|
آخرکاراسےہندوستانی
فوجی جوانوں
نےتقریبا ساٹھ فٹ گہری کھائی سے زندہ سلامت نکال کر یہ ثابت کر دیا
کہ اگر حوصلے جواں ہوں اور عزم مصمم سے کام لیا جائے تو پانی میں آگ
لگانا بھی زیادہ مشکل
نہیں
قصہ یوں ہے کہ پانچ سالہ پرنس جمعہ
کی شام کھیلتے
ہوئے ایک فٹ چوڑی اور ساٹھ فٹ گہری اس کھا ئی میں جا گرا تھا جو پانی
کی حصولیابی کی غرض سے کھودی گئی تھی
تاہم پانی کی عدم دستیابی کے باعث اس میں پائپ
نہیں ڈالاجاسکا اور کھودے ہوئے اس سوراخ کو جس کی گہرائی تقریبا 60
فٹ تھی، یوں ہی چھوڑدیاگیا
جمعہ کی شام پرنس اسی مقام پر کھیل رہا تھا کہ
اچانک اس معصوم کی ننھی سی جان اس ایک فٹ چوڑی کھائی کے اندر چلی گئی
اس حادثہ کے بعد بچے کو زندہ سلامت باہر
نکالنے کی ہرممکن کوشش شروع ہوئی تاہم مقامی سطح پر جب تمام تدابیر
بے ثمر ثابت ہوئیں تو پرنس کی زندگی بچانے کیلئے فوجی جوانوں کو طلب
کیا گیا
فوج تو طلب کر لی گئی مگر مسئلہ یہ تھا کہ اسے
میدان جنگ میں کوئی معرکہ تو سر کرنا نہیں تھا بلکہ حسن تدبیر سے کام
لیتے ہوئے اس بچے کی زندگی بچانی تھی
چنانچہ فوج کے انجینئروں نے اس ایک فٹ چوڑے
اور ساٹھ فٹ گہرے گڈھے کے قریب ایک دوسرا گڑھا کیا تاکہ 60 فٹ گہری
سطح تک پہنچنے کے بعد سرنگ کے ذریعہ پرنس تک پہنچا جاسکے
ایک جانب فوجی جوانوں نے اس مہم پر کام شروع
کیا تو دوسری جانب رسی کے ذریعہ پرنس کےپاس کھانے پینے کی اشیا
پہنچائی گئ
پرنس ہریانہ کے کروکشترا ضلع کے ایک دور افتادہ علاقے کا رہنے والا
ہے جس کی عمر محض پانچ سال ہے
اس نے اس ننھی سی عمر میں تنہائی کااتنا بڑا متحان کیسے پاس کیا اور
ان اوقات میں اس نے ساٹھ فٹ گہری کھائی میں کیا کچھ جھیلا ، شاید
کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ،کیونکہ ابھی وہ صحیح طریقے سے بولنا بھی
نہیں جانتا
فوجی جوانوں نے اپنے منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار کرتے ہوئے پرنس کو
بحفاظت ماں کے جگر کے ٹکڑے کو لوٹا تو دیا مگر یہی کہا جاسکتا ہے کہ”
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے” کا مقولہ ہی اصلا اس کی زندگی کا راز ہے
جسے شاعر نے مخصوص پیرائے میں یوں بیان کیا ہے
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
|