|
كے
خلاف جنگ جاري ركھنے پر تشويق كررہے ہيں
انھوں نے
كہا كہ يہ عرب حكام اس بات سے غافل ہيں كہ جنگ كے شعلے ان كو بھي
اپني لپيٹ ميں لے ليں گے كيونكہ عرب كے عوام حزب اللہ كے ساتھ ہيں
اور بعض عرب حكام كب تك امريكہ اور اسرائيل كا دفاع كريں گے
لبنان پر اسرائیلی حملہ ، خصوصی صفحہ
عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ
ہیں
’لبنان کی حمایت نہیں کرینگے‘
’اسرائیل حزب اللہ کا خاتمہ کرے‘
’ مہر ‘ کے
مطابق علامہ سید محمد حسین فضل
نے كہا كہ
عنقريب امريكہ اور اسرائيل كے خلاف جنگ تمام عربي اور اسلامي ممالك
تك پھيل جائے گي
انھوں نے
كہا كہ امريكہ كي كوشش ہے كہ وہ اسرائيل كو تمام عرب ممالك كا سرپرست
بنا دے اور اسرائيل مشرق وسطي كي سب سے بڑي طاقت بن جائے
علامہ محمد
حسین کا کہنا تھا
كہ تاريخ نے ثابت كرديا ہے كہ امريكہ نے ہميشہ اپنے اتحاديوں كو
نابود كيا ہے
انھوں نے
كہا كہ صدام بھي ايك دن امريكي اتحاديوں ميں شامل تھا جبکہ
امريكہ تمام عرب حكومتوں كو ذليل اور رسوا كررہا ہے اور عرب حكومتيں
اپني ذمہ داريوں سے غافل ہيں
علامہ محمد
حسین
نے كہا كہ اگر عرب حكام حزب اللہ كي حمايت كرنے سے قاصر ہيں تو ان كو
اسرائيل اور امريكہ كي بھي مدد نہيں كرني چاہيے فرانسيسي خبررساں
ايجنسي كے حوالے سے مہر کا کہنا ہے کہ مصر ، اردن اور سعودي
عرب نے اسرائيل كے خلاف حزب اللہ كے سخت اقدام كو ناپسند قرارديا تھا
سعودي عرب
نے بعد ميں ايك نيا بيان جاري كيا اور سعودي عرب كے ايك مفتي نے كہا
تھا كہ اسرائيل كے خلاف لڑنے والے مجاہدين كے حق ميں نہ دعاكي جائے
اور نہ ہي انكا ساتھ ديا جائے
|