم بیگن نے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کی مخالفت کی تھی،بال خر انہیں مستعفی ہونا پڑا

مضمون نگار اسرائیلی عوام کے غم وغصے کے حوالے سے لکھتا ہے کہ وہ لاکھوں لوگ جو ایک ماہ تک راکٹوں کی بارش میں زندگی گزاررہے تھے اور انہیں یہ محسوس ہو رہاتھا کہ حکومت نے انہیں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا ہے اور وہ فوجی جنہیں یہ احساس تھا کہ انہیں بغیر ساز و سامان اور متضاد فیصلوں کے سائے میں جنگ میں جھونک دیاگیا ہے

 کیا وہ سب کچھ بھول سکتے ہیں- جولوگ خیال کرتے ہیں کہ سب کچھ بھلا دیا جائے گا تو ان کی یہ خام خیالی ہے

خطرہ یہ ہے کہ حفاظت سے بڑھ کر جمہوری بحران نہ بن جائے - جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہے- اب یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دو ناتجربہ کار شخص اسرائیل کو نہیں چلا سکتے

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق متعدد صحافتی حلقے اسرائیلی حکومت سے لبنانی اور فلسطینی حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ کررہے ہیں- تل ابیب سے عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخبار ہارٹس کے عربی امور کے ماہر صحافی تسفی برئیل نے کہا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے لئے اسرائیلی حکومت کو لبنانیوں اور فلسطینیوں سے مذاکرات کرنا چاہیے

تسفی برئیل مضمون میں لکھتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے لبنان پر جنگ مسلط کی اور دعوی کیا کہ وہ اپنے دوفوجیوں کی رہائی کے لئے جنگ کررہا ہے

درحقیقت فوجیوں کے اغوا کے حوالے سے اسرائیلی حکومت حزب اللہ کو سبق سکھاناچاہتی تھی

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں بھی جنگ چھیڑی گئی- لیکن کیا نتیجہ نکلا ؟ فوجیوں کے اغوا کے ردعمل اور حماس اور جہاد اسلامی کو سبق سکھانے کے بدلے میں دو سو افراد مارے گئے ، مغوی فوجی بھی رہا نہ ہوسکے

مضمون نگار کے مطابق حکومت دعوی کرتی ہے کہ وہ دھمکیوں اور دہشت گردی کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گی

 مضمون نگار کے مطابق اب مسئلہ لبنانی حکومت کا ہے جس نے گزشتہ ہفتے سے سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھال لی ہے

حزب اللہ اس حکومت کا حصہ ہے لیکن حزب اللہ کے حکومت کا حصہ ہونے کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اب مسئلہ مغوی فوجیوں کے خاندانوں کا نہیں ہے بلکہ ملک کے مفاد کا ہے

اسرائیلی حکومت کی خواہش ہے کہ وہ لبنانی حکومت کے سامنے ایساکارڈ استعمال کرے جو حزب اللہ کے خلاف مقابلے میں زیادہ مدد دے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات