|
المنار ٹي
وي پر اپنے ايك بيان ميں سكيورٹي كونسل كي قرارداد كو ظلم پر مبني
قرارديا ہے اور كہا ہے كہ سكيورٹي كونسل لبنان كے لئے بہتر اقدام
كرسكتي تھي
سيد حسن
نصر اللہ نے کہا كہ حزب اللہ نے صرف اسرائيل كے حملوں كا جواب ديا ہے
انھوں
نے كہا كہ ہم اپنا جواب لبناني حكومت كے ذريعہ ديں گے اوروہ اسرائيلي
حكومت ہے جس كو نئی شرائط قبول كرنا پڑيں گی
حزب اللہ
كے رہنما نے كہا كہ اسرائيل جنگ بند كرنے كا خواہاں نہيں ہے اور اس
نے لبنان پرہوائي اور زميني حملے جاري ركھے ہوئے ہيں جبکہ
قرارداد منظور ہونے كے بعد بھي اسرائيل كے ہوائي حملے شہري آبادي
پرمسلسل جاري ہيں
حسن نصر
اللہ نے كہا كہ اسرائيلي حكومت كے اندر اختلاف ايجاد ہوگيا ہے كيونكہ
اسرائيلي وزير اعظم نے جو عہد كيا تھا اس كو وہ ايك مہينے تك پورا
نہيں كرسكے اور نہ ہي حزب اللہ نے اسرائيل كو اس كے اہداف ميں كامياب
ہونے دياہے
انھوں نے
كہا كہ سكيورٹي كونسل كي قراداد ميں سب سے زيادہ مشكل جو ہے وہ يہ
ہے كہ اس ميں اسرائيلي فوجيوں كے لبنان سے انخلاء اور جنگ بندي كا
وقت معين نہيں ہے
سيد حسن
نصر اللہ نے كہا كہ اگر حزب اللہ كے مجاہدين كي جانفشاني نہ ہوتي تو
اسرائيل بيروت تك پہنچ جاتا ليكن حزب اللہ نے اسرائيل كو اسكي حيثيت
بتا دي ہے انھوں نے كہا كہ اگر حكومت اور قوم كے درميان اتحاد نہ
ہوتا تو لبنان كي سلامتي كو زبردست خطرات لاحق ہوجاتے
ہفتے کو
حزب اللہ نے اسرائیل کے سولہ فوجی اور اکیس ٹینک تباہ کرنے کا دعوی
کیا تھا تاہم اسرائیل کے گیارہ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے کم
از کم پندرہ فوجی زخمی ہوئے ہیں
اسرائیل
کے تین ٹینک بھی تباہ ہوئے جبکہ حزب اللہ نے ہفتے کی صبح اسرائیل کے
چھ ٹینک تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا
ادھر
اسرائیلی فوج ہر حال میں دریائے لیطانی تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے
جبکہ اسرائیلی وزیر خارجہ ’ زیپی لوینی ‘ نے کہا ہے کہ اسرائیل پیر
کی صبح چھ بجے تک جنگ بندی پر عمل شروع کردیگا
لبنان
پر حملوں کے بعد اب تک کم از کم ایک سو اکتیس اسرائیلی فوج ہلاک جبکہ
سینکڑوں زخمی ہوئے تاہم حزب اللہ کے مطابق اب تک دو سو کے قریب
اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں |