|
ملٹری انٹیلی جنس کے اعلی عہدیدار
نے تسلیم کیا ہے کہ لبنان و فلسطین پر جنگ مسلط کرنے کا فیصلہ فوجی
نہیں بلکہ سیاسی تھا نیز یہ کہ اسرائیل کی سیاسی قیادت پر امریکہ
کی طرف سے دباؤ بڑھتا جارہا ہے کہ جنگ کو تیز نہ کریں اور مزید
تباہی و بربادی پھیلائیں
مرکز اطلاعات
فلسطین کے مطابق
عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ، اسرائیلی انتظامیہ کو یہ
سمجھانے کی کوشش کررہی ہے کہ حزب اللہ کو مکمل طور پر تباہ و برباد
کرنے سے اسرائیل آئندہ دس برس سکون سے گزار سکے گا
اسرائیلی انٹیلی جنس کے عہدیدار نے تسلیم کیا کہ جنگ کی وجہ سے
اسرائیل
کواپنے نقصان کو پورا کرنے میں دس برس لگ جائیں گے
انہوں نے مزید
کہا کہ حزب اللہ کا صفایا نہ ہوا تو حزب اللہ کو لبنانی جماعتوں کی
مزید حمایت مل جائے گی- انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے طائر اور
بعل بک شہروں میں حزب اللہ کے سربراہ اور دیگرکے ٹھکانوں اور
جنگجووں
کو
شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے
اسرائیل
کے انفرسٹرکچر کے وزیر فوادبن الیزر جو اسرائیل کے سابق وزیر دفاع
بھی رہ چکے ہیں ،نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیلی
فوج ابھی تک حزب اللہ کو شکست نہیں دے سکی
پچیس روز تک جاری رہنے کے بعد اسرائیل کے فوجی ریڈیو سے گفتگو کرتے
ہوئے کہا کہ کابینہ کے کسی وزیر کو اس کا یقین نہیں تھا کہ جنگ
اتنے طویل عرصے تک جاری رہے گی
اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے
والی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی فوج کے اعلی دستے جو فلسطین کے
نہتے ، غیر مسلح فلسطینیوں پر باآسانی
بالادستی حاصل کرلیا کرتے تھے اپنے آپ کو مسلح ، حزب اللہ کے
گوریلوں کے سامنے بے دستہ و پا اور کمزور محسوس کرتے ہیں- یہی وجہ
ہے کہ فوجی دستے اتارنے کے دو
آپریشن
ناکامی کا منہ دیکھ چکے ہیں
فلسطین اور اردن کے سب سے بڑی مسیحی( لاطینی) راہنما پیٹری آرک
مائیکل صباح نے غزہ کی پٹی اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی
ہے اور کہا ہے کہ انسانیت کو ان لوگوں کی تلاش ہے کہ جو امن و امان
کو نشوونما دیں، جنگ کی آگ بھڑکانے والوں کی ضرورت نہیں ہے
انہوں
نے مشرق وسطی کے بارے میں کنڈولیزا رائس کے منصوبے کی مذمت کی اور
کہا کہ علاقے کے لوگ بہتر جانتے ہیں کہ ان مسائل کو کس طرح حل کیا
جائے- انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام مکمل آزادی چاہتے ہیں اس کے
علاوہ کسی
بھی دوسرے منصوبے سے
آگ کے شعلے بھڑکیں گے |