Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Tuesday, 26 September 2006 17:24 (PST)اشاعت

مسلم باربی بھی حجاب نہیں لے سکتی، حکومت

 

مسلم بچیوں میں ’مسلم باربی‘ زبردست پسندکی جارہی ہے

تیونس میں سیکورٹی فورس نے ’یو ایل‘نامی گڑیا کو مارکیٹوں سے ہٹانے کے لئے دکانوں پر چھاپے مارنے شروع کر دئیے  , تیونس کے دکانداروں نے  بتایا کہ یو ایل کھلونے کے فوٹو بھی سیکورٹی ملازمین نے غائب کر دئیے ‘تیونس کی پولیس کا

 کہنا ہے کہ نقاب پہنے ہوئے یہ گڑیا فرقہ پرستی کو ہوا دے رہی ہے

دکانداروں نے اسلام آن لائن کو بتایا  کہ اس کارروائی سے ان کو شدید نقصان پہنچا ہے ، نقاب پہنی یہ گڑیا امریکہ اور مغربی دنیا میں تیار ہونے والی کئی گڑیوں سے زیادہ مقبولیت حاصل کر چکی ہے

چھپے ہوئے بازو‘جائے نماز اور حجاب والی یہ گڑیا دنیا بھر کی مسلمان بچیوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراچکی ہے

مسلم باربی گڑیا دیگر باربی گڑیوں سے زیادہ مشہور ہوئی ہے جبکہ اسے مارکیٹ میں آئے زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا

تیونس کی حکومت نے قانون نمبر  18پاس کررکھاہے جس کے مطابق خواتین نقاب نہیں پہن سکتی

تیونس کی انتظامیہ کے نزدیک نقاب والی گڑیا سے اشتعال پھیل سکتا ہے کیونکہ طالبات میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ساعدہ الاکرنی کا کہنا ہے کہ ہم نے حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے کہ وہ حجاب کے خلاف پابندی ختم کرے

تیونس کے وزیر مذہبی امور ابو بکر اخزوری کا کہنا ہے کہ حجاب کا علاقائی ثقافت سے تعلق ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات