|
اکلو میٹر ایک اور
شہر ’ بنیا مینہ‘ کو بھی نشانہ بنایا تاہم مذکورہ شہر سے کسی کے
ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے
اسرائیلی فوج نے ’مارون الراس ‘ پر قبضہ کرلیا
سرائیل کی پیدل
فوج نے حملہ کرکے لبنان کے سرحدی علاقے’ مارون الراس‘ پر قبضہ
کرلیا ہے اسرائیلی فوج کے
جنرل ’ بینی گانٹس‘ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے دو ہزار فوجیوں نے اس
حملے میں حصہ لیا ہے
جنرل بینی گانٹس کے
مطابق ’ بنت جبل‘ کا خاص علاقہ جو حزب اللہ کا سرحدی جنگی پوائنٹ تھا
اب ہمارے قبضے میں ہے
جنرل بینی کا کہنا ہے
کہ ہمارے قبضے میں آنے والے علاقے سے نزدیکی علاقہ بھی حزب اللہ کے
خاص علاقوں میں شامل ہوتا ہے
اس سے قبل اسرائیلی
ٹینکوں نے لبنان کی سرحدی رکاوٹوں کو توڑ دیا تھا اور لبنانی علاقے
میں داخل ہو گئیں تھیں
خدشہ ہے کہ اسرائیلی
فوجیں پیر کے روز ھزب اللہ کے ٹھکانوں اور جنوبی و شمالی لبنانی
علاقوں کے علاوہ دیگر علاقوں میں پیشقدمی کرینگی
تاہم ابھی تک
اسرائیلی فوجوں سے صرف حزب اللہ برسرپیکار ہے اور ماہرین کا کہنا ہے
کہ حزب اللہ کے جوابی حملوں نے اسرائیل کےلیئے مشکلات میں اضافہ کیا
ہے
ادھر لبنان کی فوج کا
تاحال کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے تاہم لبنان کے وزیر داخلہ کا کہنا
تھا کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے اندر حملہ کیا تو لبنانی فوجیں اس کا
مقابلہ کرینگی
لبنان پر اسرائیلی فوج کے دو
سو حملے ، چھ افراد ہلاک
جبکہ اسرائیل نے
لبنان کے کئی مقامات پر دو سو کے قریب حملے کیئے ہیں جس میں حزب
اللہ کےٹی وی چینل سمیت دیگر متعدد ٹی وی چینلزکو تباہ کردیا گیااسرائیلی حملوں میں
جنوبی و شمالی لبنان کےکمیونی کیشن نیٹ ورکس کو بھی تباہ
کردیا گیا ہے جس سے
علاقائی موبائیل فونز بند ہوگئے ہیں
اسرائیل کا کہنا ہے
کہ حزب اللہ کیخلاف شدید حملوں کا آغاز ہونے والا ہے
اسرائیل اپنے کئی
ہزار فوجی اور سینکڑوں بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے ساتھ لبنان کی
سرحد کے اندر داخل ہو گیا ہے تاہم اسرائیل نے ابھی زمینی حملوں کو
محدود رکھا ہے
ادھر ذرائع ابلاغ کے
مطابق اسرائیل نے امریکہ سے اسلحہ کے حصول کی درخواست کی ہے
بعض اطلاعات میں کہا
گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت لبنان پر حملوں کی ایک لمبی فہرست رکھتی ہے
اور اگر اسرائیل نے اپنے مقررہ اہداف کو نشانہ بنایا شروع کیا تو
لبنان کی مکمل تباہی کا امکان ہے
ادھر حزب اللہ کے
سربراہ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ حزب اللہ جنگ بندی نہیں کریگی اور
اسرائیل کی پیدل فوج کے حملوں کا جواب دیگی
حزب اللہ نے ہفتے کے
روز بھی اسرائیل کے حیفہ شہر کو اپنے کٹوشیا میزائلوں کا نشانہ بنایا
ہے جس میں دس افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں ایک کی حالت نازک ہے
جرمنی میں اسرائیل کے
سفارتکار نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیلی حملے بند نہیں
ہونگے
ان کا کہنا تھا کہ
اسرائیل کی جنگ کسی ملک سے نہیں بلکہ دہشتگردوں سے ہے
انہوں نے اس سوال کے
جواب میں کہ ، اسرائیل نے جرمنی سے امداد کی اپیل کی ہے تاکہ اس کے
دو فوجیوں کو رہا کروایا جائے ؟
اسرائیلی سفارتکار کا
کہنا تھا کہ اسرائیل کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور اسرائیل یہ
جنگ اکیلا ہی لڑیگا
ادھر جرمنی کے وزیر
خارجہ فرانک والٹر سٹائن مائیر قاہرہ پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے مصر
کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی
جرمن وزیر خارجہ
سٹائن مائیر کی اس دورے میں اگلی منزل اسرائیل ہے جہاں وہ اسرائیلی
حکام سے جنگ بندی کے بارے میں بات چیت کرینگے
امریکی وزیر خارجہ
کوندو لیزا رائس بھی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے سلسلے میں بات چیت
کےلیئے مشرق وسطی کا دورہ کرنے والی ہیں جہاں وہ سعودی عرب مصر اور
اسرائیل کا دورہ کرینگی
تاہم رائس یہ بات
متعدد بار دہرا چکی ہیں کہ جنگ بندی کا وقت ابھی نہیں آیا
جنوبی اور شمالی
لبنان کے علاقوں کے علاوہ بیروت اور گردونواح سے لبنانی شہری نقل
مکانی کر رہے ہیں جبکہ اب تک کم و بیش پانچ لاکھ افراد نقل مکانی کر
چکے ہیں اور اسرائیلی حملوں میں کم از کم چار سو شہری ہلاک ہوچکے ہیں
ادھر دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں اسرائیلی
حملوں کیخلاف احتجاج جاری ہے جبکہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ لبنان پر
اسرائیلی حملوں کے بعد جنگ بندی کےلیئے سفارتکاری ڈھونگ ہے |