|
ابھی تک کسی تنظیم یا گروپ کے ملوث
ہونے کے ثبوت نہیں ملے
جبکہ اس سے قبل بھارتی پولیس اور
ایجنسیاں مزاحمتی تنظیم لشکر طیبہ کے علاوہ بھارتی مقامی
تنظیم ’ سیمی‘ پر شک کا اظہار کر چکی ہیں تاہم لشکر طیبہ اور سیمی نے
ممبئی بم دھماکوں کی پرزور تردید اور مذمت کرکے بھارتی پولیس اور
ایجنسیوں کی تفتیشی مشکلات
میں اضافہ کردیا ہے
بھارتی ایجنسیاں ممبئی دھماکوں کے ’
کھرے ‘ اب بنگلہ دیش میں بھی دیکھ رہی ہیں تاہم اس طرف سے بھی تفتیشی
ایجنسیوں کو کوئی خاص معلومات حاصل نہیں ہو سکیں جبکہ بھارت کے زیر
انتظام کشمیر میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے
بھارتی ایجنسیاں اس وقت دو بھارتی
باشندوں زیب الدین اور فیاض نامی افراد کو تلاش کر رہی ہیں
تاہم ممبئی دھماکوں کا سب سے منفی
اثر پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی پاک بھارت پالیسیوں پر پڑا ہے
جن کو ایک جانب بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے یہ کہہ کر بکھیر دیا
ہے کہ ممبئی دھماکوں میں سرحد پار سے امداد دی گئی تھی اور پاکستان
دہشتگردی کے نیٹ ورک کو قابو کرے ، تو دوسری جانب بھارتی حکومت نے
پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کو جاری رکھنے سے انکار کردیا ہے
بھارتی حکومت نے کہا کہ ‘ ممبئی
دھماکوں کے بعد پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری نہیں رہ سکتے‘
بھارتی حکومت کے ان دو بیانات سے
ثابت ہوا ہے کہ مشرف کی بھارت پالیسیاں کس قدر کمزور تھیں جو بھارتی
ٹرینوں کی تباہی کے ساتھ تباہ ہو گئیں
سوال اٹھتا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں
کو اب تک تفتیش کا قابل بھروسہ’ سرا ‘ کیوں نہیں ملا ؟
ممبئی میں بم دھماکوں سے ایک دن قبل
بھارت کے دو اہم ایٹمی پروجیکٹ ناکام ہوئے تھے جو بھارتی حکومت ،
بھارتی عوام اور بھارتی افواج کےلیئے انتہائی اہم تھے، تو کیا کسی ان
دیکھی طاقت نے ان اہم پروجیکٹوں سے ملکی و بیرونی توجہ ہٹانے کےلیئے
یہ قدم اٹھایا ہے؟
تاہم وجوہات کچھ بھی ہوں ممبئی میں
ہونے والے دھماکوں نے ثابت کردیا ہے کہ صدر مشرف کی بھارت کے بارے
پالیسیوں کو بھارت میں ہونے والا ایک دھماکہ زمین بوس کر سکتا ہے |