|
کے صدر احمدی نژاد نے ہنگامی طور پر اوآئی سی
کا اجلاس بلانے کی اپیل کی تھی تاہم ملائیشیا نے اس اپیل کو رد کردیا
تھا
عربوں کی حزب اللہ پر تنقید
عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ
ہیں
’لبنان کی حمایت نہیں کرینگے‘
’اسرائیل حزب اللہ کا خاتمہ کرے‘
اوآئی سی کے ملائیشیا میں ہونے والے اجلاس کے
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اپنے حملے فوری طور پر بند کرے
اعلامیہ میں کہا گیا کہ لبنان پر اسرائیلی
حملے کھلی جارحیت ہے اور اوآئی سی ان حملوں کی مذمت کرتی ہے
اوآئی سی کے اجلاس میں اسرائیل سے کہا گیا ہے
کہ وہ لبنان پر جاری حملوں کو غیر مشروط طور پر فوری بند کرے
اجلاس میں ایران کے صدر احمدی نژاد ، پاکستانی
وزیر اعظم شوکت عزیز اور بنگلہ دیش کی وزیر اعظم خالدہ ضیا، کے علاوہ
درجنوں مسلم ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی
اجلاس ملائیشیا میں ہوا ، ملائیشیا اس وقت
اوآئی سی کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہا ہے
مسلمان ممالک کی تنظیم اوآئی سی ہمیشہ ہی کسی
بھی معاملہ پر مذمتی الفاظ دہراتی آئی ہے جس کی وجہ سے او آئی سی کو
مسلم ممالک کی عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی
اجلاس میں شریک چند رہنماؤں نے نیٹو طرز
پرمسلم ممالک کی ایک اکٹھی فوج بنانے پر بھی بات چیت
اوآئی سی کے ’ہنگامی اجلاس‘ سے قبل ہی کہا جا
رہا تھا کہ اوآئی سی اسرائیلی حملوں کی مذمت کے علاوہ کوئی عملی
اقدامات نہیں اٹھائے گی
مسلم ممالک کے عوام توقع کر رہے تھے کہ اوآئی
سی اسرائیل کا بائیکاٹ یا کسی قسم کی دھمکی دے گی تاہم اوآئی سی کی
طرف سے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا |