|
اسرائیل
کےلیئے ان دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب بھی انتہائی مشکل
مرحلہ ہے
اسرائیلی
جانب سے بیروت پر حملے روکنے کا مقصد اب تک کی اسرائیلی و لبنانی
شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکتوں کا نہ صرف ضیاع ہے بلکہ حزب اللہ
کو مشرق وسطی میں ہیرو قرار دینے کے مترادف ہوگا
دوسری جانب
اسرائیل اپنی حفاظت کے طور پر اور حزب اللہ کے حملوں سے اپنے شہریوں
کو بچانے کےلیئے لبنان پر مستقل قبضہ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اسرائیل
کےلیئے نا ممکنات میں سے ہے
تاہم
اسرائیل اس کے برعکس ممکنہ طور پر مندرجہ ذیل اقدامات ضرور کریگا
موجودہ
صورتحال میں اسرائیل کا پہلا اقدام یہ ہوگا کہ وہ موجودہ جنگ کو
طول دے کر لبنان کی اہم شاہراوں ، سرکاری و غیر سرکاری تنصیبات اور
اہم عمارات کو نشانہ بنائے گا تاکہ لبنان کو زیادہ سے زیادہ مالی
نقصان پہنچایا جا سکے اور لبنانی حکومت کو اسرائیلی شرائط کو
تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکے
ممکنہ طور
اسرائیل موجودہ جنگ کو مزید دو ہفتوں تک طول دے سکتا ہے اس سے زائد
اس جنگ کو طول دینا خود اسرائیل کےلیئے مالی و عسکری بنا، پر خسارے
کا باعث ہوگا جبکہ حزب اللہ کے تین طرح کے میزائلوں نے اسرائیلی
شہریوں کو شدید خوف وہراس میں مبتلا کردیا ہے
اسرائیل
دوسرا راستہ یہ اختیار کریگا کہ لبنان اور اسرائیل کی سرحدی پٹی کو
حزب اللہ کے اثر و رسوخ سے خالی کرنے کی بھرپور کوشش کریگا اور سرحدی
پٹی کے علاقے کو حملے کرکے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائے گا اور وہاں
کی آّبادی کو علاقہ بدر کرکے لبنانی اور اسرائیلی سرحد کو لبنان کے
اندر کئی کلو میٹر تک بفر زون قرار
دلوانے کی کوشش کریگا
سرحدی پٹی
کو بفرزون قرار دیا جاتا ہے تو حزب اللہ کےلیئے لبنان کی سرحد سے
اسرائیل پر راکٹ داغنا انتہائی مشکل ہو جائے گا جو اسرائیل کےلیئے
مستقبل میں انتہائی سو مند ثابت ہوگا
اسرائیل کی
حامی طاقتوں کا جنگ بندی سے گریز اسرائیل کی انہیں کوششوں کو تقویت
دیتا ہے
تاہم صدر
بش نے اسرائیل کو غیر محسوس طریقہ سے یہ باور کروادیا ہے کہ حملوں
میں اتنی شدت رکھو جتنا کے بعد ازاں ان حملوں کے ری ایکشن کو برداشت
بھی کر لو
امید ہے کہ
امریکی وزیر خارجہ کوندو لیزارائس عنقریب مشرق وسطی کا دورہ کرینگی
جہاں وہ عرب ممالک بالخصوص لبنان سے اسرائیل کے مطالبے منوانے کی
کوشش کروائینگی |