|
گذشتہ روز یک بعد دیگرے چھ کار بم
دھماکوں میں ایک سو ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے
جبکہ جمعہ کے روز مختلف مقامات پر
فائرنگ، اور دھماکوں میں مزید ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے
تل افر، بعقوبہ اور ترمیہ میں کم از
کم ساٹھ افراد ہلاک کر دیئے گئے
صدر
سٹی ، ایک سو ساٹھ افراد ہلاک
بغداد کے علاقے صدر سٹی میں یک
بعد دیگرے کئی بم دھماکے ہوئے جن میں ایک سو اڑتیس افراد ہلاک
ہوگئے ہیں دھماکوں میں کم از کم دو سو افراد
زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد تشویشناک حالت میں ہیں
نامعلوم افراد کی جانب سے یک بعد
دیگرے کم از کم چار کار بم دھماکے کیئے گئے جن میں ان افراد کی
ہلاکتیں ہوئیں
بغداد کے صدر سٹی علاقے میں اکثریت
شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی ہے
تاہم ابھی تک ان دھماکوں کی ذمہ
داری کسی گروپ یا تنظیم نے قطول نہیں کی
سب سے شدید دھماکے اور جانی نقصان
صدر سٹی کی جمیلہ مارکیٹ میں ہوا جہاں خرید و فروخت کرنے اور
راہگیروں کا ہجوم تھا
صدر سٹی میں دھماکوں میں اکریں
استعمال کی گئیں تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ
مذکورہ خود کش حملے تھے
ادھر نامعلوم افراد نے دیگر کئی
علاقوں میں فائرنگ کی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے
واضع رہے عراق میں خصوصاَ بغداد اور
اس کے گردونواح میں شیعہ اور سنیوں کے درمیان ایک خانہ جنگی جاری ہے
جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں
اب تک سینکڑوں افراد کی لاشیں
دستیاب ہو چکی ہیں جنہیں گرفتار یا اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ
بنایا گیا اور بعدا زاں انہیں قتل کرکے سڑکوں پر پھینک دیا گیا
سینکڑوں افراد کی لاشیں ایسی بھی
ملی ہیں جن کے سر قلم کیئے گئے تھے
جبکہ صدر بش کا کہنا ہے کہ عراق میں
جمہوریت بتدریج آ رہی ہے اور امریکی فوج عراق سے واپس نہیں جائے گی |