Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 20 August 2006 13:22 (PST)اشاعت

مسجد اقصی کو جلائے جانے سے نقصان پہنچا تھا

تحریر ، نذرلاسلام

پاکستان ۔ لاہور

فلسطینی اور اسرائیلی یروشلم کو اپنا اپنا دارالخلافہ بنانا چاہتے ہیں

آغاز تاریخ انسانی میں طاقتور ممالک کمزور ریاستوں پر قبضہ کر کے وہاں کی آبادی کو غلام بنا لیتے ہیں ۔ جو کہ نسل در نسل ان کےلیئے کام کرتے ہیں۔پندرویں صدی عیسوی میں علم وہنر کی ترقی سترویں صدی میں صنعتی انقلاب

  21 اگست Alaqsa day))یوم اقصٰی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن در اصل اس افسوس ناک یاد میں منایا جاتا ہے جس دن  یہودیوں نے قبلہ اوّل بیت المقدس میں مسجد اقصٰی کو جلانے کی ناپاک جسارت کی تھی۔

; 21 اگست1969دنیائے اسلام کا ایسا المناک دن تھا جس دن مسلمانوںکے قبلہ اوّل مسجد اقصیٰ میں تین گھنٹے تک آگ بھڑکتی ر ہی جس سے جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔یہ آگ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک یہودی Denish michel rohan))نے لگائی تھی ۔ محراب میں موجود منبر بھی جل گیا۔یہ منبر بالخصوص سید صلاح الدّین ایوبی فاتح بیت المقدس(فلسطین (کی یاد گارہے۔ سید صلاح الدّین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریباََ16جنگیں لٹریں۔ ہر جنگ کے دوران وہ اس منبر کواپنے ساتھ رکھتے تھے کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں گے۔ اس غاصب یہودی نے اس وقت آرمی کی حمایت میں مسجد اقصٰی پر حملہ کر دیا اور رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے مسجد اقصٰی کو آگ لگادی۔ مزید سازش یہ کی گئی کہ مسجد اقصٰی کے ارد گردکے علاقے میں پانی بھی بند کر دیا گیا۔تاکہ قریبی بستیوں کے لوگ آگ پر قابو نہ پا سکیں۔فلسطین کے مسلمانوں نے بھر پور کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا، اس واقعہ کے بعد جہاں سوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحہ کے لئے بیدار ہوئی وہاں قریب ہی ایک ہفتہ بعد اسلامی ممالک نے نام نہاد (OIC)قائم کر دی۔اس کا پہلا اجلاس سانحہ کے ایک ہفتے کے بعد ”القدس“ میں ہوا اور دوسرا اجلاس 1973ءمیں  پاکستان میں ہوا جس کے بعد امت مسلمہ کے 56اسلامی ممالک کی اس تنظیم نے پھر سے خواب خر گوش کے مزے لینے شروع کر دیئے، اور افغانستان ،عراق اور لبنان میں مسلمانوں کی المناک تباہی کے باوجود ابھی تک اسے کوئی مسلم لیڈر کوئی اسلامی ملک بیدار نہیں کر سکا۔

حالیہ لبنان اسرائیل جنگ میں فتح اگرچہ حزب اللہ کے حق میں آئی ہے۔ جس میں حزب اللہ کے مجاہدین نے اسرائیل کا ناقابل تلافی نقصان کیا۔جس میں اسرائیل کے 200میرکافاہ ٹینکوں کی تباہی ، 343اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور 617زخمی کرنے کے اعداد وشمار ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں مسلمانوں کے جانی و مالی نقصان کے ازالے میں بھی جو مشکلات سامنے نظر آ رہی ہیں وہ یقینا پریشان کن ہیں ۔جبکہ فلسطینی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل آموس یادلن نے کہا ہے کہ ”حزب اللہ کے ساتھ جلد ہی دوسرا معرکہ ہونے والا ہے“۔ اور ظاہر ہے عالمی ایٹمی طاقت امریکہ کی پشت پناہی کے باوجود یہ شکست اتنی آسانی سے تسلیم کرنے والی نہیں۔اس سلسلے میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے فوج کی شکست کے اسباب جاننے کے لئے کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔

فلسطین اور لبنان کی تازہ ترین صورتحال کا ذکر خود ایک موضوع ہے لیکن اس وقت اصل مقصد امت مسلمہ کے غیور مسلمانوں کے سامنے اُن کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی دردناک صورتحال رکھنا اور اس مےں فلسطین کے مسلمانوں کی جدو جہد کا ذکر کرنا ہے۔

اسرائیلیوں کے خلاف تحریک مزاحمت کا باقاعدہ آغاز1921ء میں”البراق“ کے نام سے ہوا، جس کی قیادت شیخ عزّ الدین القسّام شہید نے کی ۔تحریک کا نام ”البراق“ مسجد اقصی کی مغربی دیوار کے قریب اس مقام کی نسبت سے ہے جہاں سے تمام امتوں کے ہادی و راہنما محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براق نامی آسمانی گھوڑے پر سوار ہو کر آسمانوں کا سفر کیا تھا۔ اسی نسبت سے اس تحریک کا نام ”البراق تحریک مزاحمت“ رکھا گیا۔

1948 میں شیخ عبد القادر الحسینی نے القدس کے ارد گرد کے علاقے القسطل سے اپنی جدو جہد کا آغاز کیا اور ایک دستاویزی خط امت مسلمہ کے محور و مرکز عرب ممالک کےلئے بھیجا کہ ہمارے پاس ہتھیار ختم ہو گئے اگر آپ مدد نہیں کرینگے تو صیہونی مسجد اقصی کو شہید کر دیں گے، لےکن امت مسلمہ کی بد قسمتی کہ اس موقع پر اسلامی ممالک بالخصوص عرب ممالک نے اپنے مفادات کے تحفظ اور بقاءکےلئے ”اپنے قبلہ اول“ کی بقا اور تحفظ کودا پر لگا دیا۔ اور ایسی خاموشی کی چپ سادھ لی جیسے زبان خدا نے صرف یورپ والوں کو دی ہو ۔1961میں (PLO)کے احمد شوقیری نے ”الفتح“ کے جہادی گروپ کے نام سے اس تحریک کو منظم کیا، اور اسرائیلیوں کے خلاف بھر پور جدو جہد شروع کر دی۔

8دسمبر1987سے انتفاضہ کی تحریک کا آغاز ہوا ، انتفاضہ در اصل ایک (School of thought)کا نام ہے ، جس کے ذریعے تمام فلسطین کے مسلمانوں کو متحد کر کے ”کنکر“ (پتھر ) سے تحریک مزاحمت کا آغاز کیاگیا۔ یہ پتھر یہودی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں پر بم کی طرح گرتے، غلیلوں سے نشانے لگا لگا کر صیہونی عزائم کے ماتھے کو بڑی حد تک چھلنی کر دیا گیا ۔انتفاضہ کی پہلی تحریک17سال مسلسل چلتی رہی جو 1991میں امن مذاکرات پر منتج ہوئی۔

امن مذاکرات کے نام پر مسلمانوں کو دھوکہ دیا گیا، مسلمانوں کے علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں۔ ان امن مذاکرات کے7سال انتظار کے بعدبالآخر28ستمبر 2000میں انتفاضہ کی دوسری تحریک کا آغاز ہوا جس کو فلسطین کی سب سے بڑی جہادی تنظیم ”حماس“ نے لیڈ کیا، جس میں حماس کے علاوہ الفتح اور الجہاد نے بھی بھر پور مزاحمت کی۔

یہ تحریک اتنی شدید تھی جس میں یہودی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے باقاعدہ بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ رپورٹوںکے مطابق میکڈونلڈ اور KFCوغیرہ کا بڑے پیمانے پر بائیکاٹ دیکھنے میں آیا۔ صرف سعودی عرب مےں بائیکاٹ کا تناسب 80فیصد سے زائد تھا ۔ پیپسی کولا کی فروخت میں صرف نومبر2000کے قلیل عرصے کے اندر صرف مصرمیں 46فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

امریکی کمپنیوں پر بھی اس کے منفی اثرات پڑے جس کے سبب امریکی کمپنیوں کو اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہ ہونے کے اعلانات کرنے پڑے بعض نے تو اپنی مصنوعات کی فروخت کےلئے انتفاضہ کو رقم تک کی پیش کش کی ۔ خود میکڈونلڈ کے ریسٹورنٹ نے تحریک انتفاضہ کے زخمیوں کے علاج معالجے کے لئے اپنے ہر کھانے کے ساتھ ایک سعودی ریال پیش کرنے کی روایت کا آغاز کیا۔ سعودی عرب میں موجود امریکی سفیر نے امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سال2002کے پہلے نصف تک صرف سعودی عرب درآمد کی جانے والی مصنوعات کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ،فروری 2003میں کوکا کولا کمپنی نے اپنے اصل سرمائے سے بھی زیادہ در پیش خسارے کو دیکھ کر مصر کو اپنی کمپنی کی درآمدات فراہم کرنے کا سلسلہ ختم کر دیا۔

اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتے کی بنیاد ظلم اور غاصبانہ تسلط تھا اور فلسطینی عوام عالم عرب اور مسلمانوں کی اکثریت نے سرزمین مقدس سے وابستہ اپنے حقوق سے دستبردار ہونے سے صاف انکار کر دیا، اسرائیلی دشمن کے دامن مےں اس کے لئے کسی خیر اور بھلائی کی کوئی گنجائش نہےں تھی۔ انہوں نے اپنے تمام حقوق کی بازیابی کے لئے جہاد کو واحد راہ نجات قرار دیا۔

فلسطین کے بہادر اور جری نوجوانوں نے قبلہ اول کے تحفظ کی پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری کو اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ ہزاروں جانوں کی قربانی ،معصوم بچوں کی شہادت، عورتوں کی آبرو ریزی اور گھروں کے انہدام کو انہوں نے قبلہ اوّل اور مسجد اقصی کی خاطر قربان کیا۔ لےکن ان کے پائے ثبات مےں لغزش نہ آئی۔

29ستمبر2000ءسے 31جنوری2003ءکے عرصے کے جو اعداد و شمار فلسطینی وزرات صحت نے فراہم کئے اس کے مطابق اس دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 2000سے تجاوز کر گئی ۔ جن میں سے 530کم عمر بچے ہےں۔ زخمی ہونیوالوں کی تعداد 33,637تک پہنچ گئی جبکہ 2003سے 2006تک مزید سینکڑوں فلسطینیوں کو شھید و ذخمی کیا جاچکاہے۔زخمیوں کی حالت زار بھی ایسی کہ 56فیصد زخمیوں کو جسم کے اوپر والے دھڑ یعنی سر ، گردن ، سینہ یا پیٹ پر نشانہ باندھا گیا تھا تاکہ ان کی یقینی موت واقع ہو سکے۔40فیصد زخمیوں کو ایسے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا، جو عالمی جنگی قوانین کی رو سے ممنوعہ ہیں۔ مثلاً جسم میں جا کر پھٹ جانے والی گو لی اور ٹینک پر برسائی جانے والی گولی انسانی جسموں پر استعمال کی گئی ہے۔ زخمی ہونیوالے 40فیصد 18برس سے کم عمر بچے تھے۔ جبکہ اسرائیلی افواج نے فلسطین کے اہم راہنماوں کو قتل کرنے کا سلسلہ بھی جار ی رکھا ۔ جس میں حماس کے اہم رہنما جما ل منصور، جمال سلیم کا قتل پا پولر فرنٹ کے رہنما علی مصطفی کا قتل اس طرح حماس کے امیر اور پوری امت مسلم کے مجاھدین کے قائد، شیخ احمد یا سین اور عبدا لعزیز رینتیسی جن کی شھا دت نا قابل تلا فی نقصان تھا، اورلا کھوں افراد نے جنا زے میں شرکت کر کے اُن کے سا تھ اپنی محبت کا جو ثبوت دیا وہ بھی قابل دید تھا

حماس نے تقریباً 90 کا رروائیوں کو کا میابی سے پا یہ تکمیل تک پہنچا یا ، الا قصی بر گیڈ اور القدس کے دستوں نے بھی بڑھ چڑھ کر فدائی   کا رر وائیوں میں حصہ لیا ۔گذشتہ سال اِن کا رروائیوں میں جہنم رسید ہو نے والے کل اسرائیلیو ں کی تعداد 298 رہی جبکہ 1469اسرا ئیلی فوجی شدید زخمی ہوئے اس میں عام شہریوں کی بھی جا نیں ضا ئع ہو ئیں ۔ لیکن دلچسپ با ت یہ ہے کہ فدائی حملو ں میں وفا ادریس ، اور آ یا ت افرس جیسی بہا در فلسطینی بیٹیوں نے بھی حصہ لیکر سینکڑوں یہو دیوں کو جہنم واصل کر کے حضرت آ سیہ( اسلام کی پہلی شہیدہ جن کو دو اونٹوں سے با ندھ کر اور الگ سمت میں چلا  کر کفا رنے دو ٹکڑ ے کر دیا تھا) کی سنت کو دہرا دیا۔اللہ ان کی شھا دت کو قبول فرمائے امت کی یہ ما ئیں ، بہنیں اور بیٹیا ں یقینا مسلمان عو رتوں کے لئے ایک نمونہ ہیں ۔

6 فروری 2001 کو اسرائیلی وزارتی انتخابات میں یہودیوںنے باراک سے زیادہ انتہا پسند شخصیت ” ایریل شیرون“ کو منتخب کر لیا۔ایریل شیرون نے فلسطینیوں پرظلم و بربریت کے پہا ڑ تو ڑے۔ حماس کے 2 سر برا ہان کی شھا دت ، کے علاوہ فلسطینیوں کی پوری قوم کو قید کرنے کے منصوبے کے تحت بنائی جا نیوالی دیوار بھی ایریل شیرون کا ہی منصوبہ تھا۔

اسرائیل کے اس تمام تر ظلم و تشدد کے جواب میں فلسطینی مسلمان خاموش نہیں بیٹھے ۔نہتے فلسطینی مسلمانوں نے تحریک انتفا ضہ کے ذریعے اسرائیل کے سینے میں گہر ا زخم لگایا خا ص طور پر اسرائیل کی دو اہم بنیا دوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے یعنی امن و امان کی بحالی اور معاشی ترقی ان دونوں میں سونے کا مالک اسرائیل اندرونی طور پر ٹوٹ پھو ٹ کا شکا ر ہے ۔ اسرائیلی جریدے جبر و ظلم پوسٹ کے مطا بق 70فیصد اسرائیلی فوجی فدائی کارروائیوں کے نتیجے میں موت یا زخمی ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں ۔ جب کہ دوسری طرف 80فیصد فلسطینی تحریک انتفا ضہ اورفدائی کارروائیوں کے حق میں ہیں۔اسوقت اسرائیل کومعاشیاوراقتصادی سطح پر شدید بحران کا سا منا ہے ۔حا لا نکہ تحریک انتفا ضہ کے آ غا ز سے قبل اسرائیل معاشی میدان میں غیر معمولی طور پر مستحکم تھا اسرائیلی اعدادو شمار کے مرکزی ادارے کی رپورٹ کے مطا بق 2002میں بیروز گاری کی شرح 10.5فیصد تھی 2003میں یہ شرح 12فیصد تک پہنچ گئی جس کے بعد مسلسل بڑھتی رہی

ایک رپورٹ کے مطا بق اسرائیلی ریاست کو تحریک انتفا ضہ کے پہلے دو سالوں میں پہنچنے والے کل نقصان کی مقدار 18ارب ڈالر ہے ۔ یعنی یو میہ 11ملین ڈالر کے نقصان کا اسرائیل کو سامنا کرنا پڑا ۔جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ لبنان کے ساتھ جنگ میں بھی اسرائیل کو 8ارب ڈالر کے مالی نقصان کا عندیہ ظاہر کیا گیا ہے۔اور اسرائیل کی پسپائی ایک بڑی وجہ مالی نقصان بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ ایک فلسطینی اسکا لرکے مطابق امریکہ فلسطینی مسلمانوں کو کچلنے کے لئے اسرائیل کو 10ارب ڈالر سے زائد کی امریکی امداد بھی دیتا رہا ہے جب کہ اسرائیل میں استعمال کئے جانے والے مو ثر ہتھیار بھی نیو یارک اور شکا گوکے تیا ر کیے ہوئے ہیں۔

فلسطین کے ساتھ معاشی بائیکاٹ اور جنگی صورتحال کے سبب فلسطین کا معاشی خسارہ 15ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔فلسطینی اتھارٹی کے وزیر معیشت ڈاکٹر علاو الدین اعرج کا کہنا ہے کہ معاشی خسارے کا بڑا سبب اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں کی معاشی ناکہ بندی ہے۔جبکہ علاقے میں کراسنگز کو بند کر دیا گیا ہے اور مزدوروں کو ورک پرمٹ دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ایسی صورتحال میں فلسطینیوں کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ اپنے قومی اصولوں اور حقوق سے دستبردار ہو جائیں یا پھر اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کا بھوک اور غربت سے مقابلہ کریں

ایسے میں اگر اسلامی ممالک ایک مہم کی طرح فلسطین کی امداد کریں تو اسرائیل کے اس معاشی قتل کے منصوبے کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے۔میں نے مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس پر یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اس مسئلے پر جب پا کستان میں مقیم ایک فلسطینی اسکا لر (انہوں نے اپنا نام ظا ہر کر نے سے منع کیا ) سے استفسا ر کیا کہ آخراس طویل مسئلے کا اصل سبب کیا ہے تو انہوں نے تاریخی حقائق کے ساتھ اسکی وضا حت یو ں کی ” یہو دیوں کے تبدیل شدہ مذہب کے مطا بق حضرت سلیمان  پیغمبراوربادشاہ جہاں جا تے تھے قیام اور عبادت کے لئے وہاں پر جگہ بنا تے تھے جب وہ فلسطین میں مقیم ہوئے تو انہوں نے یہاں عبادت کےلئےہیکل

سلیمانی “ تعمیر کروایا (اس کے علاوہ دیگر من گھڑت واقعات بھی منسو ب کرتے ہیں)۔ جب کہ بعد میں مسلمانوں نے اسے دو دفعہ گرا کراس کی جگہ مسجد تعمیر کی “۔ یہودیوں کی اس من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کی وضاحت انہوںنے یوں کی ۔ جیا لو جسٹس کی سا لہا سال کی تحقیق کے بعد بھی ابھی تک ایک دلیل یا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا کہ اس مسجد کے نیچے یا اس جگہ پر اس سے قبل کو ئی چیز تھی یعنی ہیکل سلیمانی وغیرہ ۔ مسلمانو ں کی مذہبی آ سمانی کتا ب قرآ ن مجید میں یہ وا ضح لکھا ہے کہ تمام انبیا ءکے سردارمحمد  واقعہ معراج کے مو قع پر مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ آ ئے ۔ ترجمہ ”پاک ہے وہ ذات (اللہ ) جو اپنے بندے (محمد) کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آ س پاس ہم نے برکت رکھ دی ہے (القرآ ن ۔بنی اسرائیل ۔ 1) ۔ یہاں پر تمام انبیا ءحضرت سلیمان  اور حضرت موسیٰ  نے بھی دیگر تمام انبیا ء  کے ساتھ آ پ  کی اقتداءمیں نما ز پڑھی۔ایک تو یہ اس بات کا ثبو ت ہے کہ آ پ  تمام نبیوں کے سردار اور امام ہیں اور دوسرا اسلام دیگر تمام مذاہب کا سردار اور امام ہے اس لحا ظ سے یہو دیت کو اسلا م کے تا بع ہو نا چا ہئے

تیسرا یہ کہ اگر آپ نے یہاں با جماعت نماز اداکروائی اور محراب کی جگہ کھڑے ہو کر امامت کروائی تو محراب صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ یعنی مساجد میں ہوتے ہیں ۔ باقی کسی بھی چرچ ، مندراور خو د یہو دیوں کی عبادت گاہ Synagouge میں کو ئی محراب نہیں ہو تا ۔ اس سے یہ ثا بت ہو تا ہے کہ یہاں ہیکل سلیمانی نہیں بلکہ مسجد اقصٰی ہی تھی اور ہے ۔خو د حضرت سلیمان کی تعلیمات اور مذہب بھی اسلام ہی تھا کیو نکہ” اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین تو اسلام ہی ہے “لہذا دین اسلام کے اندر عباد ت کی جگہ مسجد ہے اور قبلہ اوّل بیت المقدس کی مسجد ”مسجد اقصٰی ہے جس طرح بیت اللہ خانہ کعبہ کی مسجد ، مسجد حرام ہے ۔

فلسطینی اسکا لر نے مذید وضاحت کر تے ہوئے کہا کہ اصل یہو دی جن کو قرآ ن میں ”بنی اسرائیل “ یعنی اولاد یعقوب کہا گیا ہے صرف 20فیصد ہیں باقی 80فیصد غیر یہو دی ہیں اور 20فیصد بھی مسلسل کم ہو رہے ہیں کیونکہ یہودیوں کے غیر یہو دیوں سے شادی کے نتیجے یا دیگر نا جا ئز تعلقات سے پیدا ہونے والی اولاد کو یہو دی مذہب میں یہو دی نہیں سمجھا جا تا اور نہ ہی کو ئی غیر یہو دی یعنی مسلمان ، عیسائی اور ہندو وغیرہ یہودی مذہب اختیار کر سکتا ہے ۔

یہودی اپنے مشن کے مطابق ”مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے اس جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر،مکہ اور مدینہ پر قبضہ، مسلم ممالک میں یہود نواز آمرانہ حکومتوں کا قیام،آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی اجارہ داری،بیت المقدس کو اسرائیل کے تحت کرنے،ملٹی نیشنل کمپنیوں کا جال پوری دنیا میں پھیلانے،عالمی اقتصادیات اور میڈیا پر یہودی قبضے اور افغانستان کے سونے تک رسائی کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔اور چند ایک بڑے اہداف کے علاوہ باقی اہداف حاصل کرنے میں وہ مکمل کامیاب بھی ہے۔

اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں جہاں مسجد اقصیٰ بیت المقدس فلسطین کی آ زادی کے لئے جدو جہد ، جذبہ ، استعا نت اور درد تمام اسلامی ممالک اور اس میں رہنے والے تمام مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے وہاں عالمی استعمار کے خلاف اجتماعی حکمت عملی بھی بہت ضروری ہے۔اس سلسلے میں اسلامی ممالک کے امریکہ نواز حکمرانوں (چند ممالک اس سے مستثنا ہیں ) اور OICپر توقعات اور امیدیں باندھنے کے بجائے دنیابھر کی اسلامی اور جہادی تحریکوں کو اپنا الگ پلیٹ فارم تشکیل دے دینا چاہئے،جس کے ذریعے عالمی سطح پر یہودی مصنوعات کے بائیکاٹ سے لیکر دیگر مہمات کو کامیابی کے ساتھ اسلام دشمن قوتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

ادارے کا کسی تحریر سے اتفاق کرنا ضروری نہیں، آپ بھی اپنی تحریر بھیج سکتے ہیں

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات