|
اس کے لئے برصغیر میں اس زبان کے پرستاروں کو اُن کا
شکر گزار ہونا چاہئے
پروفیسر وارثی نے حال ہی میں لسانیات اور ذرائع
ابلاغ کے تناظر میں ”اردو کی عالم کاری“ کے اچھوتے عنوان سے امریکی
سینٹر میں جو مختصر لیکن معلومات افزا مقالہ نذر سامعین کیا تھا اس
سے بھی یہ تاثر ملتا تھا کہ وہ ایک ارتقاءپذیر زبان کے طور پر اردو
کے ایک بڑی اچھے شناور ہیں
انہوں نے زیربحث موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے غلط
نہیں کہا کہ امریکہ میں اکادمی اور سیاسی سطحوں پر اس وقت اردو کی جو پذیرائی دیکھنے
میں آرہی ہے وہ نائین الیون کے بعدنظریہ ضرورت کےتحتعالماسلام سے
متعلق نئی امریکی پالیسیوں کا ایک فطری جزہے
اردو کی عالم کاری کا
بعینہ یہی عمل اس وقت برطانیہ میں بھی اسی طور سے مشاہدہ میں آرہا ہے
اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی اردو کی ترویج وترقی کی منصوبہ بندی کے
پیچھے جو مصلحتیں کارفرما ہوسکتی ہیں وہان مصالح سے قطعاً
مختلف نہیں ہوسکتیں جو اس سلسلے میں امریکہ سے منسوب کی جارہی ہیں
لیکن نائین الیون ہو یا سیون سیوناگراندلدوز حوادث کی بدولت بین
الاقوامی پیمانہ پر اردو کوکچھ
فیض
پہنچنے کے آثار ہویدا ہیں تو اس عمل
کے گردبلاوجہپُراسراریت کا ایک فرضی ہالہ طاری کرکے اردو داں طبقہ کے
اجتماعی شعور کو انتباہی گھنٹیاں بجانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
اسی طرح موجودہ حالات میں اردو کی ’عالم کاری‘ کی اصطلاح کو بھی بہت
زیادہ تشکیک کی نگاہ سے دیکھنا کوئی دانشمندی نہیں ہوگی کیونکہ خواہ
ایک محدود معنوں میں ہی سہی، مغربی دنیا میں اس دور افتادہ مشرقی
زباں کی درس وتدریس کے دائرہ کا پھیلاو اس کی عالم کاری کے ہی مترادف
ہے
مرحلہ پر ہوا ہے جب کہ وہ اپنے ہی وطن میں اردو
غیرمعلی بن کر جہالت کے لال قلعہ میںمحصور ہو چکی ہے
اس قلعہ کے
اپنے ’غالب‘، ’ذوق‘ اور ’مومنین‘ ہیں جواردو کے تن نیم مردہ کو ایک
سے دوسرے ’دیوان خاص‘ میں اس امید پر گھسیٹتے پھرتے ہیں کہ شاید کسی
درودیوار سے کوئی بہادرشاہ ظفر نکل کر انہیں خلعت فاخرہ اور اشرفیوں
کی تھیلی سے نواز دے
غلط بخشیوں کی خوگر اس جمعی الجہلا میں گوناگوں
قسم کے عناصر شامل ہیں
مثلاً آپ کو یہاں ایسے ناخواندہ ’ایڈیٹر‘
ملیں گے جو کسی مجہول الحال اردو اکیڈمی سے ’ایوارڈ‘ پانے کے بعد
اپنے اس ’اعجاز‘ (یعنی اعزاز) کی خبر کو بھی اپنے اخبار میں ٹھیک طور
سے نہیں چھاپ سکتے
اسی محفل میں آپ کو وہ نیم خواندہ ’ماہرین تعلیم‘
بھی دکھائی دیں گے جو non-descript اسکولوں میں بچے پڑھاتے ہیں۔ یہی
بزم بدقماش پروفیسران کے گھراشیائے صرف ڈھونے والے ان’ دکتوران
ادب‘ سے بھی بھری پڑی ہے جو آج بھی ’اپنے تحقیقی مقالات‘ کی شکل میں
اپنی پیٹھ پر کئی گدھوں کا بوجھ اٹھائے کھڑے ہیں اور جیساکہ علامہ
اقبال مرحوم ومغفور بھی فرما گئے ہیں
وجود زن سے ہے تصویر کائنات
میں رنگ۔لہٰذا آپ کو اس سرمست دنیا میں بڑی قبول صورت لیکن اتنی ہی
ناقبول سیرت ’شاعرات‘ اور ’ادیبائیں‘ بھی اپنے اپنے میر منشیوں کے
ساتھ خیمہ زن دکھائی دیں گی
لیکن اگر اردو کو صحیح معنوں میں عالم
کاری کے ثمرات سے ہمکنار کرنا ہے تو لندن اور واشنگٹن میں اس
عملکوآگےبڑھانے کےذمہدارلوگوں کو معروف براڈکاسٹر اور طنزنگار برادرم معین اعجاز کی
اصطلاحمیں نوسربازوں کےاسبیوپار منڈل“ سے خود کو ایک محفوظ فاصلہ پر
رکھنا ہوگا کہ یہ اردو کے علاوہ خودان کے لئے بھی مفیدہوگا
|