|
انکار کردیا ہے
سروے کرنے والی یونیورسٹی کے اہلکاروں نے
اٹھارہ سو سے زائد خاندانوں سے اس بارے جانچ پڑتال کی ہے
سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے مذکورہ سروے کرتے
ہوئے اس بات کا دھیان رکھا گیا تھا کہ کسی ایسے علاقے میں سروے نہ
کیا جائے جو بظاہر سروے کےلیئے مخصوس کیا گیا ہو بلکہ سروے بغیر کسی
شہر یا دیہات کو مخصوص کیئے گئے بغیر کیا گیا
سروے کے مطابق عراق میں جنگ سے قبل اتنی اموات
نہیں ہوئیں جتنی عراق جنگ کے بعد ہوئی ہیں
عراق میں کیئے گئے اس سروے کے مطابق عراق جنگ
کے بعد ہلاکتوں کو تناسب اسی فیصد بڑھ بڑھ گیا
جبکہ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ سروے کی رپورٹ
کے مطابق جو ہلاکتیں ہوئی ہیں وہ درست نہیں ہیں
تاہم رپورٹ پر دیگر حلقوں نے تبصرہ کرتے ہوئے
اسے حقیقت پسند تجزیہ قرار دیا ہے
تاہم اگر عراق جنگ کے بعد انسانی حقوق کی
تنظیموں ، ہیومن رائٹ واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں اور
عراقی حکومت اور غیر جانبدار میڈیا کی رپورٹوں کو مشد نظر رکھا جائے
تو عراق جنگ کے دوران ہی ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد ہلاک اور ہزاروں
زخمی ہوئے تھے
واضع رہے اس سے قبل بھی ایسے سروے یا تحقیقات
کی گئیں تھیں جنہیں امریکہ نے ہر بار مسترد کیا ہے
آزاد میڈیا اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ
عراق میں ہر پندرہ منٹ بعد ایک خود حملہ یا جھڑپ ، یا اغوا کی واردات
ہوتی ہے جبکہ کچھ مصنفین نے لکھا ہے کہ عراق میں ایک گھنٹے میں کم از
کم آٹھ جان لیوا حملے ہوتے ہیں
خیال رہے اس سے قبل عراق میں امریکی فوجیوں کی
ہلاکت کے بارے میں تحقیقی رپورٹیں یا اندازے یا آزاد میڈیا کی
رپورٹیں سامنے آتی رہی ہیں جس میں عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی
فوجیوں کی تعداد کئی ہزار بتائی گئی تھی تاہم امریکہ نے ایسی تمام
رپورٹوں کو مسترد کردیا تھا اور امریکی انتظامیہ کے مطابق عراق میں
ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد دو ہزار سات سو اور کچھ بنتی
ہے
تاہم ایک جرمن چینل کی رپورٹ کے مطابق جرمنی
میں امریکی فوجی بیس کے ہسپتال میں ہرروز شدید اور کم شدید بیس سے
پچاس فوجیوں کو لایا جاتا ہے جن میں سے انتہائی شدید حالت میں زخمی
ہونے والے فوجیوں کو امریکہ بھیج دیا جاتا ہے
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ
اور فوج امریکہ جانے والے ایسے شدید زخمی اور ہلاک شدگان فوجیوں کی
تصاویر نہیں اتارنے دیتے اور نہ ہی میڈیا کو اس ائر پورٹ کے قریب
جانے دیا جاتا ہے جہاں زخمی اور ہلاک شدگان کو لے کر جانے والے جہاز
اترتے ہیں |