|
کر دیے تھے ۔سرائے میر
ایک سکول ٹیچر کے مطابق
ابوسالم کا آبائی ضلع اعظم گڑھ کسی زمانے میں کیفی اعظمی
، شبلی نعمانی اور ایودیا سنگھ اوپادھیائے جیسے ادیبوں کے نام سے
جانا جاتا تھا مگر آج وہی اعظم گڑھ ممبئی ، دوبئی ، ملایشیاءاور
سنگا پور کو مافیا ڈان اور شوٹر فراہم کر رہا ہے ۔پورے قصبے پر
اگر نظر ڈالیں تو ہر دوسرا مکان آسمان کو چھو رہا تھا تقریبا ًہر
دوسرے گھر کا ایک کوئی نہ کوئی فرد عرب ممالک یا جنوب مشرقی
ایشیاءکے ممالک میں کام کر رہا ہے اور اس بات کا اندازہ اس چھوٹے
سے قصبے میں ساٹھ سے زیادہ ٹیلی فون بوتھوں کی موجودگی سے لگایا
جا سکتا ہے
مقامی باشندوں کے مطابق
مسلمانوں کی اکثریت والے اس علاقے کو سبھی بھارتی حکومتوں نے نظر
انداز کیا ہے ، اس لئے یہاں کے لوگ
نوکریوں کی تلاش میں پہلے ممبئی کا رخ کرتے ہیں اور پھر وہاں
سے عرب ممالک چلے جاتے ہیں ۔11نومبر 2005بروزجمعہ کو
عدالت میں پیش کیا جانے ولا ابو سالم بھارتی انڈر ورلڈ کا سب سے
خوفناک کردار ہے
بھارتی پولیس نے ابو سالم عرف
عبدلاسالم انصاری پر الزام لگایا ہے کہ وہ 1993کے ممبئی بم
دھماکوں میں ملوث ہے جن میں 250سے زیادہ لوگ ہلاک اور ایک ہزار
سے زیادہ زخمی ہوئے تھے ۔جبکہ تفتیشی اہلکاروں کو ابو سالم سے
ساٹھ سے زیادہ قتل کی وارداتوں میں بھی پوچھ گیچھ کرنی ہے اس کے
علاوہ اس پر بہت سے اغواءاور تاوان کے مقدمات بھی درج ہیں جن کے
متاثرین میں بالی وڈ کچھ اداکار اور فلمساز بھی شامل ہیں۔ابوسالم
1993کے دھماکوں کے بعد اپنی ساتھی مونیکا بیدی کے ساتھ ملک سے
فرار ہو گیا تھا
یہ دونوں
پرتگال چلے گئے اور اس کے دارا لحکومت لزبن میں بارہ سال
تک تارکین وطن بھارتی لوگوں کے ساتھ رہے۔لیکن آخر کار ان کے اچھے
دن بھی ختم ہوئے جب انہیں پرتگالی پولیس نے انٹرپول کی درخواست
پر حراست میں لے لیا ۔اس وقت سے بھارت نے ان کو واپس بھارتی
حکومت کے حوالے کرنے کیلئے دباؤ ڈالا ہوا
تھا
پرتگالی عدالت نے نومبر 2003میں
ابوسالم کو جعلی کاغذات رکھنے کے جرم میں ساڑھے چار سال قید کی
سزا سنائی، جبکہ مونیکا بیدی کو دو سال کی سزا سنائی گئی
پرتگالی حکومت نے بھارتی حکومت
کی اس یقین دہانی کے بعد انہیں سزائے موت نہیں
دی جائیگی ان دونوں کو بھارت کے حوالے کرنے پر رضامندی
ظاہر کی
بھارتی حکومت کے مطابق ابوسالم
بھارت کے سب سے زیادہ مطلوب شخص داؤد
ابراہیم کا قریبی ساتھی تھا
داؤد
ابراہیم بھی ممبئی دھماکوں میں مطلوب ہے ۔ خیال ہے کہ یہ دھماکے
1992میں گجرات کے فسادات کے جواب میں کیے گئے تھے جن میں سینکڑوں
مسلمان ہلاک ہوئے تھے ، ان فسادات کا
الزام ہندو شیو سینا پارٹی پر لگایا جاتا ہے
بھارت کی ایجنسیوں کے مطابق داؤد
ابراہیم اب پاکستان میں ہے اور وہاں سے سب کچھ کنٹرول کر رہا ہے
ابوسالم شروع میں داؤد
ابراہیم کا دوسرے یا تیسرے درجے کا سپاہی تھامگر بالی وڈ کے
پروڈیوسر گلشن کمار کے سنسی خیز قتل کے بعد ابو سالم کا شمار بڑے
نامی گرامی جرائم کرنے والوں میں
ہونے لگا جبکہ چندہی ماہ بعد اس پرایک
اور پروڈیوسر راجیو راج کو زخمی کرنے کا الزام بھی لگا
اب بالی وڈ میں ابو سالم کی
دھاک بیٹھ چکی تھی اورابو سالم ان دو واقعات کو اپنے شکار کو
حراساں کرنے کیلئے استعمال کرنے لگا، اس
کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی وجہ سے اس کی ممبئی
کے ایک اور بدنام گینگ کے ساتھ مخالفت شروع ہو گئی جس کے
سربراہ کا نام چھوٹا شکیل تھا
چھوٹا شکیل بھی جرائم کی دنیا
میں داؤد ابراہیم کے نائب کی حیثیت
اختیار کر چکا تھا ۔
ابوسالم 1998میں داؤد
کے گینگ سے علیحدہ ہو گیا ، 90ءکی دہائی
کے آخری برسوں میں ابوسالم کا بالی وڈ
میں اثرورسوخ بھارتی فلم انڈسٹری میں دیومالائی کہانی کی حیثیت
اختیار کر چکا ہے
پولیس کے مطابق منیشا کوئرالہ
کے سیکریٹری اجیت دیوانی کے قتل میں بھی ابوسالم کا ہاتھ تھا
وہ پروڈیوسروں سے بھتہ لیتا تھا
اور اس نے فلمیں بھی بنانا شروع کر دیں،
اور وہاں پر ہی اس کی ملاقات مونیکا بیدی سے ہوئی اور دونوں نے
ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا
پولیس کا خیال ہے کہ
ابوسالم پروڈیوسروں پر دباؤ ڈالتا تھا کہ
وہ مونیکا کو اس کی ناکام فلموں کے باوجود نئی فلموں میں کاسٹ
کریں
ابوسالم کے ملک سے فرار کے بعد
بالی وڈ کے حالات بہت بدل گئے ہیں
اب عام تاثر ہے کہ شہر کا مافیا اب فلمی صنعت پر اتنا اثر
نہیں رکھتا جتنا پچھلی دو دہائیوں میں رکھتا تھا
11نومبر 2005بروزجمعہ کو دوپہر
کے وقت ابوسالم کو بم دھماکوں کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا
اور عدالت نے 23نومبر تک پولیس ریمانڈ میں دے دیا۔جبکہ ہفتے کے
دن ان کی ساتھی مونیکا بیدی کو عدالت میں پیش کیا گیاجس نے اس کا
ریمانڈ دیتے ہوئے اسکی درخواست ضمانت پر اسے دوبارہ پیش کرنے کو
کہا ہے
ممبئی میں ابوسالم کے خلاف کم
از کم ساٹھ فوجداری مقدمات درج ہیں جس میں بم دھماکوں کے علاوہ
فلم ساز گلشن کمار، مکیش دگل ، مونیشا کوئرالہ کے سیکریٹری اجیت
دیوانی ، ٹھیکیدار پردیپ جین سمیت کئی افراد کے قتل ،ہفتہ وصولی
اور جان سے مارنے کی دھمکی اور فرضی پاسپورٹ کےکیس
ہیں
ممبئی میں سی
بی آئی کے دفتر کے باہر پولیس اور اسپیشل ٹاسک فورس کا زبردست
پہرہ ہے
وزیراعلیٰ کے
دفتر منترالیہ کے سامنے واقع سی بی آئی کے دفتر میں ابوسالم سے
ابھی تفتیش جاری ہے اور پولیس کمشنر اے این رائے کے مطابق ایسے
کئی رازوں سے پردہ اٹھنے کے امکانات ہیں جس سے پولیس ابھی بھی
ناواقف ہے
ابوسالم پر
الزام ہے کہ انہوں نے 1993کے سلسلہ وار بم دھماکوں میں اسلحہ
سپلائی کیا تھا ، 12مارچ1993کو ہونے والے ان بم دھماکوں میں
257افراد ہلاک ہوئے تھے اور1000قریب لوگ زخمی ہوئے جبکہ27کروڑ سے
زیادہ مالیت کا نقصان ہواتھا اوراس مقدمے میں 192ملزمان کے خلاف
چارج شیٹ داخل ہوئی جس کا اہم ملزم داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن
کو بتایا گیا تھا
20ستمبر2002میں
ابوسالم کو انٹر پول کی مدد سے پرتگال کے شہر لزبن میں ان کی
ساتھی مونیکا بیدی کے ساتھ فرضی پاسپورٹ کے ذریعے شہر میں داخل
ہونے کے جرم میں گرفتارکیا تھا
ابو سالم کی گرفتاری کے بعد سے
سی بی آئی نے پرتگال حکومت سے حوالگی کا مطالبہ شروع کیا تھالیکن
اس میں اسے کامیابی فروری2004میں ہوئی جب عدالت نے سی بی آئی کو
اپنا کیس پیش کرنے کیلئے کہا اور دستاویزات کی جانچ کے بعد عدالت
نے اس شرط پر دونوں ملزمان کو بھارت کے حوالے کیا کہ وہ انہیں
پھانسی کی سزا نہیں دے سکتے اور نہ ہی انہیں25سال سے زیادہ قید
میں رکھ سکتے ہیں
واضع رہے کہ یورپی ممالک میں
موت کی سزا پر پابندی ہے
پولیس کے
مطابق گلشن کمار کا قتل ابو سالم نے داؤد
ابراہیم سے پوچھے بغیر کیا تھا جس پر داؤد
ابراہیم نے اسے اپنے گینگ سے باہر نکال دیا اس کے بعد ابوسالم نے
اپنا اڈا بنالیا اس کے بعد سے فلمی دنیا پر اس
نے اپنا شکنجہ کسنا شروع کر دیا
ابوسالم کے
بارے میں سی بی آئی اور ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بھیس بدلنے
میں ماہر ہے
انکے پاس8سے
زائد فرضی پاسپورٹ ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے
تھے
فلم ساز مکیش
دگل پروگرام کرنے کیلئے اپنے ساتھ مونیکا بیدی کو دوبئی لے گئے
اور اطلاعات کے مطابق اسی دوران ابوسالم اور مونیکا میں پیار ہو
گیا
ابوسالم نے اس
لئے کئی فلم سازوں کو مبینہ طور پر دھمکا کر مونیکا کو فلموں میں
کام دلانا شروع کیا
پولیس ریکارڈ
کے مطابق بعد میں ابوسالم نے کسی وجہ سے مکیش کا قتل کروایا
ممبئی پولیس کمشنر اے این رائے نے ابوسالم کی گرفتاری کو ایک بڑی
کامیابی بتلایا
( ابو سالم کے بارے یہ دوسری قسط تھی ) |