|
کویت کی ایک مقامی کمپنی
ارا ٹرانس میں ٹرالر ڈرائیور فرمان اللہ کی میت کی تلاش کےلیئے
کویت میں پاکستانی سفارت خانے کے ساتھ رابطی کیا گیا تھا اور وہاں
موجود پاکستان عوامی نیشنل سنٹر کے ساتھ فرمان اللہ کے بھائی نے
رابطہ کیا تھا
ہلاک ہونے والے پاکستانی
شہری کے بھائی ذبیح اللہ نے کویت میں پاکستانی سفارت خانے اور دیگر
امدادی اداروں کے علاوہ مذکورہ کمپنی سے اپنے بھائی کی میت عراق سے
کویت لانے کےلیئے انسایت کے نام پر اپیل کی تھی
فرمان اللہ کی ہلاکت کی
فیکس پاکستانی سفارت خانے کو پہنچ گئی تھی تاہم فرمان اللہ کی میت
کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا تھا جبکہ پاکستان میں ہلاک ہونے
والے فرمان اللہ کے والدین کئی مہینے سے بیٹے کی میت پاکستان
پہنچنے کے انتظار میں تھے
عراق سے کویت پہنچنے والی
فرمان اللہ کی میت اب پاکستان کے ان کے آبائی گاؤں علی زئی کرم
ایجنسی بھیجی جائے گی
|