|
کہ جرمنی اسرائیل کے اغوا ہونے والے فوجیوں کو
رہائی دلوانے میں مدد کرے
واضع رہے جرمنی دو سال قبل بھی حزب اللہ کی
طرف سے ایسی ہی شرائط کے موقع پر اسرائیل کی مدد کرچکا ہے اور اس
سلسلے میں اسرائیل کو چار سو عربی قیدیوں کو رہا کرنا پرا تھا
اسرائیل نے مذکورہ عربی قیدیوں کو حزب اللہ کی
طرف سے ایک اسرائیلی فوجی اور ایک شہری کے بدلے رہا کیئے تھے
اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا
کہ ’ اب یہ وہ وقت ہے جس سے اسرائیل اور جرمنی کے روز مرہ کے تعلقات
دوبارہ اپنی اصل حالت پر آجائینگے
ادھر لبنان کے وزیر اعظم فواد السینیور نے
عالمی برادری پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری
لبنانیوں کے قتل کا تماشہ دیکھ رہی ہے اور کوئی ملک اسرائیل کے حملے
رکوانے میں دلچسپی نہیں رکھتا
انہوں نے عرب ممالک پر بھی شدید تنقید کی ہے
سعودی عرب نے اپنے بیان میں کہا ہے
کہ ’ اگر غیر ملکی مداخلت ضروری ہے تو وہ ایسی ہونی چاہیئے جس سے عرب
ممالک کو نقصان سے دو چار نہ ہونا پڑے‘
غالباَ سعودی عرب کا اشارہ اس
طرف تھا کہ لبنان میں اگر غیر ملکی فوجیں آتی ہیں تو ان کو ایسے
طریقہ کار کے تحت آنا چاہیئے جس سے عرب ممالک کو مسائل کا سامنا نہ
ہو
ادھر اسرائیل اور حزب اللہ میں شدید
جھڑپیں جاری ہیں
یہ جھڑپیں لبنان کے شمال میں جاری
ہیں جس اسرائیلی پیدل فوج کو توپ خانہ اور فضائیہ کے علاوہ پہلی
مرتبہ برائے راست اسرائیلی جنگی ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حصل ہے
اسرائیلی فوج اب تک حزب اللہ کے دو
کارکنوں ہلاک کرسکی ہے تاہم اسرائیلی حملوں میں اب تک ساڑھے تین سو
کے قریب لبنانی شہری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سولہ لبنانی فوجی بھی
شامل ہیں
اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں
میں اکثریت گھریلو خواتین اور بچوں کی بتائی جاتی ہے
اسرائیل نے خصوصی طور پر لبنانی
شہروں میں بجلی ، پانی ، سیورج ، سڑکوں ، پلوں کو نشانہ بنایا ہے جس
کی وجہ سے شہریوں کو روز مرہ کی زندگی کےلیئے انتہائی دشواری پیش
آرہی ہے
حزب اللہ کے مطابق انہوں نے اسرائیل
کے متعدد ٹینک تباہ کر دیئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے ایک ٹینک اور
چار فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے
حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں اب تک
انتیس اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں کم از کم گیارہ اسرائیلی فوجی
شامل ہیں |