|
یورپی
یونین اور امریکہ کا کہنا تھا کہ حماس حکومت اسرائیل کے ساتھ ان امن
مذاکرات پر پیش رفت کرے جو حماس حکومت کے آنے سے پہلے جاری تھے
حماس حکومت
کا کہنا تھا کہ نہ صرف حماس ان مذاکرات کو جاری نہیں رکھ سکتی بلکہ
اسرائیل کو بھی تسلیم نہیں کریگی
یہی نہیں
بلکہ فلسیطین کے صدر محمود عباس نے بھی حماس پر شدید دباؤ ڈالا تھا
کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے
اس سلسلے
میں محمود عباس ایک قومی ریفرنڈم بھی کروانا چاہتے تھے جس میں
اسرائیل کو تسلیم کیئے جانے کےلیئے ووٹنگ ہونا تھی
دوسری جانب
محمود عباس فلسطین اتھارٹی میں اہم عہدے ، جیسے سیکورٹی فورس اور
حساس عہدے اپنی جماعت ’ الفتح ‘ کودینا چاہتے تھے یہیں سے حماس اور
محمود عباس میں شدید اختلافات شروع ہوگئے
تاہم اب
کہا جا رہا ہے کہ حماس اور محمود عباس میں نئی حکومت تشکیل دینے کا
معاہدہ طے پایا گیا ہے
فلسطین کی
دو اہم پارٹیوں حماس اور فتح میں مشترکہ حکومت کی تشکیل پر اتفاق
رائے ہوگیا ہے
اطلاعات
کے مطابق فلسطین کی آئندہ حکومت کے وزیر اعظم سمیت نو وزیر اسلامی
تنظیم حماس کے ہونگے
فتح پارٹی
کے چھ وزیر اور دیگر پارٹیوں کے 4 اور پانچ وزراء آزاد اراکین پر
مشتمل ہونگے البتہ اہم وزارتوں پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے
فلسطینی
صدر محمود عباس کے ترجمان کے مطابق مذاکرات صحیح سمت میں چل رہے ہیں
فلسطینی
نائب وزیر اعظم کے مطابق حماس اور فتح تنظیم کے مذاکرت کے دوران
آئندہ وزیر اعظم کے نام ، وزارتوں کی تعداد اور ہر پارٹی کے حصے میں
آنے والی وزارتوں کے بارے میں اتفاق رائے ہوگیا ہے |