|
یہی وجہ ہے کہ رواں صدی کے اوائل میں دو جڑواں عمارتوں کے اس
فلک بوس اور پرشکوہ کمپلیکس کی سفری طیاروں کے ذریعہ تباہی نے دنیا
کی واحد باقی ماندہ عالمی قوت کے طور پر نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے
یورپی حلیفوں کوبھی ایک بڑے سنگین نفسیاتی مسئلہ سے دوچار کردیا ہے
اور اب وہ ذہنی اور زمینی طور سے خود کو ایک نئی سرد جنگ میں مبتلا
پاتے ہیں
امریکہ اور اس کے ہمنواوں کو یقین ہی نہیں بلکہ عین الیقین
ہے کہ ورلڈ سینٹر کا انہدام
اسلامی دہشت گردوں‘ کے ایک بین الاقوامی گروہ کی سوچی سمجھی سازش کا
نتیجہ تھا
اس احساس نے مغربی دنیا کو درپیش مذکورہ سرد جنگ کو(جو
کچھ ایسی سرد بھی نہیں ہے) ایک مذہبی رنگ بھی دے دیا ہے۔ چنانچہ
امریکی صدر جارج بش جونیئر نے تو جو آئین کی رو سے اپنے ملک کی افواج
کے سالار اعلیٰ بھی ہیں، نائین الیون کے سانحہ کے وقوع پذیر ہونے کے
بعد ہی مغربی دنیا کے خلاف مبینہ طور سے سرگرم تمام مسلم ہادیوں کو
ایک جوابی جہاد یا مسیحی لغت کے مطابق ایک بھیانک تر” crusader“ کی
وعید بھی سنادی تھی
اگرچہ ازاں بعد بش بربنائے مصلحت اپنے اس بیان کی
معنویت کے منکر ہوگئے تھے لیکن انہوں نے اس موقع پر ’اسلامی دہشت
گردی‘ کی سرکوبی کے بارے میں جن بے باکانہ عزائم کا اظہار کیا تھا ،
وہ جیسا کہ عراق اور افغانستان کی موجودہ صورت حال سے بھی ظاہر ہوتا
ہے ان کے شعورکی ایک سچی آواز تھے
علاوہ ازیں بش
کامزاجاً crusaderہونا ان کے اس دعویٰ سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ عراق
پہ فوج کشی کے احکامات ان پر براہ راست آسمان سے نازل ہوئے تھے۔ لیکن
منطقی اعتبار سے آسمانی رسل ورسائل کے اس سلسلہ کی زمینی حقیقت شاید
اس سے زیادہ نہیں ہوسکتی کہ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد سے
ہی دنیا کی واحد سپرپاور کی حیثیت سے امریکہ کو عالمی بساط سیاست پر
بے جوڑ پنجہ آزمائی کے لیے ایک نئے ’فطری‘ حریف کی تلاش تھی
روسی
’سد سکندری‘ کی شکست وریخت کے بعد یہ فطری حریف، روس پر اپنی ’فتح‘
کے نشہ سے سرشار اس کا پرانا جہادی حلیف افغانستان اور تیل کی دولت
سے مالا مال عراق ہی ہوسکتے تھے
ادھر
امریکہ کے سیاسی پنڈتوں نے بھی تہذیبی بنیادوں پر یہود و نصاریٰ کے
مابین ایک فیصلہ کن جنگ کی پیشین گوئی کرکے بش انتظامیہ کو اپنے اس
نئے غنیم یعنی غیر مشروط اطاعت شعاری سے گریزاں ہر مسلم ملک کے خلاف
رزم آرا ہونے کا نظریاتی جواز بھی فراہم کردیا ہے
’تہذیبی جنگ‘ کا
نظریہ اصلاً ہارورڈیونیورسٹی میں سیاسیات کےایکپروفیسرسیموئیل فلپس
ہنٹنگ ٹن (Samuel Phillips Huntingtonکےذہن رساکی اختراع ہے، جنہوں نے
سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد Clash of Civilizations کے عنوان سے
امریکہ کے معروف علمی جریدہ Foreign Affairs کے لیے ایک مقالہ تحریر
کیا تھا
بعد میں اسی مقالہ کو Clash of Civilizations and the
Remaking of World Order(تہذیبی جنگ اور عالمی نظام کی تشکیل نو) کے
نام سے کتابی شکل دے دی گئی تھی
مذکورہ کتاب جیسا کہ اس کے نام سے
بھی ظاہر ہے فاتح عالم کی حیثیت سے امریکہ کی قیادت میں موجودہ یک
قطبی دنیا (unipolar world) کے انتظام و انصرام کا ایک لائحہ عمل یا
ہدایت نامہ ہے جس کی امریکہ اور یورپ کے پالیسی ساز حلقوں میں زبردست
پذیرائی دیکھنے میں آئی ہے
مثال کے طور پر رچرڈنکسن کے دورِ صدارت
کے شہرہ آفاق
سکریٹری آف اسٹیٹ ہنری کسنجر نے جو کسی زمانے میں خود بھی ہارورڈ میں
سیاسیاست کے پروفیسر رہ چکے ہیں، ہنٹنگ ٹن کی اس تصنیف کو ”سرد جنگ
کے خاتمہ کے بعد منظر عام پر آنے والی ایک اہم ترین کتاب“ قرار دیا
ہے، جب کہ اسی منصب پر فائز رہنے والے ایک اور معروف سیاسی مبصر
زبگنیو برزنسکی (Zbigniew Burzynski) کا تبصرہ ہے کہ ”یہ تحریر ایک
بڑا زرخیز علمی کارنامہ ہے جو بین الاقوامی امور کے ادراک و آگہی کے
معاملہ میں انقلاب برپا کردے گا
“تہذیبی جنگ کے نظریہ کو اختصار کے
ساتھ اگر خود سیموئل ہنٹنگ ٹن کی اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو سویت
یونین کے خاتمہ کے بعد کی دنیا اگرچہ اب دو قطبی نظام کا حامل سیاسی
اکھاڑہ تو نہیں رہی ہے، لیکن اپنی موجودہ شکل میں اسے دو سو کے قریب
ممالک کا ایک مجموعہ محض بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ ممالک
کوئی ساتھ یا آٹھ جداگانہ تہذیبی اکائیوں میں بٹے ہوئے ہیں جن میں
شمالی امریکہ اور یوروپی ممالک پر مشتمل مغربی تہذیب کو سب پر فوقیت
حاصل ہے
اس کے برعکس دنیائے اسلام اور لاطینی امریکی ممالک اپنے
درمیان کسی قابل لحاظ
نمائندہ طاقت کی عدم موجودگی کے باعث اس تہذیبی سلسلے کی کمزور ترین
کڑیاں ہیں۔ جہاں تک عالمی اسلامی برادری کا تعلق ہے وہ مغربی، ہندو،
چینی ، جاپانی اور افریقی تہذیبوں کے مقابلہ میں ایک یکسر مختلف مزاج
کی حامل تہذیب ہے
ہنٹنگ ٹن کے تجزیہ کے مطابق مادی ترقی کے فقدان کے
باوجود یہ تہذیب غیر مسلم دنیا پر اپنی برتری کے زعم میں مبتلا ہے جس
کی وجہ سے تشدد اس کی فطرت ثانیہ بن کر رہ گیا ہے اور یہ ایک ایسی
حقیقت ہے جس کے پیش نظر مغربی دنیا کو اسلامی بنیاد پرستی کے بجائے
اب اسلام سے ہی نمٹنے کی فکر کرنی چاہیے
بش انتظامیہ اور
بحراوقیانوس کے اس پار اس کے ٹونی بلیئر جیسے حوار ی
افغانستان، عراق اور فلسطین میں آج جن حکمت عملیوں کا مظاہرہ کررہے
ہیں اس کے پیش نظر برزنسکی کی خیال آرائی کے عین مطابق ہنٹنگ ٹن کے
تجویز کردہ عالمی نظام کی تشکیل نو کے اس فکر وفلسفہ کی ’انقلاب
آفرینی‘ سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے
لیکن اس کے باوجود اس میں پنہاں
تہذیبی جنگ کے تصور کو احمقانہ حد تک سہل بلکہ لچر سمجھنے والے
مفکرین کی بھی کمی نہیں ہے اور آنجہانی ایڈورڈ سعید کی طرح اس نظریہ
کا ہرناقد عرب یا فلسطینی نژاد بھی نہیں ہے کیونکہ خود امریکہ اور
یورپ کے علمی حلقوں میں ہنٹنگ ٹن کی اس کتاب کے حوالہ سے بڑے تواتر
کے ساتھ اس بات کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے کہ برسرپیکار ہونے کے لیے
متحارب قوموں کا جداگانہ
تہذیبوں سے متعلق ہونا کلیتاً ضروری نہیں ہے، کیونکہ گزشتہ صدی میں
لڑی جانے والی دونوں عظیم جنگیں جن میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ
کام آئے تھے، خود مغربی تہذیب کے اپنے داخلی انتشار کا شاخسانہ تھیں
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جاپان کے شاہ ہیروہیتو کے استثنا کے ساتھ
روزویلٹ، چرچل، اسٹالن، ہٹلر اور مسولینی جیسے دوسری جنگ کے تمام
کلیدی کردار نہ صرف یورپی نژاد تھے بلکہ ان میں سے بیشتر کو اپنے
عیسائی ہونے پر بھی کوئی شرمندگی نہیں تھی
اس اعتبار سے بیسویں صدی
کی دونوں جنگیں مغربی تہذیب ہی نہیں بلکی مسیحی دنیا Christiandom کے
اپنے اجزا وعناصر کا باہمی جنگ وجدال بھی تھیں
بااعتبار تشخص اس مغربی اور مسیحی دنیا نے بظاہر آج اپنے بہت سے
تضادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک زیادہ مربوط شکل اختیار کرلی ہے۔
لیکن اس کے نتیجہ میں جو مغربی تہذیب مشرق کے سامنے آئی ہے وہ بھی
ہمیشہ کی طرح عملاً ایک خود پرست اور نسل پرستracist تہذیب ہے
ہنٹنگ
ٹن اسی تہذیب کے مفادات کے ایک پرجوش ترجمان ہیں جس کے واضح اشارے ان
کی ایک حالیہ تصنیف ’ امریکہ کو درپیش عظیم بحث’ ہم کون ہیں؟‘
"America's Great Debate: Who Are We?" سے بھی ملتے ہیں۔ یاد رہے کہ
’تہذیبی جنگ‘ میں ہنٹنگ ٹن نے عالم اسلام کے ساتھ ساتھ وسطی اور
جنوبی امریکہ کی تہذیبی پس ماندگی کا بھی رونا رویا تھا
لیکن ’ہم کون
ہیں....‘ میں انہوں نے کھل کر امریکی تشخص میں لاطینی خلط کی مخالفت
کرتے ہوئے ایک ملک اور قوم کی حیثیت سے اسے ریاست ہائے متحدہ کے لیے
خطرناک قرار دیا ہے
بالفاظ دیگر ہنٹنگ ٹن نہیں چاہتے کہ
کثیرالثقافتی معاشرہ (multi-culturalism) کے فروغ کے نام پر بالخصوص
میکسیکو کے باشندوں کو امریکہ نقل
مکانی کی کھلی اجازت دی جائے۔ ان میکسیکی تارکین وطن کا جنہیں عرف
عام میں امریکی براعظموں کے تمام رنگ دار قدیمی باشندوں کی طرح
’انڈین‘ کہا جاتا ہے، قصور صرف اتنا ہے کہ ان کے آبا واجداد قبل از
تاریخی ادوار میں یورپ کے بجائے مشرق بعید سے نقل مکانی کرکے سرزمین
امریکہ پر وارد ہوئے تھے۔عہد حاضر میں لاطینی امریکہ کے ان انڈین
باشندوں نے کئی صدیاں اقوام یورپ کی غلامی میں بسر کی ہیں
اس دوران
انہوں نے اپنے ہسپانوی حکمرانوں کی زبان اور کیتھولک مذہب کو تو ضرور
اپنالیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ وہ اپنی رنگت تبدیل کرنے پر قادر نہیں
ہیں۔ لہٰذا شمالی امریکہ کے گورے نو آباد کاروں کی نگاہ میں انگریزی
زبان سے نابلد غیر فصیح ہسپانوی بولنے والے یہ انسان نما دوپائے اپنی
اس کم اصلی کی بنا پر امریکہ کے نسلی طور پر اعلیٰ و ارفع معاشرہ میں
ضم ہونے کی خلقی صلاحیت سے محروم ہیں اور اس
ناقابل معافی جرم کی بنا پر ان کا بڑی تعداد میں امریکہ آکر آبادہونا
اس ملک کے سیاسی آقاﺅں کا مفاد نہیں ہوسکتا
اس نوعیت کی نسل پرستی
دراصل شروع سے ہی انگریزی نژاد پروٹسٹنٹ امریکیوں کا، جنہیں White
Anglo-Saxan Protestants یا اختصار کے ساتھ صرف WASP کے نام سے موسوم
کیا جاتا ہے، شعار رہی ہے اور یہ دنیا کی بدقسمتی ہے کہ گورے اینگلو
سیکسن امریکیوں کا یہی طبقہ صیہونی مہاجنوں کی تائید سے اس وقت دنیا
کا حکمراں بنا بیٹھا ہے
لیکن امریکی انتظامیوں کے یہودی رابطے ایک
علیٰحدہ کہانی ہیں۔ سردست یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ ہنٹنگ ٹن کے
وسوسوں کے برخلاف مغربی دنیا اپنے مذہبی اور مسلکی نوعیت کے اندرونی
تضادات کی بنا پر ایک مربوط تہذیبی اکائی کہلائے جانے کی حق دار نہیں
بن سکتی کیونکہ انگریزی نژاد پروٹسٹنٹ اپنے کیتھولک ہم مذہبوں کے
بارے میں بھی سیاسی اور معاشرتی سطح پر گونا گوں قسم کے ذہنی تحفظات
رکھتے آئے ہیں
یہی وجہ ہے کہ پروٹسٹنٹ کلیسا کے کار پردازوں اور
امریکہ کے روایت پسند سیاسی حلقوں نے آئرش الاصل جان کینیڈی کو بھی
1960 کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بننے کی اجازت صرف اس شرط کے ساتھ
دی تھی کہ وہ کامیابی کی صورت میں اپنے کیتھولک مسلک اور امریکی
مفادات کے مابین تصادم کے کسی بھی امکان کے پیش نظر منصب صدارت سے فی
الفور سبکدوش ہوجائیں
گے
لیکن یہ بھی ایک الگ کہانی ہے۔ فی الوقت کہنا صرف یہ مقصود ہے کہ
امریکہ کے گورے پروٹسٹنٹ حکمرانوں کا موجودہ ہدف رومن کیتھولک لاطینی
امریکہ اور فرانس، بدھسٹ جاپان اور چین یا ’ہندو‘ ہندوستان کے بجائے
صرف اسلامی دنیا ہے اور اس کی وجوہات مذہبی بھی ہیں اور معاشرتی بھی،
سیاسی بھی ہیں اوراقتصادی بھی
ہنٹنگ ٹن نے تہذیبی جنگ کے نظریہ کو ضبط تحریر میں لاکر اسلام اور
مسلمانوں کے خلاف ان تمام نکتہ ہائے نگاہ سے شمالی امریکہ اور مغربی
یورپ کے ہر روایتی تعصب اور مخاصمت کو ایک نئی زبان اور آہنگ بخشنے
کی سعی کی ہے۔ لیکن اس سے یہ تاریخی حقیقت بہرحال تبدیل نہیں ہوتی کہ
اس سقراطِ وقت کی طرف سے عالم اسلام کی جس تمدنی ’پسماندگی‘ کو بنیاد
بنا کر مغربی تہذیب کی نمائندہ طاقتوں کو ’جہادی‘ عناصر کے خلاف ایک
فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار رہنے کی حکمت تعلیم کی جارہی ہے وہ خود
مسلم ممالک پر مغربی استعماری قوتوں کی دو ڈھائی سو سال پر محیط
حکمرانی کی دین ہے اور جہاں تہاں امریکی بالادستی کے خلاف سرگرم
مذکورہ جہادی حلقوں کا وجود بھی اپنے اپنے ممالک اور قوموں کے خلاف
مغربی دنیا کے اسی تاریخی جرم کا ایک فطری ردعمل ہے
حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا زمانہ حال میں بھی ’اعتدال پسندی‘ کے نام
پر حامد کرزئی، سوہارتو، حبیب بورقبیہ، انور سادات اور حسنی مبارک
جیسے اپنے عربی اور عجمی گماشتوں کو عالم اسلام پر مسلط کرکے اس کے
لیے مزید سیاسی رسوائیوں اور اقتصادی زبوں حالی کا سامان پیدا کرتی
رہی ہے۔ چنانچہ جہادی حلقے جو بجا طور سے’اعتدال پسندی‘ کے اس امریکی
اور یورپی ایجنڈہ کو عالم اسلام کی بے لگام اور لایعنی مغرب کاری
westernisation سے تعبیر کرتے ہیں، آج جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ
مسلمانوں کی عمومی فہم و فراست کے مطابق بھی مسلم دنیا کی سیاسی،
نظریاتی اور اقتصادی بقا کی جنگ ہے
امریکہ اور اس کے یورپی حواریوں نے جہادی حلقوں کی اس ’جسارتِ بیجا‘
کا جواب نہ صرف جہادی رضاکاروں بلکہ عورتوں اوربچوں سمیت عراقی،
افغانی اور فلسطینی عوام کے یک طرفہ قتل عام کی شکل میں دیا ہے
ہنٹنگ ٹن جیسے حکمائے سیاست علمیت کی دبیز چادرڈال کر عالم اسلام اور
اقوام مشرق کے خلاف، جن میں کل تک بدھسٹ کوریا اور ویتنام بھی شامل
تھے، مغربی تہذیب کے ان مکروہ جرائم اور عزائم کو دنیا کے اجتماعی
ضمیر سے تادیر پوشیدہ نہیں رکھ سکتے
چنانچہ ’تہذیبی جنگ‘ کا نظریہ پیش کرکے انہوں نے جو کارنامہ سر انجام
دیا ہے اسے علمی اعتبار سے مغرب کے سیاسی حلقوں میں خواہ کتنا ہی
وقیع کیوں نہ گردانا جائے، اخلاقی اور واقعاتی اعتبار سے اس کا پوچ
ہونا از خود ثابت ہے
|