|
بلکہ یہ ہلاکتیں حملے کے وقت ٹکنیکی وجوہات کی وجہ سے عمل میں آئی
ہیں
واضع رہے اسرائیلی فوج کے اس حملے میں کم از
کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد
بھی شامل ہیں
فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان پر حملہ اس
وقت کیا گیا جب وہ سو رہے تھے
حملے میں کئی بچے اور
عورتیں بھی ہلاک ہوئے ہیں
اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ سمیت دیگر کئی علاقوں میں مسلسل
حملے اور فلسطینیوں کی گرفتاریوں کے بعد حماس نے اعلان کیا ہے کہ
کہ وہ اسرائیلی کیخلاف حملے شروع کریگی ، حماس نے اسرائیل کیخلاف
حملوں کا اعلان ڈیڑھ سال بعد کیا ہے
ڈیڑھ سال قبل حماس
نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے طور پر اپنے حملے بند کر دیئے تھے
تاہم اب حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے دوبارہ شروع کریگی
واضع
رہے دس روز میں اسرائیلی فوجیوں نے کم از کم ساٹھ فلسطینیوں کو ہلاک
کردیا ہے جن میں آٹھ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں
ادھر
فلسطین
کی دیگر
مزاحمتی
جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر
بیت حنون کا محاصرہ ختم نہ کیاگیا تو اسرائیل کے اندر میزائل حملے
شروع کردیئے جائیں گے-
عوامی
مزاحمتی جماعتوں کے ترجمان ابوعبیر نے کہا کہ مزاحمتی جماعتوں نے ان
حملوں کو قبل از بند کردیاتھا لیکن بیت حنون میں اسرائیل نے جو کچھ
کیا ہے اس پر ہم اپنی پالیسی پر نظرثانی کررہے ہیں
انہوں
نے کہا کہ اسرائیل سے کوئی مفاہمت نہ ہوگی اور تمام مزاحمتی جماعتوں
نے ان علاقوں کو نشانہ بنانے پر اتفاق کرلیا ہے جن پر اسرائیل نے
1948ء
میں قبضہ کیاتھا
فلسطینی مقتدرہ کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محموددالزہار نے کہا ہے کہ
فلسطینی مزاحمتی جماعتیں صرف اس وقت اسرائیلی فوجی گیلا شالت کو رہا
کریں گی، جب ان پندرہ سو فلسطینی بچوں ،بوڑھوں اور عورتوں وکو رہا
کردیا جائے گا جو معمولی معمولی جرائم پر اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں
محمود
الزہار نے کہا کہ انہوں نے اس مسئلے پر مصری حکام سے بات چیت کی ہے-
گفتگو کے دوران بیت حنون میں اسرائیلی شرمناک کارروائی بھی زیر بحث
آئی، جس میں چالیس فلسطینی شہید اور دو سو زخمی ہوئے
محمود
الزہار نے کہا ہے کہ وہ مصری حکام کے ساتھ مزید ملاقاتیں کریں گے، ان
میں کراسنگ کا مسئلہ بھی زیر بحث آئے گا
انہوں
نے کہا کہ وہ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمر موسی سے ملاقات کریں گے
اور اس کے بعد لیبیا ، تیونس ، الجزائر ، مراکش اور موریطانیہ کے
دورے پر روانہ ہوجائیں گے |