|
کیمپ
میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک مقام پر اسرائیلی فوجیوں نے حملہ
کرکے ایک مسجد کو منہدم کردیا
اسرائیلی فوجیوں نے جنگ بندی کے مقررہ وقت کے چار گھنٹے بعد حزب اللہ
کے دو کارکنوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جبکہ بعلبک میں لبنانی فوج
کے کئی کیمپ بھی تباہ کر دیئے
ادھر
اسرائیلی وزیر اعظم نے سلامتی کونسل کی قرارداد کو اسرائیل کی فتح
قرار دیا ہے جبکہ ایہود المرٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایسے حملے اس
سورت میں دوبارہ کر سکتا ہے اگر اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا
تاہم
اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرٹ کو ملک میں شدید تنقید کا سامنا ہے
ادھر
حزب اللہ نے جنگ بندی تو قبول کرلی ہے تاہم ہتھیار رکھنے کی شرائط کو
ماننے سے انکار کردیا ہے
اسرائیلی وزیر اعظم اور اسرائیلی کابینہ کے بائیس ممبران نے کئی
گھنٹوں کے غور وخوض کے بعد اعلان کیا ہے کہ اسرائیل سلامتی کونسل
کی منظور کردہ قرارداد پر عمل کریگا اور پیر کو سات بجے صبح
اسرائیلی فوج جنگ بندی پر مکمل عمل کریگی
اسرائیلی وزیر خارجہ ’ زیپی لوینی ‘ نے کابینہ کے بعد صحافیوں کے
ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل
کریگا اور پیر کو جنگ بندی عمل میں آ جائے گی
تاہم
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے جاری جبکہ اتوار کے روز جنوبی لبنان
میں اسرائیلی بمباری سے پانچ پٹرول پمپ اور کم از کم چھ افراد ہلاک
ہوگئے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں تاہم شام کو کیئے جانے والے حملوں
میں مزید دس افراد ہلاک ہوگئے
اسرائیلی وزیر خارجہ نے لبنان پر اسرائیلی حملوں اور ایک ہزار لبنانی
شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد اعتراف کیا کہ حزب اللہ کو فوجی کارروائی
میں شکست نہیں دی جاسکتی
زیپی کا
کہنا تھا کہ اسرائیل کے دو یرغمال بنائے جانے والے فوجیوں کی رہائی
مذاکرات سے ممکن ہے جنگ سے نہیں
ادھر
اسرائیل کے وزیر اعظم ’ ایہود المرٹ ‘ نے فوجی ریڈیو سے اپنے خطاب
میں کہا کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے ساتھ سیاسی مذاکرات بھی بروئے کار لانا ضروری ہیں
اسرائیلی وزیر خارجہ کا بھی یہی کہنا تھا کہ حزب اللہ کا خاتمہ جنگ
سے ممکن نہیں ہے
اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرٹ نے کابینہ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ
جنگ بندی کے بعد کسی بھی خرابی حالات کی ذمہ داری لبنانی حکومت پر
عائد ہوگی
ادھر
حزب اللہ نے اتوار کو اسرائیلی شہر ’ حیفہ ‘ پر ایک سو ساٹھ راکٹ
داغے ہیں جس میں ایک شخص ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد
کاریں حملے میں نذر آتش ایک مکان تباہ جبکہ کئی عمارتوں کو شدید
نقصان پہنچا
جنوبی
لبنان میں اسرائیلی فوجوں اور حزب اللہ کے درمیان ابھی تک شدید لڑائی
جاری ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے دریائے لیطانی تک پہنچنے کا دعوی کیا
ہے تاہم آزاد ذرائع اور حزب اللہ نے اس دعوی کی تصدیق نہیں کی
گذشتہ
رات دریائے لیطانی کی جانب پیشقدمی کرتے ہوئے اسرائیلی کے چوبیس فوجی
ہلاک ہوگئے تھے جبہ حزب اللہ نے ایک اسرائیلی کاپٹر بھی تباہ کردیا
تھا
تاہم
ایک اطلاع کے مطابق اسرائیل کے متعدد فوجی ابھی تک لاپتہ ہیں
اسرائیل
کی تینتیس دنوں کی جنگ اور لبنان کی تباہی کے علاوہ ایک ہزار
لبنانیوں کو ہلاک اور آٹھ ہزار کو زخمی کرنے اور دس لاکھ لبنانی
شہریوں کو بے گھر کرنے کے علاوہ بیروت، سیدون ، طائر، بنت جبیل اور
دیگر اٹھارہ قبصوں کو مکمل اور جزوی تباہ کرنے کے باوجود دو اسرائیلی
فوجیوں کی عدم بازیابی اور حزب اللہ کا خاتمہ نہ کیجئے جانے پر
اسرائیلی عوام اور میڈیا اسرائیلی حکومت پر شدید تنقید کر رہی ہے
اسرائیلی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے بعد اسرائیلی
وزیر اعظم ایہود المرٹ کا حکومت میں رہنا اب ممکن نہیں رہا
واضع
رہے اسرائیلی حکومت اور فوج نے لبنان پر حملے کرتے وقت عوام اور
پارلیمنٹ و کابینہ کو یہ باور کروایا تھا کہ حزب اللہ کو ایک ہفتے سے
دس میں شکست سے دوچار کر دیا جائے گا تاہم ماہرین اور تجزیہ نگاروں
کا کہنا ہے کہ جنگی لحاظ سے اسرائیل لبنان پر حملوں کے تینتیس دن بعد
شکست سے دو چار ہوا ہے
اس کے
برعکس بے گھر ہونے والے دس لاکھ لبنانیوں کےلیئے اسرائیلی فتح یا
شکست سے زیادہ ضروری اپنے منہدم ہونے والے گھروں کو واپس لوٹنا ہے
جبکہ حزب اللہ کی طرف سے دو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کو جنگ اور ایک
ہزار سے زائد لبنانیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے |