|
جبکہ امریکہ اور اسرائیل حزب اللہ
کو دہشتگرد کہتے ہیں تو اسرائیلی حملوں کے بعد اس مبینہ دہشتگرد
تنظیم کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جو اسرائیلی حملوں کی
مرہون منت ہے
حزب اللہ کا قیام انیس سو بیاسی میں
عمل میں لایا گیا تاہم حزب اللہ کے قیام سے عرب ممالک خصوصاَ شام نے
خوشی کا اظہار نہیں کیا
لبنانیوں کے علاوہ خود عرب ممالک کی
عوام کو حزب اللہ کے تین اہم امور نے اس کی طرف بھرپور متوجہ کیا جن
میں لبنان سے اسرائیلی فوج مکمل انخلا، ۔ دوسرا دو اسرائیلی جیلوں سے
دو مرتبہ لبنانی بشمول فلسطینی قیدیوں کو رہائی دلوانا
دوبرس قبل سن دو ہزار چار میں حزب
اللہ نے اسرائیل کے چند فوجی یرغمال بنالیئے تھے جن کے بدلے میں حزب
اللہ نے سینکڑوں لبنانی جن میں فلسطینی بھی شامل تھے اسرائیلی جیلوں
سے رہا کروائے
جرمنی کے موجودہ وزیر خارجہ سٹائن
مائیر نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں اہم
کردار ادا کیا تھا
جرمنی کے موجودہ وزیر خارجہ اس وقت
اپنی سیاسی جماعت ایس پی ڈی کے کورڈینیٹر تھے
حزب اللہ نے گزشتہ ماہ کے آغا میں
اسرائیل کے دو فوجیوں کو اغوا اور دو کو ہلاک کردیا تھا یہ وہ وقت
تھا جب دوسری جانب فلسطین کی ایک مزاحمتی تنظیم نے بھی اسرائیل کے دو
فوجیوں کو اغوا کیا ہوا تھا اور ان کے بدلے اسرائیلی جیلوں سے
فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے
حزب اللہ کا اسرائیل کے دو فوجیوں
کو اغوا اور دو کو ہلاک کرنے کا مقصد ممکن ہے اسرائیل کی توجہ فلسطین
کی طرف سے ہٹانا ہو کیونکہ فلسطینیوں کے ہاتھوں دو فوجیوں کے اغوا کے
بعد اسرائیلی فوج نے غزہ اور دیگر کئی مقامات پر زمینی اور فضائی
حملے شروع کر دیئے تھے جس میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں مکانات
تباہ ہوگئے تھے
اسرائیل نے اپنی کارروائی کا اختتام
ان حملوں پر ہی نہیں کیا بلکہ اسرائیلی فوج نے حماس کابینہ کے ساٹھ
ارکان کو بھی گرفتار کر لیا تھا جنہیں اسرائیلی فوج اپنے ساتھ لے گئی
تھی
بارہ جولائی کو اسرائیل نے لبنان پر
فضائی حملوں کا آگاز کیا اور یہ حملے اس قدر شدید اور متواتر تھے کہ
صرف ابدتائی ایک ہفتے میں بیروت اور قرب و جوار کے متعدد شہروں کا
ستر فیصد نظام اور مکانات لبنانی تنصیبات تباہ ہوگئی تھی جبکہ ایک
ہفتے کے دوران تین سو سے زائد لبنانی شہری بھی ہلاک ہوگئے تھے
اسرائیل کو حملوں کا آغاز کیئے آج
ستائیسواں دن ہے جبکہ ان ستائیس دنوں میں لبنان کو اڑھائی ارب ڈالر
کا نقصان ہوچکا ہے اور کم از کم گیارہ سو شہری ہلاک اور پانچ ہزار سے
زائد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ دس لاکھ شہری بے گھر ہوگئے ہیں
اسرائیل کے ستائیس دنوں کے حملوں
میں لبنان تیس سال پیچھے چلا گیا ہے
ادھر اسرائیل نے لبنان کی تیل
ریفائریوں کو بھی تباہ کردیا ہے جس سے ہزارو ٹن تیل سمندر کی نذر ہو
گیا ہے اور کئی تیل کی کئی انچ موٹی تہہ سطع سمندر پر پیدا ہو گئی
تیل کی یہ دبیز تہہ اس وقت دنیا کا
سب سے برا سمندری خطرہ بن گئی ہے جو لبنان کے علاوہ شام ، لیبیا اور
دوسری جانب سیپرس اور ترکی کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی اس
دبیز کو صاف کرنے میں کم از کم ایک سال لگے گا وہ بھی اس سورت میں
اگر لبنان کے پاس وہ جدید اور خصوصی آلات ہوں جن سے سمندر کی سطع سے
تیل کی صفائی کی جاتی ہے
قطر نے لبنان کو سمندر کی سطع سے
تیل کی تہہ کی صفائی کرنے کےلیئے جدید اور مخصوص آلات دینے کا کہا ہے
چونکہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا
یہ موجودہ سلسلہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے دو فوجیوں کو اغوا
اور دو ہلاک کرنے سے چلا ہے اس لیئے یہ جاننا ضروری ہے کہ حزب اللہ
کون ہے اور یہ کس قدر عسکری اور سیاسی جماعت ہے ؟
حزب اللہ کی بنیاد سن انیس سو بیاسی
میں رکھی گئی تھی
حزب اللہ کو اس وقت عروج ملا جب حزب
اللہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل شیخ حسن نصراللہ نے حزب اللہ کمان
سنبھالی
سن دو ہزار میں حزب اللہ نے اسرائیل
کی فوجوں کو مجبور کیا کہ وہ لبنان سے واپس جائیں اس کےلیئے حزب اللہ
نے اسرائیلی فوج پر خود کش حملوں کے علاوہ برائے راست لڑائی بھی کی
تھی
لبنان میں امن فوج کے طور پر امریکی
فوج بھی مقیم تھی جس کیخلاف حزب اللہ نے خود کش حملوں کا آغاز کیا
تھا جس میں سینکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے یہی وجہ ہے امریکہ
موجود جنگ کے بعد امن فوج میں امریکی فوج کو شامل کرنے پر تیار نہیں
ہے اور نہ ہی اسرائیل اس کا تقاضا کررہا ہے
اسرائیلی وزیر اعظم بار بار امن فوج
کےلیئے جرمنی کی فوج کو تعینات کرنے کا تقاضا کر رہے ہیں اور اس
سلسلے میں انہوں نے جرمن حکومت کو بھی اپنی خواہش سے آگاہ کردیا ہے (
تاہم اس کا ذکر آئندہ کسی تحریر میں لایا جائے گا )
حزب اللہ کی کمان حسن نصراللہ کے
ہاتھ میں آنے کے بعد حزب اللہ مزید مضبوط اور منظم ہوئی جبکہ حسن
نصراللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کئی برس ایران میں
گزارے جہاں انہوں نے دینی تعلیم کے علاوہ عسکری ٹریننگ بھی حاصل کی
حزب اللہ آٹھ ہزار موجود عسکری
تربیت یافتہ جنگجووں پر مشتمل ایک مزاحمتی تنظیم ہے جبکہ حزب اللہ کے
مزید کئی ہزار جنگجو وہ ہیں جنہیں ریزور جنگجو کہا جاتا ہے
اسرائیل کے موجودہ حملوں کا جواب
دینے کےلیئے حزب اللہ نے ابھی ان جنگجووں کو شامل نہیں کیا جو ریزور
ہیں
حزب اللہ تنظیم کی عسکری طاقت کی
خاص بات یہ بھی ہے کہ حزب اللہ کے پاس صرف سات سے آٹھ جنگجو
ایسے ہیں جن پر حزب اللہ کی مزاحمت کا دارومدار ہے
مذکورہ سات سے آٹھ سو خصوصی جنگجو
مکمل طور پر گوریلا اور عام فوجیوں کی طرح جنگ لڑنے کی مہارت رکھنے
کے علاوہ جدید اسلحہ استعمال کرنے کی بھی مکمل معلومات رکھتے ہیں
مذکورہ سات سے آٹھ سو خصوصی جنگجووں
کا ہر فرد مشکل اوقات میں انفرادی طور پر ایک جنگی کمانڈر کا کردار
بھی ادا کرتا ہے
حزب اللہ کے اسرائیل پر داغے جانے
والے راکٹوں کے حملوں میں اب تک سو کے قریب اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں
جن میں اکثریت فوجیوں کی ہے تاہم آزاد ذرائع اس کے بر عکس کہہ رہے
آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ
حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی شہریوں کی تعداد سو سے زائد ہے
جبکہ ہزارہا زخمی ہوئے ہیں
ادھر حزب اللہ اور اسرائیلی فوج میں
ہونے والی دو بدو لڑائی میں اب تک درجنوں اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے
ہیں جبکہ اسرائیل کے بڑے اور صنعتی شہر ’ حیفہ ‘ کے علاوہ متعدد
اسرائیلی شہر خالی ہوگئے ہیں
اسرائیل کو اس جنگ میں لبنان جتنا
تو نہیں لیکن کم از کم اس سے تین تہائی جانی اور آدھا مالی نقصان
ضرور ہوا ہے
حزب اللہ نے جنگی مہارت میں متعدد
مہارتوں کو شامل کیا ہوا ہے جس میں ویت نام جنگ میں ویتنامیوں کی
جنگی مہارت جو ویتنامی جنگجو امریکہ کیخلاف جنگلوں میں استعمال کرتے
تھے کے علاوہ سابقہ اسلامی لڑائیوں کا طریقہ کار اور عام فوجی گوریلا
جنگ کو بھی حزب اللہ استعمال میں لاتی ہے
اسرائیل کے لبنان پر موجودہ حملوں
کے بعد حزب اللہ کے جنگجو نہ صرف کسی مخصوص مقام پر جم کر نہیں لڑ
رہے بلکہ انتہائی کم افراد کی تعداد سے بنائی ٹولیوں میں بٹ کر
اسرائیلی فوجیوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے حزب اللہ کے
جنگجووں کی ہلاکتوں کی تعداد انتہائی کم ہے
حزب اللہ کے جنگجو اسرائیل کیخلاف
موجودہ جنگ میں دس سے بیس اور پچیس افراد کے گروپ بنا کر لڑ رہے
جنہیں اسرائیلی فوج پر حملہ کرنے کے بعد انتہائی سرعت کے ساتھ جوابی
حملے سے پہلے غائب ہونے کی سہولت حاصل ہے
دوسری جانب حزب اللہ کے جنگجو
اسرائیلی حملوں سے قبل کئی برس تک گوریلا لڑائی میں مہارت حاصل کرتے
رہے ہیں یہ وہ وقت تھا جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کا
سلسلہ انتہائی کم تھا جس سے حزب اللہ کو عسکری تیاریوں کے وقت مل گیا
تھا
موجودہ لڑائی میں حزب اللہ کی جانب
سے اسرائیل پر جو راکٹ داغے جاتے ہیں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ
یہ راکٹ ایران نے حزب اللہ کو بہت پہلے فراہم کیئے تھے جنہیں چلانے
اور مہارت اور سرعت کے ساتھ دوسرے مقامات پر منتقل کرنے میں حزب اللہ
نے انتہائی مہارت حاصل کرلی تھی حزب
اللہ کی طاقت کا دوسرہ سرچشمہ لبنان کی عوام ہے
حزب اللہ کو لبنانی عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے جس میں موجودہ
جنگ کے درمیان کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے
بارہ جولائی کے اسرائیلی حملوں کے بعد یومیہ ایک ہزار سے زائد خواتین
اور مردوں نے حزب اللہ میں شکرت کرنے کےلیئے حزب اللہ سے رابطے کیئے
ہیں تاہم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ سینکڑوں میں سے صرف چند افراد کو
تنظیم میں شامل کر رہے ہیں کیونکہ گوریلا لڑائی کےلیئے انتہائی
پھرتیلے اور جواں حوصلہ افراد کی ضرورت ہے
اسرائیل کی طرف سے لبنان پر ہونے والے حملوں میں یہ خیال رکھا گیا
تھا کہ لبنان پر کیئے جانے حملوں کو آغاز سے ہی اس قدر شدید ہونا
چاہیئے اور اس قدر تباہی و ہلاکتیں ہونی چاہیئں کہ لبنان کے عوام
خصوصاَ لبنان کی عیسائی آبادی حزب اللہ کیخلاف ہو جائے اور لبنان میں
خانہ جنگی ہو سکے تاہم اسرائیل کا یہ خطرناک پلان مکمل طور پر ناکام
ہوگیا ہے اسرائیل کی زمینی افواج حزب
اللہ کو شکست دینے میں ستائیسویں دن بھی مکمل طور پر ناکام رہی ہیں
جس کی وجہ حزب اللہ کے وہ محفوظ ٹھکانے ہیں جو اس نے امن یا اسرائیل
کے ساتھ کم جھڑپوں والے دنوں میں بنائے تھے
حزب اللہ نے بنت جبیل ، طائر ، اور وادی بقاع کی پہاڑیوں کے سلسلے
میں غاریں ، خندقیں اور سرنگوں کا جال بنایا ہوا ہے جو اسرائیلی پیدل
فوج کےلیئے انتہائی خطرناک ثابت ہوا اور بنت جبیل ، طائر اور اب وادی
بقاع کی پہاڑیوں کے نزدیک ہونے والی شدید جھڑپوں میں درجنوں اسرائیلی
فوجی ہلاک جبکہ کم از کم آٹھ ٹینک ،ایک ہیلی کاپٹر ، دو بلڈوزر ، ایک
فوجی ٹریکٹر اور دو بتکر بند گاڑیاں تباہ ہو چکی ہیں
دوسری جانب لبنان کی اپنی فوج کا یہ حال ہے کہ سینکڑوں افراد کی
ہلاکت کے باوجود لبنانی فوج کہیں نظر نہیں آئی
مجموعی طور پر لبنان کی سلامتی کا بوجھ حزب اللہ نے اٹھا رکھا ہے جسے
اب تباہ کرنا اسرائیل اور امریکہ کے مقاصد میں شامل ہے
حزب اللہ ایک عسکری تنظیم ہی نہیں بلکہ ھزب اللہ ایک سیاسی اور سماجی
تنظیم بھی ہے حزب اللہ دو ارکان
حکومت میں دو وزیر ہیں جبکہ پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے سیاسی ارکان کی
تعداد تیئیس ہے جبکہ حزب اللہ نے پورے لبنان میں چھوٹے لیکن مفت
اسپتالوں کا جال قائم کیا ہوا ہے اور دوسری جانب محلے اور کمیٹی کی
سطع پر حزب اللہ کے ارکان عوامی بھلائی کے کام انجام دیتے ہیں جس سے
عوام کو حکومت کی بنسبت حزب اللہ سے عوامی سہولتیں دستیاب ہیں جو حزب
اللہ کو عوام میں مقبول بنانے کا دوسرا بڑا سبب ہے
تیسری جانب حزب اللہ نے ہزاروں گریب بچوں اور جوانوں کو تعلیم ،
کمپیوٹر اور دیگر مراعات دی ہیں جبکہ حزب اللہ کے اپنے میگزین اور
اخبارات کی اشاعت بھی ہے اور حزب اللہ کا اپنا ’ المنار ‘ کے نام سے
ایک ٹی وی چینل ہے جسے اسرائیل نے حالیہ حملوں میں تباہ کردیا تھا
تاہم المنار نے دوسرے ہی دن اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کردیا تھا
اسرائیلی حملوں کےحزب اللہ کی طرف سے مزاحمت پر عرب ممالک کی
متعدد حکومتیں حزب اللہ سے ناراض ہیں اور اسرائیلی حملوں کا ذمہ دار
امریکہ اور اسرائیل کی طرح متعدد عرب حکومتیں حزب اللہ کو قرار دیتی
ہیں مذکورہ حکومتوں میں سعودی عرب ،
اردن اور مصر کا نام بطور خاص سامنے آیا ہے
الجزیرہ پر دیئے گئے ایک انٹرویو میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ
نے کہا ہے کہ سعودی عرب ، اردن اور مصر اس جنگ میں اسرائیل کا ساتھ
دے رہی ہیں
جبکہ مصر کے صدر حسنی مبارک سے یہ
بیان جو انہوں نے الجمہوریہ کو دیا منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے
کہا کہ مصر اس جنگ میں لبنان کی مدد نہیں کریگا اور اس جنگ میں شامل
نہیں ہوگا
حسنی مبارک کا کہنا تھا کہ اگر مصر
اس جنگ میں شامل ہوا تو وہ تباہ ہو جائے گا کیونکہ اسرائیلی حملے مصر
کی معشیت کو تباہ کر دینگے جبکہ مصر اس وقت ترقی کی راہ پر گامزن ہے
لبنان پر اسرائیلی حملوں سے قبل
ایران اور شام حزب اللہ کی بھرپور حمایت کر رہے تھے اور اب بھی کر
رہے ہیں جبکہ اسرائیل کی حمایت اس کے حملوں سے قبل اور موجودہ حملوں
کے دوران امریکہ ، یورپ اور خود اقوام متحدہ کر رہی ہے جس کے بارے
میں کہا جا رہا ہے کہ یہ تینوں فریق فوری جنگ بندی نہیں چاہتے اور
اسرائیل کو مزید وقت دینا چاہتے ہیں کہ وہ لبنان کو مزید تباہ کر سکے
اس کا ثبوت امریکی وزیر خارجہ کونڈو
لیزا رائس بھی دے چکی ہیں جس میں انہوں نے اسرائیلی حملوں کے بعد
متعدد مرتبہ کہا تھا کہ فوری جنگ بندی مسئلے کا حل نہیں جبکہ اسرائیل
کےلیئے تازہ ترین حمایت کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ یہ ہے کہ جو
امن قرارداد امریکہ اور فرانس نے تیار کی ہے جس پر آج حملوں کے
ستائیسویں دن سلامتی کونسل میں بحث ہو رہی ہے اس میں اسرائیل کو فوری
جنگ بندی کے لیئے نہیں کہا گیا
مجوزہ قرارداد میں اسرائیل کو فوری
طور پر لبنان سے فوجیں نکلانے کا بھی نہیں کہا گیا اور نہ ہی کم از
کم اسرائیل سے جنگ بندی کا ٹائم ٹیبل پوچھا اور لیا گیا ہے
ادھر اقوام متحدہ اسرائیل کے حملوں
کے ستائیس دن گزرنے اور ایک ہزار افراد کی ہلاکت اور لبنان کی ستر
فیصد تباہی کے بعد بھی اسرائیل کی مذمت کرنے سے معذور اور بے بس رہی
ہے جبکہ قانا میں اسرائیلی حملوں میں سینتیس بچے جن میں پندری معذور
تھے کی ہلاکت پر بھی اقوام متحدہ اسرائیل کی مذمت کرنے میں ناکام رہا
ہے
اسی بنا، پر لبنانی حکومت اور حزب
اللہ نے کہا ہے کہ وہ اس قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہیں جس میں صرف
اسرائیل کی حمایت کی گئی ہے
اسرائیلی حملوں کے ستائیسویں دن
یعنی سات اگست کو لبنانی وزیر اعظم فواد سینیورا بیروت میں ہونے والی
عرب وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں اس وقت یہ کہتے ہوئے رو پڑے جب وہ
اسرائیلی حملوں کا ذکر رہے تھے کہ ’ ہم عرب بہت بے بس ہیں ‘ |