|
اصل میں وہی شخص ہیں جن کو القاعدہ ویب سائٹ نے گزشتہ ہفتہ ابو
حمزہ المہاجر کے نام سے مشتہر کیا
انہوں نے کہا کہ المصری 1982ءسے ایک دہشت گرد ہے اور اس نے اپنی
سرگرمیاں مصر کے اسلامی جہاد تنظیم سے شروع کیں جو الظواہری کے تحت
منظم تھی
انہوں نے کہا کہ المصری شام سے عراق کے غیر ملکی جنگجووں کو لانے میں
پیش پیش ہے
زرقاوی کے بعد کون؟ ماہرین پریشنان
بعقوبہ عراق میں امریکی ایف سولہ طیاروں سے
پھینکے گئے پانچ پانچ سو پونڈ وزنی بموں کے حملے میں ہلاک ہونے
والے ابو معصب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد ان کی جگہ لینے والا کون
ہے؟
یہ سوال امریکی فوج اور حکام کے
علاوہ خود عراقی حکومت کو ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے اسلام اور
دہشتگردی کے بارے میں سند رکھنے والے ماہرین کےلیئے بھی پریشان کن ہے
زرقاوی کی ہلاکت کے بعد ان کی جگہ
سنبھالنے والےمبینہ’ ابو حمزہ المہاجر‘ کے بارے میں امریکی فوج کا
کہنا تھا کہ یہ وہی ہیں اور انہوں نے افغانستان سے تربیت حاصل کی اور
عراق میں زرقاوی کے دست راست تھے
صدر بش کی ’ خفیہ ‘ عراق آمد کے دن
زرقای کے مبینہ نائب نے اپنے دو صفحات کے پہلے پیغام میں اعلان کیا
تھا کہ ’ صلیبیوں اور شیعوں پر حملوں میں شدت لائی جائگی‘ انہوں نے
اسامہ بن لادن کی بھی تعریف کی تھی
ماہرین کا کہنا ہےکہ ’ ابو حمزہ
المہاجر ، یہ کون ہے ، کہاں کا ہے ، اور کیسا ہے ‘ ؟
اسلام اور دہشتگردی کے ماہرین کا
کہنا ہے کہ ’ کیا یہ نام اصل ہے ؟ یا صرف یہ جنگجووانہ نام ہے‘ ؟
عراق میں شدت پسند کارروائیوں
کےلیئے خود کو زرقاوی کا نائب کہنے والے مبینہ ابو حمزہ المہاجر ‘ کا
کہنا ہے کہ ’ میں جہادی ہوں ‘ انہوں نے اپنے پہلے بیان میں کہا کہ ’
ہم زرقاوی کی موت کے بعد اتحادی افواج میں زلزلہ پیدا کرینگے‘
ماہرین اندازے لگا رہے ہیں کہ
زرقاوی کے بعد آنے والا ممکن ہے سعودی عرب کا ہو ، شام اور اردن کا
ہو عراق کا ہو
تاہم دنیا بھر کے ماہرین اس بارے
میں اندھیرے میں ہیں
ادھر بغداد میں امریکی فوج کے
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ یہ ابو حمزہ نہیں بلکہ ، ابو ایوب مصری ‘ ہیں
تاہم اس سے قبل امریکی فوج نے ابو
حمزہ المہاجر کی تصویراس یقین کے ساتھ جاری کی تھی ، زرقاوی کی
جگہ لینے والے ’ ابو حمزہ المہاجر‘ ہیں |