|
جو لبنان پر حملوں کے دوران نہیں پھٹے اور لبنان کے تباہ شدہ
گھروں ، عمارتوں اور سڑکوں پر پڑے ہیں
جنگ بندی کے بعد اب تک ایسے بموں کو چھونے سے چھ افراد ہلاک اور
متعدد زخمی ہوگئے ہیں
اسرائیل نے مذکورہ بم جان بوجھ کر گرائے تاکہ لبنان میں زیادہ سے
زیادہ جانی نقصان ہوسکے
اسرائیل کے گرائے ہوئے ایسے بم مختلف شکلوں میں ہیں جن میں بچوں
کے کھلونے ، کھانے پینے کی چیزوں کو محفوظ رکھنے والے ’ کین ‘ کی شکل
میں ہیں
اب تک زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں
امریکہ اس بات کی تحقیق کر رہا ہے کہ اسرائیل نے ایسے بم کیوں
استعمال کیئے
امریکی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایسے بم شہریوں پر
استعمال نہیں کر سکتا
اسرائیل کے گرائے جانے والے ایسے بموں کی تعداد پندرہ ہزار ہے جس
سے اس وقت اپنے گھروں کو واپس آنے والے لاکھوں افراد میں سے کم از کم
پچاس ہزار افراد کی جانوں کو خطرہ ہے
اسرائیل کے گرائے ہوئے ایسے بم تباہ شدہ شہری رہائشی علاقوں اور
سڑکوں پر پڑے ہیں
ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل یہ بات کہہ چکی ہے کہ اسرائیل نے جان
بوجھ کر شہری آبادی اور شہریوں کو بموں کا نشانہ بنایا جس پر اسرائیل
کیخلاف جنگی مقدمات درج ہونے چاہیئں
ادھر اسرائیل نے لبنان پر حملوں کے دوران
267 مقامات پر بارودی سرنگیں بھی بچھائی ہیں جس سے ہزاروں
افراد کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے
دو دن قبل ایسی ہی ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ایک اسرائیلی فوجی
ہلاک ہوگیا تھا
سرکاری اور غیر سرکاری امدادی تنظیموں کے علاوہ عالمی امدادی
تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس وقت لبنان میں شہریوں کی رہائش اور خوراک
کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ اسرائیل کی جانب سے گرائے جانے والے چھوٹے
بم اور بارودی سرنگیں ہیں جو ابھی تک ناکارہ نہیں ہو سکے
تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان بارودی سرنگوں اور بموں سے گھروں کو
واپس آنے والے ہزاروں شہریوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں خصوصاَ بچوں
کے ان بموں کی زد میں آنے کا زیادہ خدشہ ہے |