|
مثال کے طورپر 1995 میں دنیا
بھر میں ایڈز کے جتنے مریض تھے ان کی تعداد 2005 تک بڑھ کر کم وبیش
دگنی ہوچکی تھی۔ اس وقت ایڈز کے مریضوں کی مجموعی تعداد کا تخمینہ
40ملین سے زیادہ لگایاگیا تھا،جس میں 17.5 ملین خواتین اور 2.3ملین
بچے شامل تھے
علاوہ ازیں صرف 2005 میں ایڈز سے
جاں بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد کسی بھی طرح 3ملین سے کم نہیں
تھی۔ یہ اعداد وشمار ایڈز کی روک تھام کے سلسلے میں کسی بہتر مستقبل
کی امید نہیںجگاتے بلکہ ان کی روشنی میں وثوق کے ساتھ صرف اتنی بات
کہی جاسکتی ہے کہ ایڈز کی وبا کے خلاف عالمی برادری نے اس وقت جو
عالمی محاذ قائم کیا ہوا ہے اس میں کہیں نہ کہیں کوئی بہت بڑا جھول
ضرور موجود ہے
ایڈز کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے
ضروری ہے کہ مریضوں کو اس بیماری کے حوالہ سے اپنی کیفیت کا صحیح طور
سے علم ہونا چاہیے۔ لیکن اس معاملہ میں دستیاب اعداد وشمار بھی صورت
حال کی کوئی قابل رشک تصویر پیش نہیں کرتے کیونکہ آج ہر دس میں سے
ایڈز کا صرف ایک مریض اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ وہ اس مرض کا شکار
ہوچکا ہے
ایڈز کو اکثر وبیشتر ایک موذی مرض
قرار دیا جاتا ہے جو کہ اس میں مبتلا افراد کے لیے صرف ایک بری
ناپسندیدہ اور ناخوشگوار اصطلاح ہوسکتی ہے۔ اس اصطلاح سے بچنا ضروری
ہے، کیونکہ اس سے لاشعوری سطح پر ایڈز زدگان کے خلاف ایک امتیازی
رویوں کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن ہم سب کو اس مرض کے تعلق سے ایک بات
اچھی طرح ذہن نشیں کرلینی چاہیے
ایڈز بنی نوع انسان کا ایک مشترکہ
مسئلہ ہے۔ اس کی تباہ کاریوں سے انسان کو مفرنہیں۔ لہٰذ ا ہمارے
سامنے اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایڈز کے
مریضوں سے اپنی بے جا نفرت کے اظہار سے ہم خود کو اس بیماری کے خلاف
کوئی ڈھال فراہم نہیں کرسکتے۔ لہٰذا من حیثیت مجموعی معاشرہ کے لیے
ضروری ہے کہ وہ اس معاملہ میں اپنی بالغ نظری کا ثبوت دے اور ایڈز
زدگان کو اس سیارہ کی مخلوق سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ انسانوں جیسا
سلوک کرنے کی عادت ڈالے۔ایڈز کے طبی پہلو پر کوئی مستند ڈاکٹر ہی
روشنی ڈال سکتا ہے۔ لیکن میں ایک laymanکے طور پرجستہ جستہ چند باتیں
عرض کرنا چاہوں گا
ایڈز طبی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ
مختلف معاشرتی پہلوئوں سے بھی اپنا عمیق تجزیہ چاہتی ہے۔ ڈاکٹروں کی
برادری کا کہنا ہے کہ یہ مرض اور ہم جنس پرستی کی وبا ایک دوسرے کے
لیے لازم وملزوم ہیں۔ میں یہاں اس سیاق وسباق میں کوئی مولویانہ بحث
چھیڑنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنی بات کہنا چاہوں گا کہ ہمیں انسان
کی جنسی زندگی کے تعلق سے بدلتے ہوئے اخلاقی پیمانوںپر ایک بار
پھرگہری نگاہ ڈالنی ہوگی
ایڈز اور ہم جنس پرستی کا
باہمی تعلق ایک مسلمہ طبی حقیقت ہے لہٰذا ہم جب شخصی آزادی کے نام پر
جنس پرستی کو جائز ٹھہراتے ہیں تو یہ بات ہماری نظروں سے اکثر اوجھل
ہوجاتی ہے کہ ہرآزادی کی کچھ حدود ہوا کرتی ہیں کیونکہ آزادی سیاسی
ہو یا معاشرتی یہ اگر حدود وقیود سے بالکل آزاد ہوجائے تو اس کے
متوالوں کو مکافات عمل کے طور پر قدرت سے کوئی نہ کوئی سزا ضرورمل کر
رہتی ہے۔ مذہبی طبقہ اسے قہر خداوندی کا نام دیتا ہے لیکن سائنس کی
زبان میں یہی چیز علت اور معلول یعنی cause and effect کہلاتی ہے۔
ہندوستان کے متوسط طبقات جنسی بے راہ روی کے معاملہ میں ابھی تک پورے
طور سے مغرب کے مقلد نہیں بن پائے ہیں
لہٰذا ہمیں ایڈز کے معاملہ میں اپنے
رویوں کے حوالہ سے اپنے روایتی معیارات اور پیمانوں کو بلا جواز
مسترد کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ کچھ نئی چیزیں اورتصورات اچھے
ہوسکتے ہیں لیکن تمام اچھی چیزوں اور تصورات کے لیے نیا ہونا ضروری
نہیں ہے۔ بہ الفاظ دیگر اگر ہمارے پرانے اخلاقی معیارات ایڈز کے خلاف
ہمیں کوئی گوشۂ عافیت فراہم کررہے ہیں تو دقیانوس کے وقتوں کے ہونے
کے باوجود معاشرہ کے لیے ان کی افادیت مسلمہ ہے
اس افادیت کو بربنائے تصنع و بناوٹ
مسترد کرنا ایک مہلک غلطی ہوگی۔ایڈز ایک لاعلاج مرض ہے جس سے لڑنے کے
لیے تدبیرعلاج سے بہتر ہے [L: 40]Prevention is better than cure[L:
41] سے بہتر ہمارے لیے کوئی اور حکمت عملی نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا آئندہ
نسلوں کو ایڈز سے محفوظ رکھنا بنی نوع انسان کی حال اور مستقبل کی
اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ اس حوالہ سے بھی دو سوالات
خصوصیت کے ساتھ ذہن میں آتے ہیں۔ ہمارا انسانی معاشرہ بالعموم male
dominated معاشرہ ہے جہاں خواتین کے خلاف ہر قسم کے مظالم روا رکھے
جاتے ہیں
دنیا کا سب سے پرانا پیشہ یعنی جسم
فروشی مشرقی ہی نہیں بلکہ مغربی معاشروں کی بھی انسان کی اسی خواتین
کش جبلت کا نتیجہ ہے چنانچہ ہم جنس پرستی کی طرح جسم فروشی بھی فروغ
ایڈز کی ایک بنیادی وجہ رہی ہے۔ جسم فروشی اور ایڈز کے باہمی تعلق کو
سمجھنے کے لیے شایدصرف تھائی لینڈ جیسے ممالک پر نظر ڈال لینا کافی
ہوگا جہاں جسم فروشی کو ایک کاٹج انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے۔ یاد رہے
کہ تھائی لینڈ اقتصادی اعتبار سے ایک ترقی یافتہ ملک ہے جس کا شمار
مشرق بعید میں اپنی حیرت انگیز اقتصادی ترقی کے باعث ایشین ٹائیگرز
کہلانے والے ممالک میں کیا جاتا ہے
لیکن اس کے برعکس یوگنڈا جیسے
دیگر ایڈز زدہ افریقی ممالک معاشی اعتبار سے دنیا کے پسماندہ ترین
ممالک ہیں۔ مگر ایڈز کے معاملہ میں تھائی لینڈ اور یوگنڈا ایک ہی
کشتی میں سوار معلوم ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہمیں ایڈز کے بارے
میں اس حقیقت کو بھی اپنے ذہن پرنقش کالحجر کرلینا چاہیے کہ ا یڈز کی
بیماری کسی ملک پراس کی اقتصادی حیثیت کو دیکھ کر حملہ آور نہیں
ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایڈز آج ’نارتھ‘ اور’سائوتھ‘ ہر جگہ موجود ہے
لیکن اس کے مقابلہ کے لیے اقوام
مشرق کو مدد دینا صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک کی ایک بڑی
اخلاقی ذمہ داری ہے۔ کیا مغربی دنیا اپنی اس ذمہ داری کو تسلیم کرتی
ہے؟ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اوریورپی ممالک کا عمل اس
معاملہ میں کسی بھی اعتبار سے اس کے بلند بانگ دعوئوں سے ہم آہنگ
قرار نہیں دیا جاسکتا
حقیقت شاید یہ ہے کہ مغربی ذرائع
ابلاغ نے ماضی قریب میں ایڈز کے خلاف اتنی غوغا آرائی کی ہے کہ افرو
ایشیائی ممالک کو اس بات کا خدشہ ہوچلا ہے کہ کہیں یہ سارا عمل ملٹی
نیشنل دو اساز کمپنیوں کی کوئی سازش تو نہیں ہے۔ یہ دوا ساز کمپنیاں
اس وقت بھی ایڈز کے کسی کافی وشافی علاج کی تلاش میں بھی سرگرداں
بتائی جاتی ہیں
تاہم تیسری دنیا کو انہیں شبہ کا
فائدہ دیتے ہوئے یہ امید اور دعا کرنی چاہیے کہ انہیں عنقریب ہی اپنے
مقصد میں کامیابی حاصل ہوگی۔ لیکن اس سلسلے کا یہ سوال پھر بھی موجود
رہے گا کہ بالاآخر علاج دریافت ہوجانے کی صورت میں یہ دوا غریب ممالک
کو کس قیمت پرفروخت کی جائے؟ علاوہ ازیں کیا ان پسماندہ ترین ممالک
کو جن کے شہریوں کو اس وقت مغربی لیبارٹریوں میں تجرباتی خرگوش یاگنی
پک بنایا جارہا ہے، کیا ایڈز کش محلول مفت فراہم کیے جائیں گے؟ شنید
ہے کہ navirapine کی شکل میں کچھ ایسی دوائیں دریافت کرلی گئی ہیں جن
کی مدد سے اس مرض کو بڑی حد تک ایڈز زدہ خواتین کے بچوں تک پھیلنے سے
روکا جاسکتا ہے
بچوں کو یہ مرض دراصل اپنی مریض
مائوں کا دودھ پینے سے لگتاہے۔ لیکن سوازی لینڈ جیسے ملک میں جہاں
40فیصد حاملہ خواتین ایڈز سے متاثر ہیں، یہ مرض جس تیزی کے ساتھ بچوں
میں پھیل رہا ہے، اس کے پیش نظریہ باور کرنا مشکل ہے کہ اقوام مغرب
اس معاملہ میں اپنے غریب مشرقی cousins کے دکھ درد میں برابر کی شریک
ہیں
حالانکہ مغربی دنیا اگر
پسماندہ ممالک کو صرف پوست کے کاشت کے متبادل ذرائع فراہم کردے تو
خود اس کے یہاں بھی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں خاصی کمی واقع
ہوسکتی ہے کیونکہ اس وبا کے پھیلنے کا ایک سبب’سائوتھ‘ میں ’نارتھ‘
سے اسمگل ہوکر آنے والی ہیروئن اور کوکین منشیات کا اندھا دھند
استعمال بھی ہے جو پوست سے تیار کی جاتی ہیں |