|
دہشت پسندوں
کو ڈھونڈ نکالنے کے لیئے پولس اور دیگر سرکاری ایجنسیاں مصروف ہیں
اسی درمیان پولس کے ایک
اعلیٰ اہل کار کا یہ بیان چونکانے والا ہے کہ ممبئی کو نشانہ بنائے
جانے کے متعلق سازش کے بارے میں پہلے سے اطلاعات موجود تھیں۔ ظاہر ہے
کہ ان اطلاعات کی موجودگی میں اگر اتنے بڑے پیمانے پر دھماکے ہوتے
ہیں تو پھردہشت گردوں پرغصہ آنے کے بجائے اپنے سیکورٹی محکموں اور
انٹلی جنس ایجنسیوں کی کار کردگی پر ہی رونا آتا ہے
ساتھ ہی ساتھ
اتنے حساس معاملے پرغیر ذمہ دارانہ بیان بازی بھی
افسوسناک ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح بے گناہوں کو بم
دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ملک
دشمن عناصرکا مقصد دہشت پھیلانا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ سرکاری حکام و
اہل کار کے علاوہ میڈیا کا بھی عین فرض ہے کہ وہ ایسی بیان بازیوں سے
خود کو محترز رکھیں جس سے ماحول کے بگڑنے کا اندیشہ ہو
ممبئی کی
لوکل ٹرینوں میں ہوئے بم دھماکوں سے ویسے بھی جانی اور مالی نقصانات کم نہیں ہوئے ہیں اور
اگر بیان بازیوں کے سبب ماحول بگڑتا ہے تو پورے ملک کو مزید نقصان
اٹھانا پڑسکتا۔ اس طرح دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائیں گے
عوام اور بالخصوص سیاسی پارٹیوں کو چاہیے کہ اس موقع پر امن وامان
قائم رکھنے میں حکومت کی مدد کریں۔ممبئی کی ٹرینوں میں ہوئے انسانیت
سوز بم دھماکوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے مگر اسی کے ساتھ
ساتھ یہ بات بھی ذہن نشیں رکھنی ہوگی کہ صرف مذمتی بیانات سے ملک اور
عوام کا بھلا نہیں ہونے والا ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ممبئی
سمیت ملک کے دیگر شہروں اور علاقوں کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے
لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں
تاہم یہ بدقسمتی ہے کہ اس سلسلے میں کسی
بھی حکومت کی کار کردگی اطمینان بخش نہیں رہی ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع
نہیں ہے جب ممبئی یا کسی دوسرے شہر کو دہشت گردانہ کارروائیوںکا
نشانہ بنایا گیا ہے
خود ممبئی شہر متعدد باراس طرح کی غیر انسانی
مجرمانہ حرکتوں کا شکار ہوا ہے 12مارچ 1993 کے 13 سلسلے وار بم
دھماکوں کی وحشت ناک یادیں اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ ان بم
دھماکوں میں تقریباً 300 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے
اس کے لیے انڈرورلڈ ڈان داودابراہیم کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا
تاہم ابھی تک داود ہماری گرفت سے دور ہے۔لیکن 1993 کے بم دھماکے کو
ایک خاص پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے
کہ دہشت گردوں اور مافیا ڈان اور پیشہ ور مجرموں کو ضرورت کے وقت کسی
خاص مذہب سے جوڑ دیا جاتا ہے
مثال کے طور پر مختلف حلقوں نے 1993 کے
بم دھماکوں کو بابری مسجد اور فرقہ وارانہ فسادات کا ردعمل قرار دیا
تھا۔ مگر اس بات کو یکسر فراموش کردیا گیا کہ داود ابراہیم ایک مافیا
ڈان ہے اور اس کے ساتھ چھوٹا شکیل اورا بوسالم کے ساتھ ساتھ چھوٹا
راجن اور ببلو شریواستو کے بھی تعلقات رہے
ہیں
اس سلسلے میں صرف اتنا ہی کہا جاسکتاہے کہ مافیا ڈان کا اپنا
الگ ”مذہب“ ہوتا ہے۔ وہ اپنے شکار کو یہ دیکھ کر نہیں ہلاک کرتے کہ
وہ مسلمان ہے یا ہندو بلکہ اس کا عمل اس کے اپنے مفادات کے مطابق
ہوتا ہے
اسی طرح 2دسمبر 2002 میں گھاٹ کوپر علاقہ میں ہوئے بم
دھماکوں کا بھی معاملہ ہے ۔اس میں دو افراد ہلاک اور 30سے زائد زخمی
ہوئے تھے۔ پولس نے متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ انہیں حراست میں رکھا
گیا۔ تفتیش کے بھی بلند بانگ دعوے کیے گئے مگر پولس کے مطابق گھاٹ
کوپر واقعہ کے اصل ”ملزم“ خواجہ یونس کی پولس حراست میں ہوئی ہلاکت
نے تفتیشی کارروائیوں کی پوری قلعی کھول دی
تھی۔ آج بھی گھاٹ کوپر کا اندوہناک واقعہ نہیں سلجھ پایا
گھاٹ
کوپربم دھماکہ کے چند دنوں بعدہی یعنی 6دسمبر 2002ایک فوڈ پلازہ میں
ہوئے بم دھماکے میں 25افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کی تفتیشی
کارروائی کس مرحلہ میں ہے کسی کو نہیں معلوم
اسی طرح 27جنوری 2003 کو
پارلے ریلوے اسٹیشن پر ہوئے بم دھماکے، 13مارچ 2003 ملوند ریلوے
اسٹیشن پرہوا بم دھماکہ بھی اب تک لوگوں کو یاد ہے جس میں گیارہ ہلاک
اور 65زخمی ہوئے تھے۔ابھی یہ زخم ہرے ہی تھے کہ 25اگست 2003 کو ایک
مرتبہ پھر ممبئی کو دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا
یہ
دھماکے گیٹ وے آف آنڈیا اور زاویری بازار علاقے میں کیے گئے تھے۔ اس
کے نتیجے تقریباً50 ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ ادھر تازہ واردات
میں یکم جون کو ناگپور میں واقع آرایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کو مبینہ
طور پر نشانہ بنانے جارہے دہشت گردوں کو پولس نے مڈ بھیڑ میں مار
گرایا۔پولس کی اس کارکردگی کو شروع میں کافی سراہا گیا لیکن اس واقعہ
پر سے جیسے جیسے پردہ اٹھتاگیا سوالات کا سلسلہ بھی دراز ہوتا گیا
ایک غیر سرکاری تنظیم نے اپنی جانچ رپورٹ میں پورے واقعہ کو خود
ساختہ قرار دیا۔ اتنے سخت الزام کے باوجود پولس ابھی تک آر ایس ایس
ہیڈ کوارٹر پر حملہ کی مبینہ سازش کے حقائق کو لوگوں کے سامنے لانے
میں ناکام رہی ہے
اگر یہ الزام درست ہے کہ آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کے
نزدیک مڈبھیڑ میں دہشت گردوں کو مارنے کا معاملہ خود ساختہ تھا تو
11جولائی کے بم دھماکوں کی جانچ کے دوران واقعہ کے اس پہلو پر بھی
نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر کچھ شرپسند
عناصر اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کے لیے ملک و قوم کا نشانہ بناتے
ہیں تو یہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے جو ملک
کی اقتصادی ترقی کو روکنے او ر سماجی یکجہتی کو درہم برہم کرنے کے
لیے بیرون ملک میں بیٹھے اپنے آقاوں کے اشاروں پر بے گناہوں کے خون
سے ہولی کھیلتے ہیں
ممبئی نہ صرف عروس البلاد ہے بلکہ ملک کی
اقتصادی
راجدھانی ہونے کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ اعتبار سے نہایت حساس بھی
ہے۔ اس لیے اگر وہاں بم دھماکے ہوتے ہیں توپورے ملک کا متاثر ہونا
فطری ہے
حال ہی میں بھیونڈی میں قبرستان کی اراضی پر پولس نے قبضہ
کی جو کوشش کی تھی اس سے بھی ماحول کے بگڑنے کا شدید اندیشہ لاحق
ہوگیا تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ چند دنوں قبل دادر میں شیوسینا سپریمو
بال ٹھاکرے کی اہلیہ کے مجسمہ کی توہین کیے جانے کے بعد شیوسینکوں نے
قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی تھی لیکن فوراً ہی بعض
حلقوں کی جانب سے یہ کہا جانے لگا کہ یہ حرکت خود شیوسینکوں نے کی
تھی
ظاہر ہے جب تک پورے واقعہ کی منصفانہ جانچ پرمبنی رپورٹ نہیں
آجاتی تب تک کسی کو بھی مجسمہ کی توہین کے لیے مورد الزاٹھہرانا غلط
ہوگا۔ البتہ پولس اور دیگر شعبوں سے یہ توقع بہرحال کی جائے گی کہ وہ
ایسے شرپسندوںکوجتنی جلدی ہو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اقدامات
کرے، کیونکہ ایسا نہیں کیے جانے کی صورت میں ایسے شرپسندوں کے حوصلے
بڑھیں گے جسے کسی بھی صورت میں ملک کی ترقی اور قوم کی یکجہتی و
بہبودی کے لیے سودمند نہیں کہا جاسکتا ہے
11جولائی کی شام کو ہوئے
بم دھماکوں کا بھی مقصد یہی تھا جس کی طرف وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے
بھی اشارہ کیا ہے مگر جیسا کہ انہوں نے بھی کہا ہے کہ دہشت پسندوں کو
ان کے مقصد میں ناکام کرنے کے لیے ہمیں ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے
اس کے لیے فرقہ وارانہ یکجہتی
اور پرامن ماحول کو بنائے رکھنا ہوگا۔ دوسری صورت میں ہم دہشت گردوں
کے ہاتھوں صرف کھلونا بن کر رہ جائیں گے جس سے بچنا لازمی ہے
|