Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 16 July 2006 19:26 (PST)اشاعت

بھارتی وزیر اعظم کی عالمی برادری سے فریاد

شاہد الاسلام

اردوسروس ڈاٹ نیٹ نئی دہلی

منموہن سنگھ کو پہلے دہشتگردی کی تعریف کرنا چاہیئے

جی 8 سربراہ کانفرنس کیا اپنی اصل معنویت کھودے گا؟اور کیا عالمی برادری کی توجہ کا محور ایک بار پھر دہشت گردی کا موضوع ہوگا ؟جس سے نبرد آزمائی کیلئے جنگ افغانستان سے عراق تک کی مہمات سر کی گئیں۔یہ سوال اس وجہ سے بطور خاص

 اہمیت کا حامل بن گیا ہے کیونکہ بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جی 8 چوٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے روانگی سے عین قبل اس بات کا اشارہ دیا کہ وہ دہشت گردی کے موضوع کو ایک بار پھر عالم گیریت سے ہمکنار کرانا چاہیں گے کیونکہ اس لعنت کے سد باب کیلئے بین الاقوامی برادری کو باہمی ہم خیالی سے کام لینے کی سخت ضرورت ہے

دہشت گردی کو بے جواز قرار دینے والے بھارتی وزیر اعظم کی آواز عالمی سطح پر نقار خانے میں طوطی کی صدا تو ثابت نہیں ہوگی یا واقعی ان کے اس مطالبے پر عالمی رہنما آ مین آمین کہتے ہوئے جھوم اٹھیں گے ؟ اس سوال کو یوں ہی در گزر نہیں کیا جاسکتا

مگرقبل اس کے کہ بھارتی وزیر اعظم کے اس بیان کو زیر موضوع بنایا جائے جس میں انہوں نے یہ کہتے ہوئے جی 8 چوٹی کانفرنس کی افادیت کو بادی النظر میں پس پشت ڈالنے کی نامناسب کوشش کی کہ دہشت گردی کو جواز نہیں بنایا جاسکتاخواہ اس کا نصب العین کچھ بھی ہو اور اسے کسی کی حمایت اور تائید کیوں نہ حاصل ہو ،

بھارتی وزیر سے ایک ذمہ دار ہندوستانی شہری کی حیثیت سے ہر کسی کو یہ سوال کرنے کاحق بہر حال حاصل ہے کہ منموہن کی نظروں میں دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟اور اس بیان سے وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

کیونکہ بین الاقوامی امور پر نگاہ رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی جو آخری کوشش کی جاسکتی تھی ،اسے عالمی برادری نے جنگ افغانستان اور عراق کے دوران برت کر دکھایا ،جس کی کریہہ صورت ان دونوں ممالک کی موجودہ المناک حالت کے طور پر ہماری نظروں کے سامنے ہے

یہ کہنا کہ افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کے سد باب کے نام پر لڑی جانے والی جنگیں دوسری اور بھیانک دہشت پسندی کی صورت میں معرض وجود میں آئیں،نا مناسب نہیں ہوگا

چنانچہ اس موضوع کو عالمی فکر کا محور بناتے ہوئے ہندوستانی ارباب وقت کو یہ بات ذہن نشیں کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے عالمی حمایت کے طلبگارہیں تو انہیں پہلے اس کی تعریف کرنی چاہئے ،پھر اس کے تناظر میں عالمی دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہئے تاکہ دوغلی پالیسی سے بچاجاسکے

جی 8سربراہ کانفرنس میں شرکت سے قبل وزیر اعظم کے ذریعہ دیا گیا بیان یقینااپنی اہمیت کے اعتبار سے ناقابل فراموش ہے جس میں وہ بین الاقوامی برادری کے سامنے فریادی بنے دکھائی دے رہے ہیں کہ آو دنیا والو! مصیبت کی اس گھڑی میں میری مدد کیلئے ہاتھ بٹاو

بلاشبہ عالمی تناظر میں دہشت گردی کا موضوع خاصا اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس لعنت نے دنیا کا سکون درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے

مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ داخلی سطح پر جاری دہشت پسندانہ کارروائیوں کا قلع قمع کرنے کیلئے ہم دنیا کے سامنے دست سوال دراز کرتے پھریں اور دنیا میں جاری دہشت گردی سے آنکھیں چرائیں

اس وقت فلسطین اور لبنان میں جاری اسرائیلی دہشت گردی سے ہونے والی بھیانک تباہی کی مذمت کرنا کیا ہندوستانی ارباب وقت کی ذمہ داری نہیں ہے؟

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات