|
گذشتہ روز
فلسطین کے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل جنگ
بندی پر عمل کرے تو حماس جنگ بندی پر تیار ہے لیکن اسرائیل ہفتے کی
شام تک مسلسل جنگ بندی سے انکار کرتا آیا تھا
تاہم ہفتے
کی صبح وہاں کے وقت کے مطابق چھ بجے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا
اسرائیلی
فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم نے غزہ سے فوج واپس بلا لی ہے
ادھر جنگ
بندی کے وقت حماس اور اسلامی جہاد نے اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیئے
جس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے
حماس حکومت
بننے کے بعد امریکہ اور اسرائیل سمیت یورپی یونین نے فلسطین کی مالی
امداد بند کر دی تھی
فلسطین کے
صدر محمود عباس مسلسل حماس پر دباؤ ڈالے ہوئے تھے کہ حماس حکومت
اسرائیل کو تسلیم کرے اور حماس حکومت سے قبل ہونے والے اسرائیل کے
ساتھ امن فارمولے پر عمل کرے
جبکہ حماس
حکومت نے اسرائیل کو یکطرفہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ
سے صدر محمود عباس اور حماس حکومت کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو
گئے تھے
امکان ہے
صدر عباس اور حماس حکومت میں یہ معاہدہ طے پایا ہے کہ اسرائیل کے جنگ
بندی اور بعد ازاں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کیئے جائیں اسی لیئے
دونوں جانب سے اچانک غیر متوقع طور پر جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا
ہے |