Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 04 August 2006 22:16 (PST)اشاعت

بمباری میں ہلاک ہونے والے بچوں کےلیئے چار گھنٹے

امجد علی طاہر

اردو سروس نیٹ

ہلاک ہونے والے بچوں کےلیئے آزاد میڈیا کے چار گھنٹے

لبنان پر حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیلی کے دو فوجیوں کو اغوا اور دو کو ہلاک کردیا

اسرائیل نے اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت اور دو کے اغوا پر کوئی مذاکرات نہیں کیئے اور نہ ہی

لبنانی حکومت کو کہا گیا کہ وہ حزب اللہ سے جواب طلبی کرے

اسرائیل نے اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت اور دو کے اغوا ہونے کے واقع کو اقوام متحدہ میں بھی نہیں اٹھایا

تاہم اسرائیل نے عربوں میں ایک طاقتور ملک  ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ سے بڑھ کر یکطرفہ فیصلہ کیا اور لبنان پر بمباری شروع کردی

اسرائیل نے لبنان کے شہری علاقوں میں جس قدر تیزی اور شدت سے بمباری کی اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کا تناسب ابھرا اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا تھا کہ اسرائیل لبنان پر حملہ کرنے کا پلان بہت پہلے ترتیب دے چکا تھا

اسرائیل نے اوسطاَ ایک دن میں تیس سے پینتیس شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنایا اور انہیں ہلاک کیا

اسرائیل کی برائے راست  بمباری میں اب تک نو لبنانی فوجی ، چار حزب اللہ کے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار کے قریب عام شہری ہلاک ہوئے جن میں کم از کم چھ سو بچے شامل ہیں

تاہم بیروت اور دیگر علاقوں کی بڑی عمارتوں کے ملبے تلے بھی سینکڑوں ہلاک شدگان کی لاشیں پڑی ہیں

ادھر حزب اللہ اسرائیلی علاقوں میں اب تک دوہزار کے قریب راکٹ داغ چکی ہے جس میں اسرائیلی حکام اور میڈیا کے مطابق تیس اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ آزاد ذرائع اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے

اسرائیلی بمباری سے لبنان میں اب تک اڑھائی ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ اسرائیل کو ہر روز کم ازکم ایک سو بیس ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے

لیکن اس جنگ کی شروعات کرنے والے ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں شائد کرتے رہیں لیکن اسرائیلی بمباری سے  ہلاک ہونے والے چھ سو بچوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھاکہ اسرائیل کا تل ابیب کہاں ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم اور فوج کے جنرل کا نام کیا ہے

ان بچوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ حزب اللہ کے مقاصد کیا ہیں اور حزب اللہ کے نام کا مطلب کیا ہے

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ان بچوں کا قاتل کون ہے ؟

مہذب دنیا ؟ اسرائیل ؟ حزب اللہ ؟ امریکہ ؟ اقوام متحدہ ؟ یااقتدار کی ہوس ؟

لیکن چھ سو ہلاک ہونے والے بچوں کی یہ تعداد تو کہیں زیادہ ہے ’ آزاد میڈیا ‘ نے تو ’ قانا ‘ میں ہلاک ہونے والے  ان سینتیس بچوں کا ماتم چار گھنٹے سے زیادہ نہیں کیا جو خوف کے مارے ایک دوسرے کے ساتھ یہ سوچ کر لپٹ گئے تھے کہ شائد اس طرح ان کی جان بچ جائے گی

’آزاد میڈیا ‘ نے قانا میں ہلاک ہونے والے ان سینتیس بچوں کی تصویریں صرف چار گھنٹوں کےلیئے اپنے ’ آزاد  میڈیا ‘ پر دکھائیں اور اس کے بعد اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کے اعلانات مہذب دنیا کے سامنے آتے رہے

’ آزاد میڈیا ‘ نے چوبیس گھنٹوں کی اس جنگ بندی ( جو جنگ بندی کہلانے کے قابل ہی نہیں ) کو اس وقت تک فوکس کیا جب تک ’ مہذب دنیا ‘ کے ذہنوں سے ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کر جان دینے والے بچوں کا خیال ان کے ذہنوں سے محو نہیں ہو گیا

اسلامی بمباروں کی طرف سے ایک ناکارہ بم کی اطلاع اور افواہ سے مہذب ممالک کے بچوں کو جو صدمہ پہنچتا ہے اسے دور کرنے کےلیئے ہر بچے کو انفرادی طور پر ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر دیا جاتا ہے تاکہ وہ متاثرہ بچے کے ذہن سے خوف کو دور کر سکے لیکن جو ہزاروں اور لاکھوں بچے ہر خبر نامے میں مڑے تڑے بازؤوں اور کٹے پھٹے جسموں والے بچوں کی لاشیں دیکھتے ہیں ان کے بارے میں ’ آّزاد میڈیا ‘ چار گھنٹے بعد تمام خبروں کو سمیٹ کر اپنی آزادی کا بھرپور ثبوت دیتا ہے

جنگوں میں ہلاک ہونے والے بچے جنگیں تو نہیں روک سکتے لیکن ’ آزاد میڈیا ‘  کم از کم ہلاک ہونے والے بچوں کو چار گھنٹوں سے زیادہ وقت تو دے ہی سکتا ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات