|
حیفہ کے
رہائشی علاقے میں گرنے والے راکٹ سے ایک عمارت تباہ ہوئی ہے جس میں
متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم امدادی تنظیم کے ایک رکن کا کہنا
ہے کہ تین افراد ہلاک ہوئے ہیں
چھبیس دنوں سے جاری
لڑائی میں پہلی مرتبہ حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں پر شدید ترین
راکٹ حملے کیئے ہیں جن میں 12 اسرائیلی
فوجی اور تین اسرائیلی عرب ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں ،حزب
اللہ نے اتوار کے روز اسرائیلی شہروں ،کرجات شیمونہ ۔ حیفہ اور
مالوٹ پر ایک سو ستر
راکٹ فائر کیئے ہیں
حزب اللہ نے اپنی
جنگی حکتمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے مختلف مقامات سے اسرائیل
کے کئی مقامات پر
راکٹ فائر کیئے جس سے اسرائیل میں ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں
حزب اللہ کے راکٹ
حملے میں ہلاک ہونے والے بارہ فوجی ریزور فوجی تھے جو پہلے دن اپنی
ڈیوٹی پر آئے تھے
ادھر حزب اللہ کا
کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی پر تیار نہیں ہیں، حزب اللہ نے کہا ہے کہ
اسرائیلی حملوں میں لبنان کی تباہی کے بعد اب تباہ ہونے کےلیئے کچھ
نہیں بچا جس کو اب بچایا جائے اس لیئے اب اسرائیل کے جنگ بندی اسی
صورت میں ہوگی اگر اسرائیل لبنان کے تمام مقبوضہ علاقے خالی کریگا
حزب اللہ کے ساتھ
جھڑپوں میں بھی دو اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ متعد زخمی ہوگئے ہیں اس طرح
اتوار کو ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد
14 ہو گئی ہے
ادھر اسرائیلی
حملوں میں شدت آئی ہے اور اسرائیلی بمباری میں کم از کم گیارہ
لبنانی شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے دس
جنگجو ہلاک کرنے کا دعوی بھی کیا ہے
امریکہ اور فرانس کی قراراد ، اسرائیل
مطمن ، حملے جاری
امریکہ اور فرانس
کی ’ امن کوششوں ‘ سے تیار کی جانے والی قرارداد پر اسرائیل نے
اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد پر اپنی رضامندی ظاہر کردی ہے تاہم سلامتی کونسل
میں قرارداد کو پیش کیئے جانے کے باوجود اسرائیل نے لبنانی علاقوں پر
بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے
اسرائیل کے وزیر قانون کا کہنا ہے کہ
اسرائیل قرارداد کے مسودے پر خوش ہے
اسرائیلی وزیر قانون ھائیم رامون کا کہنا
تھا کہ قرارداد میں شامل الفاظ اسرائیل کےلیئے بہتر ہیں
امریکہ اور فرانس کی ’ امن کوششوں ‘ سے تیار
کردہ اس قرارداد میں اسرائیلی حملے بند کرنے کا نہیں کہا گیا
مذکورہ قرارداد میں لبنان میں داخل اسرائیلی
فوجوں کی واپسی کے بارے میں بھی کوئی واضع بات نہیں کی گئی
قرارداد کے مذکورہ مسودے پر اسرائیل کو کسی
قسم کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دیا گیا جس میں اسرائیل کو لبنان پر
حملے بند کرنے کا پابند کیا گیا ہو
قرارداد میں اسرائیلی حملے اور حملوں میں
ہلاک ہونے والے ایک ہزار افراد کی اموات پر مذمتی الفاظ بھی شامل
نہیں کیئے گئے
سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی اس
قرارداد کے بارے میں لبنانی حکومت اور حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ
قرارداد اسرائیل کو مزید حملوں کےلیئے وقت دینے کےلیئے تیار کی گئی
ہے جبکہ اس میں اسرائیل کو لبنان خالی کرنے کا بھی نہیں کہا گیا
لبنانی حکومت اور حزب اللہ نے قرارداد کو
قبول کرنے سے انکار کردیا ہے
لبنانی حکومت اور حزب اللہ کا کہنا ہے کہ
اسرائیلی فوجوں کی لبنان سے مکمل واپسی کے علاوہ کوئی بھی مطالبہ
قابل قبول نہیں
اسرائیلی وزیر قانون نے قرارداد کے بارے میں
ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ جب تک حزب اللہ اپنے ہتھیار نہیں
رکھتی اور سفارتی کوششیں کامیاب نہیں ہوتیں اسرائیل اپنے حملے جاری
رکھے گا
اس ضمن میں روس اور چین کوئی اہم کردار ادا
نہیں کر رہے ہیں تاہم سلامتی کونسل میں روس اور چین کے مبصرین کا
کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے دونوں فریق جلد ہی جنگ بندی پر راضی
ہوجائینگے |