Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 25 August 2006 10:06 (PST)اشاعت

267 مقامات پر بارودی سرنگیں بیچھی ہوئی ہیں

 

پندرہ ہزار چھوٹے بم گھروں اور سڑکوں پر پڑے ہیں 267مقامات پر بارودی سرنگیں بیچھی ہوئی ہیں

لبنان پر اسرائیلی حملوں کے دوران اسرائیل نے ایسے بم بھی استعمال کیئے ہیں جو گرنے کے فوری بعد نہیں پھٹتے

اسرائیل جنوبی لبنان سمیت درجنوں شہروں اور دیہاتوں میں پندرہ ہزار ایسے بم گرائے ہیں

جو لبنان پر حملوں کے دوران نہیں پھٹے اور لبنان کے تباہ شدہ گھروں ، عمارتوں اور سڑکوں پر پڑے ہیں

جنگ بندی کے بعد اب تک ایسے بموں کو چھونے سے چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں

اسرائیل نے مذکورہ بم جان بوجھ کر گرائے تاکہ لبنان میں زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہوسکے

اسرائیل کے گرائے ہوئے ایسے بم مختلف شکلوں میں ہیں جن میں بچوں کے کھلونے ، کھانے پینے کی چیزوں کو محفوظ رکھنے والے ’ کین ‘ کی شکل میں ہیں

اب تک زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں

امریکہ اس بات کی تحقیق کر رہا ہے کہ اسرائیل نے ایسے بم کیوں استعمال کیئے

امریکی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایسے بم شہریوں پر استعمال نہیں کر سکتا

اسرائیل کے گرائے جانے والے ایسے بموں کی تعداد پندرہ ہزار ہے جس سے اس وقت اپنے گھروں کو واپس آنے والے لاکھوں افراد میں سے کم از کم پچاس ہزار افراد کی جانوں کو خطرہ ہے

اسرائیل کے گرائے ہوئے ایسے بم تباہ شدہ شہری رہائشی علاقوں اور سڑکوں پر پڑے ہیں

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل یہ بات کہہ چکی ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر شہری آبادی اور شہریوں کو بموں کا نشانہ بنایا جس پر اسرائیل کیخلاف جنگی مقدمات درج ہونے چاہیئں

ادھر اسرائیل نے لبنان پر حملوں کے دوران  267 مقامات پر بارودی سرنگیں بھی بچھائی ہیں جس سے ہزاروں افراد کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے

دو دن قبل ایسی ہی ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا تھا

سرکاری اور غیر سرکاری امدادی تنظیموں کے علاوہ عالمی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس وقت لبنان میں شہریوں کی رہائش اور خوراک کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ اسرائیل کی جانب سے گرائے جانے والے چھوٹے بم اور بارودی سرنگیں ہیں جو ابھی تک ناکارہ نہیں ہو سکے

تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان بارودی سرنگوں اور بموں سے گھروں کو واپس آنے والے ہزاروں شہریوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں خصوصاَ بچوں کے ان بموں کی زد میں آنے کا زیادہ خدشہ ہے

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات