|
سیز فائر کے فوراً بعد
اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی صدر اور وزیر انصاف کو جنسی سیکنڈل،
وزیراعظم کو پراپرٹی ڈیل جبکہ فوج کے ایک سینئر جنرل کو سٹاک ٹریڈنگ
میں ملوث قرار دیا ہے
ابھی تک کسی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا گیا تاہم یہودی قوم
اپنے رہنماؤں کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو چکی ہے اور ہر
جگہ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے لبنان کے ساتھ ایک ماہ
تک اس قدر مہنگی جنگ کیوں لڑی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک سابق سرکاری
ملازم نے صدر موشے کتسوف پر الزام لگایا کہ انہوں نے اسے جنسی تعلقات
قائم کرنے پر مجبور کیا، صدر کتسوف نے ان الزامات کی تردید کی ہے
لیکن پولیس معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ وزیر انصاف ہائم ایمن
پر ایک سرکاری ملازم خاتون نے الزام لگایا ہے کہ وزیر نے اس کو
زبردستی پیار کیا
اٹارنی جنرل کی طرف سے اس الزام کی تحقیقات کرنے کے فیصلے کے بعد
ہائم ایمن نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر اسرائیلی حکومت نے
تصدیق کی ہے کہ وہ وزیراعظم کی طرف سے 2004ءکے دوران 1.2 ملین ڈالر
میں خریدے جانے والے وزیراعظم المرٹ کے یروشلم میں واقع اپارٹمنٹ کے
سودے کا جائزہ لے رہی ہے
وزیراعظم المرٹ کو پہلے ہی اسرائیلی عوام نے حالیہ جنگ کے
حوالہ سے ایک سروے کے دوران ایک ایسا ناکام وزیراعظم قرار دیا جو حزب
اﷲ کا قلع قمع کر سکا اور نہ ہی ان کے راکٹ حملوں کو روک سکا
ایک اسرائیلی سیاسی تجزیہ نگار کے مطابق المرٹ ایک مردہ شخص ہے جو چل
رہا ہے۔ اس طرح اسرائیلی آرمی کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ڈان ہلٹز
کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ حزب اﷲ کی طرف سے دو اسرائیلی فوجیوں
کے اغواءکے فوراً بعد انہوں نے ممکنہ جنگ کے پیش نظر قیمتیں گرنے کے
خوف کی وجہ سے اپنے شیئرز فروخت کئے تھے
یہودی رائے عامہ کے مطابق جنرل ہلٹز کو اس وقت اپنی ناکامی کا کیوں
یقین تھا جب اسرائیلی فوج کی طرف سے جنگ شروع کرنے یا نہ کرنے پر محض
غور ہو رہا تھا
|