Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 17 April 2006 11:24 (PST)اشاعت

بھارت میں جرائم کی دنیا کا بادشاہ ، ابو سالم

منصور مہدی

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

ابو سالم ایک جفا کش نوجوان جو بعد ازاں جرائم کی دنیا کا بادشاہ بن گیا

انڈر ورلڈ کا ڈان ابو سالم بھی دیگر نوجوانوں کی طرح اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہوا مگر اسے کوئی ملازمت نہ ملی تو اس نے آبائی قصبے کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور دہلی چلا آیا جہاں پر اس نے ٹیکسی ڈارئیور کے طور پر اپنی عملی

ابو سالم کے بارے میں دوسری قسط پڑھنے کےلیئے کلک کریں

زندگی کا آغاز کیا مگر وہ اس سروس سے مطمئین نہیں تھاکیونکہ اس میں تو اس کا گزارا بھی مشکل سے ہوتا تھا جبکہ وہ اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کیلئے زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا چاہتا تھا

ابو سالم کوئی عام نوجوان نہیں تھا بلکہ وہ کھٹن راہوں پر چل کر اپنی منزل تلاش کرنے کا عادی تھا چنانچہ اس نے ممبئی جانے کا ارادہ کر لیا اور ایک دن دہلی کو بھی خیر باد کہہ دیا

80ءکی دہائی کے وسط میں ابوسالم ممبئی چلا آیا اور ایک ٹیلی فون بوتھ چلانے لگا

یہاں پر اس کی ملاقات اپنے چچا زاد بھائی اختر انصاری سے ہوئی جو جرائم کی دنیا سے وابستہ تھا اور سید ٹوپی کا داہنا ہاتھ مانا جاتا تھا

چنانچہ اس نے بھی دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے جرائم کرنے شروع کر دیے ۔یہاں وہ ان کے ساتھ مل کر زمین اور جائیداد کے جھگڑے نمٹانے لگے لیکن وہاں انہی دنوں اپنی کالج جانے والی ایک محبوبہ کے اغواءکے الزام میں پکڑا گیا جس کے بعد وہ اندھیری سے سانتا کروز آگیا جہاں پرانہوں نے ایک ٹریول ایجنسی میں کام کیا

پھر اس کے تعلقات میں اضافہ ہو تاگیا اور ایک دن اس کی ملاقات داﺅد ابراہیم کے چھوٹے بھائی انیس ابراہیم سے ہوئی جو بعد میں اچھے تعلقات بن گئے اورروزانہ ابو سالم اس سے ملنے جلنے لگا

جلد ہی ابو سالم داﺅد ابراہیم کے گینگ میں شامل ہو گیا اور اس کیلئے بندوق اٹھا لی ابوسالم کی ذمہ داری گینگ کے نشانہ بازوں کیلئے شہر میں مختلف مقامات پر اسلحے کی ترسیل تھی۔مگر اپنی بہادری اور خصوصیات کی بنا پر جلد ہی اس نے اس گروہ میں اپنا مقام بنا لیا اور اسے ترقی مل گئی چنانچہ اس نے اپنے باس کیلئے کاروباری لوگوں اور بالی وڈ کی شخصیات سے بھتہ وصول کرنا شروع کر دیا

ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کرنے والا یہ نوجوان جلد ہی ممبئی کا ایک بڑا غنڈہ بن گیا جس سے ممبئی کے بڑے بڑے تاجر ، صنعت کار ، بالی وڈ کے اداکار اور فلمسازڈرنے لگے اور اس کو منہ مانگا بھتہ دینے لگے

ابو سالم پر بھارتی حکومت نے جو الزامات لگائے ہیں ان میں متعدد معروف شخصیتوں کا قتل ،اغوا ، اغوا برائے تاوان جیسے سنگین الزام ہیں جبکہ 1993میں ممبئی میں ہونے والے دھماکوں میں حصہ لینے کا بھی الزام ہے جس میں تقریباً 250سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے

ابو سالم داﺅد ابراہیم کے گروہ میں کافی عرصہ تک مختلف نوعیت کے کام کرتا رہا مگر اس کی طبیعت میں اکھڑ پن کی وجہ سے بعد میں اس کا داﺅد ابراہیم سے اختلاف ہو گیا جبکہ فلم ساز گلشن کمار کے قتل کے بعد ابوسالم اور داﺅد ابراہیم میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے اور یہ داﺅد ابراہیم کے گروہ سے علیحدہ ہو گیاجبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گلشن کمار کاقتل ابوسالم نے اپنی مرضی سے کیا تھا جس میں داﺅد ابراہیم کی مرضی شامل نہیں تھی چنانچہ داﺅد ابراہیم نے ابوسالم کو اپنے گروہ سے نکال دیا مگر اس دوران ابوسالم کا نام بھی شہرت پکڑ چکا تھا چنانچہ اس نے اپنا گروہ بنا لیا اور مجرمانہ سرگرمیوں کو جاری رکھا

جب ممبئی دھماکوں میں اس کا نام آیا اور بھارتی پولیس اور خفیہ ایجنسیاں اس کے پیچھے پڑ گئیں تو ابوسالم اپنی محبوبہ فلمی اداکار مونیکا بیدی کے ساتھ جعلی کاغذات بنوا کر بپرتگال فرار ہو گیا اور پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں رہائش اختیار کر لی۔جس کا بعد میں بھارتی حکومت کو پتہ چل گیا چنانچہ بھارت کی سی بی آئی نے حکومت کے ایما پر پرتگال کی حکومت سے ابوسالم کی حوالگی کیلئے درخواست دی

کئی سال تک اس درخواست کی سماعت عدالت میں ہوتی رہی آخر کار پرتگال حکومت نے کچھ شرائط پر ابوسالم اور اس کی محبوبہ مونیکا بیدی کو بھارتی حکومت کے حوالے کر دیاجنہیں سی بی آئی ایک چارٹر طیارے کے ذریعے 10نومبر2005کوہندوستان لے لائی

مافیا ڈان ابو سالم جس کا نام عبدالسالم انصاری ہے اور اس کا تعلق ہندوستان کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک قصبے سرائے میر نامی سے ہے جو اعظم گڑھ سے تقریباً 25کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے

ابو سالم کو لزبن سے ہندوستان لانے کی خبر ان کے آبائی قصبے تک پہنچتے ہی سارے قصبے کے لوگوںنے خاموشی اختیار کر لی

سرائے میر کے باشندوں نے 1984کے بعد ابو سالم کو اس علاقے میں نہیں دیکھا تھا اور جن لوگوں کے ذہن میں اس کی چند یادیں بچی ہیں وہ ابو سالم کواب یاد نہیں کرنا چاہتے

مقامی باشندے ذاتی طور پر ابو سالم سے ناراض تو نظر آئے لیکن گذشتہ برسوں میں جس طرح میڈیا نے ابو سالم کے بارے میں لکھا ہے اس سے وہ میڈیا سے بھی ناراض ہیں

مقامی باشندوں نے صاف طور پر میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے اور سرائے میر کا کوئی بھی شخص کچھ بھی کہنے کیلئے تیار نہیں ہے

اس بات کا اندازہ ابو سالم کے 16سالہ بھتیجے محمد عارف انصاری کے بیان سے صاف طور پر لگایا جاسکتا ہے ۔جب بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا کے کچھ افرادنے ان سے ابوسالم کے بارے میں سوالات کیے تو محمدعارف انصاری کا کہنا تھا کہ آپ لوگ ہم سے کیوں بات کرنا چاہتے ہیں جبکہ آپ لوگ تو و ہی کچھ لکھیں گے جو آپ چاہتے ہیں

محمدعارف انصاری نے یہ بتانے سے صاف انکار کردیا کہ ان کے والد یعنی ابوسالم کے بڑے بھائی اور اسکی دادی یعنی ابو سالم کی والدہ اس وقت کہاں ہیں

حالانکہ ان کے گھر کے صحن میں عورتوں اور بچوں کے کپڑے دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ گھر میں کون کون ہو سکتا ہے

محمد عارف انصاری نے بمشکل صرف اتنا بتایا کہ اس کی دادی خبر سننے کے بعد کافی غمگین ہو گئی ہیں

اس نے کہا کہ آپ لوگ سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہے چاہے ابوسالم بھلے ایک انٹر نیشنل کریمنل ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ ان کی اولاد ہے

محمد عارف انصاری نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا کہ جس میں کہا جا رہا تھا کہ سرائے میر صرف ابو سالم کے رحم و کرم پر ہے

عارف انصاری کا کہنا تھا کہ یہاں زندگی اپنے آپ میں ہی بہت کچھ ہے

ابو سالم کے ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ جو لوگ ابو سالم کو نزدیک سے جانتے ہیں ان کیلئے میڈیا میں آنے والی باتوں پر یقین کرنا بے حد مشکل ہے

ان کا کہنا تھا کہ ممبئی جانے سے پہلے وہ بھی عام بچوں کی طرح تھا وہ ایک بااخلاق اور مزاحیہ طبیعت کا شخص تھا

ابوسالم کے ایک اور پڑوسی نے بتایا کہ ابو سالم اپنے چچا کی دکان پر کام شروع کرنے سے قبل چند برسوں کیلئے سکول جاتا رہا

تاہم اس کے علاوہ اس نے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی

مقامی باشندوں کے مطابق ابو سالم جب سرائے میر میں تھا تو اس دوران وہ کبھی بھی کسی قسم کی سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہا

ابوسالم کے ایک اور پڑوسی کے مطابق ممبئی پہنچنے کے بعد جب وہ داؤد ابراہیم کے گینگ میں شوٹر بن گیا اور اس کا نام فلم ساز گلشن کمار کے قتل میں سامنے آیا تواس کے بعد سے ہی اس نے سرائے میر سے اپنے تمام تعلقات ختم کر دیے تھے

( ابو سالم کے بارے میں یہ پہلی قسط تھی )

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات