|
میں کریانہ کی دکان چلاتا تھا
راحیلہ کے دو چھوٹے بھائی
اور ایک بہن سکول میں پڑھتے تھے ان کا گزارہ مشکل سے ہو رہا تھا
اس کے دل میں بھی ڈھیروں
خواہشات تھیں راحیلہ نے جب ایف اے کا امتحان دیا اور رزلٹ آﺅٹ
ہونے میں ابھی دیر تھی تو ٹی وی پر فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کی
شوقین راحیلہ نے ایک دن اخبار میں اداکاری اور ڈانس کی تربیت
دینے والی اکیڈمی کا اشتہار پڑھا تو اس کا بھی فلموں میں کام
کرنے کو جی چاہا
بہن بھائیوں کو اعلی تعلیم
دلوانے اور بوڑھے والدین کا سہارا بننے کیلئے راحیلہ نے اداکارہ
بننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اکیڈمی سے رجوع کیا جہاں پر موجود منیجر
نے راحیلہ کو فلمی دنیا کے بارے میں طلسماتی کہانیاں سنا کر اور
روپے پیسے کی ریل پیل اور عزت ووقار کے بارے میں بتا کر اس کے
شوق کو مزید بڑھکادیا
راحیلہ نے اکیڈیمی میں داخلہ لے
لیا وہاں پر اور لڑکیاں بھی داخل تھیں پہلے
دن جب ڈانس ڈائریکڑ نے اسے رقص کی تربیت دینی شروع کی تو اسے یہ
سب عجیب سا لگا جب ڈانس ڈائریکڑ نے اس کے جسم کے مختلف حصوں کو
تربیت دینے کے بہانے سے چھونے کی کوشش کی توراحیلہ نے اسے تربیت
کا حصہ سمجھااور خاموش رہی
یہ سلسلہ کئی دن تک چلتا رہا
چند دن بعد اکیڈمی میں منیجر کا ملنے والاایک امیرآدمی آیا جسکا
منیجر نے ایک سیٹھ کے طور پر متعارف کرایا اور بتایا کہ یہ اپنی
فلم کیلئے ہیروئن کی تلاش میں ہیں
کچھ ہی دیر کی گفتگو کے
بعد اس نے اپنی نئی فلم کیلئے ہیروئن کے طور پر راحیلہ کا انتخاب
کر لیا اور ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کی آفر کی
فلموں میں اتنی جلدی آنے کی
راحیلہ کو توقع نہ تھی چنانچہ اس آفر پر وہ بہت خوش ہوئی ،اس کا
فوٹو سیشن لیا گیا اور کامیاب قرار دیکر فلم کی ریہرسل کا شیڈول
طے ہو گیا
راحیلہ جب شوٹنگ کی ریہرسل کے
لئے ایک کوٹھی میں گئی تو اسے بتایا گیا کہ یہ کہانی ایک ایسی
لڑکی کی ہے جو گینگ ریپ کا شکار ہو کر اپنا ذہنی توازن کھو
بیٹھتی ہے چنانچہ راحیلہ نے فلمی سین سمجھ کر ریہرسل کرنے کی
حامی بھر لی اسی کے ساتھ اسے یہ بھی
بتایا گیا کہ یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی
ہے جو اپنے والدین کا سہارا بننے کیلئے معاشرے میں نکلتی ہے مگر
ظالم معاشرہ اسے لوٹ لیتا ہے اور وہ اسی غم میں پاگل ہو جاتی ہے
مگر کچھ ہی عرصے بعد جب وہ ہسپتال میں ہوتی ہے تو ایک ہیرو سے
ملاقات ہوتی ہے جو اسے سچی محبت دیتا ہے تو وہ ٹھیک ہوجاتی ہے
راحیلہ کو اس کہانی میں اپنی
کہانی محسوس ہوئی مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ ایسی اکیڈ
میوں میں آنے والی ہر لڑکی کو یہی کہانی سنائی جاتی ہے
اور پہلی ریہرسل پر ہی ریپ سین کی ریہرسل کراوئی جاتی ہے چنانچہ
اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو سینکڑوں لڑکیوں کے ساتھ ہو چکا
تھا
شریف گھرانے کی یہ لڑکی کچھ دیر
بعد اپنی عزت گنوا بیٹھی اور اچھے مستقبل کے شوق میں آنے والی
اپنا مستقبل تاریک کر کے پھر اپنے گھر کے تاریک کونوں میں جا بسی
صوبائی دارالحکومت میں متعدد
جعلساز اور اوباش لوگوں نے ڈانس اور آرٹ کے نام پر ایسی
متعدداکیڈ میاں قائم کی ہوئیں ہیں جہاں
پر روزانہ ایک نئی راحیلہ ان کے چنگل میں پھنس کر اپنی عزت سے
محروم ہو رہی ہے
ان اکیڈ
میوں میں نوسر باز خود کو فلم پروڈیوسر ، ڈانس ڈائیریکڑ ،اور
رائیڑ ڈائیریکڑ،کہہ کر فلموں میں کام کرنے کی شوقین لڑکیوں اور
نو عمر لڑکوں کو اپنے جال میں پھنسا کر انہیں بے راہ روی کی طرف
لگا دیتے ہیں جبکہ بعض افراد ا میر گھرانوں سے تعلق رکھنے والی
لڑکیوں کو ہیروئن بنانے کا جھانسہ دیکر ان سے لاکھوں روپے
بٹور لیتے ہیں مگر وہ فلم کبھی مکمل نہیں ہوتی
بعض لوگوں نے ان اکیڈ
میوںکی آڑ میں لڑکیوں کے بکنگ آفس قائم کیئے ہوئے ہیں
جہاں پر دن کی روشنی میں ان کی تصاویر یا لڑکیوں کو دکھا کر رات
کی بکنگ کی جاتی ہے
یہاں پر بعض ایسے اڈے بھی ہیں
جہاں سے ملک کے دوسرے شہروں بلکہ دوبئی اور دیگر عرب ریاستوں میں
لڑکیوں کی سپلائی ہوتی ہے اور یہاں پر 13 سال سے لیکر 40سال تک
کی لڑکیاں اور عورتیں
مل جاتی ہیں
زیادہ تر آرٹ اکیڈ
میاں دراصل فلموں میں معمولی کام کرنے والے افراد اور
ایکسٹرا لڑکیوں کی سپلائی کرنے والے افراد نے قائم کی ہوئیں ہیں
اگرچہ ان ادارو ں میں فلمی دنیا
کے بعض نامور افراد بھی کام کرتے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں
نمک کے برابر ہے، یہ لوگ اکیڈ
میوں کی آڑ میں نہ صرف شہر بھر میں فحاشی پھیلا رہے ہیں
بلکہ آرٹ کی تعلیم کے نام پر معصوم لڑکیوں کی عزت سے کھیل رہے
ہیں اور فلم انڈسٹری کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں
یہ اکیڈ
میاں رائل پارک، ملتان روڈ اورایورنیو سٹوڈیو کے گرد ونواح میں
خاصی تعداد میں موجود ہیں
وہاں کے رہائشی حبیب الرحمان نے
بتایا کہ یہ ادارے آرٹ کی تعلیم کے نام پر اصل میں فحاشی کے اڈے
ہیں پہلے تو یہ کام چھپ چھپا کر ہوتا تھا مگر اب اکیڈمی کی آڑ
میں دن دیہاڑے لڑکیوں کی بکنگ ہوتی ہے اور دوپہر 2 بجے سے لیکر
رات 3 بجے تک طوفان بدتمیزی مچا رہتا ہے ڈیک پر انچی آواز میں
میوزک نے جینا حرام کیا ہوا ہے یہ لوگ اذان کا بھی احترام نہیں
کرتے ہیں
ایسا ہی کچھ
غلام حیدر نے بتایا کہ اگر ان کو آہستہ آواز میں ڈیک
چلانے کا کہہ دیں تو یہ لڑنے مرنے پر اتر آتے ہیں کچھ عرصہ قبل
کی بات ہے کہ انہی اکیڈ
میوں میں سے ایک اکیڈمی کے کمرے سے ایک لڑکی چیختی چلاتی
باہر نکلی تو پتہ چلا کہ یہ لڑکی بھی فلموں میں کام کرنے کے شوق
میں اس اکیڈمی میں داخل تھی اس سے فیس کے نام پر پانچ ہزار روپے
بھی لیے گئے مگر چند ہی روز کے بعد اسے کچھ سکھانے کی بجائے اس
کی عزت لوٹنے کی کوشش کی گئی
انھوں نے بتایا کہ ان دفتروں
میں زیادہ تر دو نمبر کام ہوتا ہے اور لڑکیوں کی سپلائی کی جاتی
ہے جبکہ یہاں پر لڑکیوں کی سپلائی کا سب سے زیادہ دھندا نواز
نامی شخص کا ہے جو مشہور و معروف دلال ہے اور نہ صرف دیگر شہروں
بلکہ بیرون ملک بھی سپلائی دیتا ہے
محمد اکرم نامی شخص نے بتایا کہ
سرشام ہی یہاں پر تماش بین اکھٹے ہونے شروع ہوجاتے ہیں ان میں
لڑکیاں بک کروانے کے علاوہ شوقین مزاج لوگ
بھی آتے ہیں جو شادی پر فنکشن کروانے کے بہانے لڑکیوں کو دیکھتے
ہیں اور معاوضہ وغیرہ طے کرکے دل پشوری کرتے ہیں
پاکستان فلم پرموشن کونسل کے
چیئرمین سہیل محمود بٹ نے بتایا کہ آرٹ اور ڈانس کے نام پر شہر
بھر میں اکیڈ میوں کا فلم انڈسٹری سے
کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہے یہ سب فراڈ ہے
انھوں نے کہا کہ یہ لوگ آرٹ کے
نام پر فلم انڈسٹری کو بدنام کر رہے ہیں اور ان کا خاتمہ ہونا
ضروری ہے کیونکہ یہاں پر فلم میں کام دلوانے کا جھانسہ دیکر نہ
صرف لوگوں کا لوٹا جاتاہے بلکہ لڑکیوں کی عزت سے بھی کھیلا جاتا
ہے
انھوں نے کہا کہ ان جعلی اداروں
سے فلمی اداکاری کی تربیت لینے والی کوئی بھی لڑکی صائمہ ، ریما
یا میرا نہیں بن سکی اور ان اداروں کو چلانے والے خود بھی فلم
انڈسٹری کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں
سہیل کا کہنا
تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے اداروں پر کڑی
نگاہ رکھیں اور جرائم کی ان نرسریوں کو پروان چڑھنے سے
پہلے ہی ختم کر دیا جائے
|