|
اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرٹ نے اسرائیلی
فوج کے لبنان میں کئی کلو میٹر اندر گھس جانے کو اسرائیلی فوج کی ’
شاندار فتح ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ مجھے بعلبک میں اسرائیلی
کمانڈؤں کے کامیاب آپریشن پر فخر ہے
المرٹ کا کہنا تھا کہ ’ ہم حزب اللہ کو بتا
دینا چاہتے ہیں کہ وہ جہاں بھی ہونگے اسرائیلی فوج ان کا پیچھا کرتے
ہوئے وہیں پہنچ سکتی ہے
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے ’ جشن فتح ‘ کے
برعکس بعلبک کے ہسپتال میں کیا جانے والا اسرائیلی کمانڈؤں کا آپریشن
ناکام ہو گیا ہے
اسرائیلی کمانڈؤں نے ہزاروں گولیوں کی فائرنگ
اور اسرائیلی جنگی طیاروں کے ہسپتال پر حملے کے بعد جن پانچ افراد کو
حزب اللہ کے ’ اہم کارکن ‘ قرار دے کر گرفتار کیا ہے وہ عام شہری
نکلے
اسرائیلی کمانڈؤں نے جن پانچ افراد کو گرفتار
کیا ہے انہیں وہ اپنے ساتھ اسرائیل لے گئے تھے
اسرائیلی فوج کو اطلاع ملی تھی کہ بعلبک کے ’
دارالحکمہ ؛ ہسپتال میں حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ موجود
ہیں جس پر اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کت مطابق رات کے دس بج کر بائیس
منٹ پر دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فوج کے اسپیشل دستے کو ہسپتال کی
چھت پر اتارا جنہوں نے بعد ازاں ہسپتال سے پانچ افراد کو گرفتار کر
لیا
تاہم اسرائیلی فوج کو بعد میں معلوم ہوا کہ جس
حسن نصراللہ نامی شخص سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے ان میں حسن
نصراللہ حزب اللہ کے سربراہ نہیں بلکہ کوئی اور ہیں
اسرائیلی فوج نے بعد ازاں ان افراد کو
حزب اللہ کے ’ اہم ‘ کارکن قرار دیا
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرٹ نے کہا
ہے کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک لبنان کی سرحد کے اندر تک تیس
کلو میٹر کے ایرئیے میں امن فوج تعینات نہیں جاتی جبکہ بعلبک میں
اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کا
سلسلہ جاری ہے |