Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Monday, 31 July 2006 23:12 (PST)اشاعت

رچرڈ نکسن کا تعلق امن پسند فرقے سے تھا

انبساط احمد علوی

اردو سروس ڈاٹ نیٹ نئی دہلی

امریکی صدر بش کا تعلق میتھوڈسٹ فرقے سے ہے ، ٹیڈ جیلین

امریکہ کے علمی حلقوں میں ٹیڈ جیلین ایک جانا پہچانا نام ہے۔ جیلین لاس ویگاس کی نیواڈ ایونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ہیں مذہب اورمعاشرہ کا باہمی تعلق ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی تحریروں کو دنیا بھر میں درجہ استناد حاصل ہے

نئی دہلی میں ان کے ساتھ انبساط احمد علوی کی بات چیت کے چند اہم اقتباسات اردو سروس کے قارئین کےلیئے پیش کیئے جا رہے ہیں۔ انبساط احمد علوی برسوں اقوام متحدہ کے ریڈیو کےلیئے کام کرتے رہے ہیں اور خود بھی صحافی ہیں


 س: آپ کی ساری عمر مذہب اور معاشرہ کے باہمی تعلق کا مطالعہ کرتے گزری ہے۔ یہ بتائیے کہ امریکہ میں اکادمی سطح پر اسلامیات کے مطالعہ کی تاریخ کتنی پرانی ہے؟


> ج: ایک اعتبار سے جنگ ویتنام اس کا نقطہ آغاز تھا کیونکہ پہلے پہل اس جنگ نے ہی ہمیں امریکہ میں چھوٹے ممالک کے مذہب اورثقافت کو سمجھنے کی ضرورت کا احساس دلایا ۔ ےہ جنگ ویتنام ہی تھی جس نے امریکہ کے علمی حلقوں میں اس احساس کو بیدار کیا کہ ہمیں تمام ممالک کو ان کے نقطہ نظر سے بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہےے

حالانکہ حکومتی سطح پر اس وقت کے سکریٹری آف اسٹیٹ جاں فاسٹر ڈلس ےہ اعلان کرچکے تھے کہ ترقی پذیر ممالک کی نا وابستگی کی تحریک سراسرغیر اخلاقی (immoral)ہے۔ لیکن ڈیلس حالات کوسرد جنگ کی عینک سے دیکھ رہے تھے

لیکن دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ امریکہ کے علمی حلقے کسی بھی طور سے یہ بات تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ ہوہلاچی منہہ ماسکو ئی بیجنگ کی کٹھ پتلی ہیں  اور آزادی کے بعد چین کے ساتھ ویتنام کے پر تشدد سرحدی تنازعات نے یہ بات ثابت بھی کردی , امریکہ میں ا سلام کے مطالعہ کو بھی اس دور میں فروغ ملا تھا


 س: لیکن1979 تک کم از کم ثقافتی سطح پر امریکہ اسلامی ممالک کے کوائف سے محض لا علم معلوم ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ایرانی سیاست میں آیت اللہ خمینی کے ظہور کے بعد امریکی حکومت کی تحقیق تھی کہ پاکستان میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نام کا ایک عالم دین خمےنی کو�راہ راست �پر لا سکتا ہے۔ حالانکہ موودوی کو اس وقت انتقال کےے کئی ماہ کا عرصہ گزرچکا تھا


 ج: لیکن اس کے باوجود امریکہ اور اسلامی دنیا میں مذہب کے حوالہ سے ایک خاموش قسم کی ہم آہنگی ہمیشہ موجود رہی ہے۔امریکی عوام بھی مذہب پسند ہیں

امریکہ میں ایسے لوگوں کی تعداد کم ہے جنہیں آپ ملحد یا متشکک قرار دے سکیں امریکی عوام اپنے بیشتر آئیڈیل مذہب میں تلاش کرتے ہیں اور مذہب ان کے لئے نظریاتی ہی نہیں بلکہ سیاسی رہنمائی کا بھی ذریعہ ہے۔ امریکی معاشرہ کی یہ مذہب پسندی اسے اسلام کے قریب لاتی ہے جو خود ایک جامع مذہب


 س: اس صورت میں اپنی غلط فہمیوں کی اس پھیلتی لہر کی کیا توجیہہ کریں گے جن کا اسلام کو اس وقت امریکہ میں سامنا ہے؟


 ج: بات یہ  ہے کہ امریکی عوام بڑے سادہ مزاج لوگ ہیں ۔ ایک عام امریکی پیچیدگیوں کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن اس کے برعکس سیاسی سطح پر اسلام اور مغربی دنیا کے باہمی مسلسل تعلقات الجھاو در الجھاو کی کیفیت میں مبتلا رہے ہیں

ایک عام امریکی کا خیال ہے کہ برطانیہ امریکہ کا قریب تریب حلیف ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس ملک کو امریکہ کی سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے وہ برطانیہ نہیں بلکہ اسرائیل ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس سلسلے میں اپنے کچھ تصورات رکھتا ہوں جو ضروری نہیں کہ حکومتی نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہوں۔ اس کیفیت نے اسلام کے امریکہ  کے ساتھ تعلقات کویقینا منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود عام امریکی طبعاً اسلام یا مسلمانوں کے خلاف مخاصمت کاکوئی جذبہ نہیں رکھتا


 س: لیکن اس وقت اسلامی دنیا اور امریکہ کے باہمی تعلقات کی جو نہج ہے اس کے پیش نظر تو آپ کا یہ دعویٰ نری رجائیت پسندی معلوم ہوتا ہے۔ کیا عام امریکی ذہن واقعی یہ باور کرنے کے لیئے تیار ہے کہ اسلام فروغ تشدد کے بجائے قےام امن کا علمبردار ہے؟
 ج: یقینا ۔امریکی عوام کواس بات کا بخوبی احساس ہے کہ اسلام کے نام پر فتنہ فساد پھیلانے والے لوگ اسلامی معاشرہ کے صرف ایک چھوٹے سے حصہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا غم و غصہ اسلام یا عالم اسلام کے خلاف نہیں بلکہ اس اقلیتی گروپ کے خلاف ہے جو مجاہدین کے نام سے سرگرم ہے


 س: لیکن انہیں مجاہدین کی مدد سے امریکہ نے کریملن (روس) کو سرد جنگ کے آخری ادوار میں ایک ایسی محاذآرائی میں الجھا دیا تھا جو بالآخر سویت یونین کی شکست و ریخت پر منتج ہوئی۔ اس وقت یہ مجاہدین واشنگٹن میں حریت پسند کہلاتے تھے۔ آج یہ دہشت گرد کیسے بن گئے؟ کیا امریکہ کا یہ یوٹرن بدترین قسم کی موقع پرستی نہیں ہے؟


 س: بدقسمی سے عالمی سیاست قومی مفادات کے گرد گھومتی ہے اور امریکہ کی افغان پالیسی بھی اپنے مفادات کے تابع رہی ہے


 س: امریکہ کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ اسرائیل ایک جمہوریت ہے۔ لیکن لبنان بھی ایک جمہوری ملک ہے،جسے اسرائیل اپنی وحشیانہ بمباری سے تباہ و برباد کررہا ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کو لگام دینے کے بجائے اسے صرف شہ دے رہا ہے


 ج: یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے۔ لیکن میری اپنی رائے اس معاملہ میں حکومتی نقطہ نظر سے مختلف ہے۔ ذاتی طور سے میں اس جنگ کا حامی نہیں ہوں


 س: امریکہ میں ریاست شروع سے ہی کلیسا سے الگ رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بیرونی دنیا کو یہ احساس کیوں ہوتا ہے کہ امریکہ ایک یہودی  مسیحیJudeo-Christian ملک ہے


 ج: ایسا کہنا سیاسی غلط بیانی ہوگی۔ اگر آپ کو کہنا ہی ہے تو آپ یہ کہیئے  کہ امریکہ ایک یہودی مسیحی  اور اسلامی ملک ہے ۔امریکہ  در اصل ایک کثیر الثقافتی معاشرہ ہے جہاں ان تینوں سامی الاصل مذاہب کے علاوہ ہندو اور بدھسٹ وغیرہ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ اس کے علاوہ خود ملک کی عیسائی اکثریت بھی کئی حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ لیکن مذہبی اعتبار سے رومن کیتھولک شاید ملک کا سب سے راسخ العقیدہ گروہ ہیں


 س: لیکن امریکیوں کی اکثریت تو انگریزی النسل گورے شہریوں (White Anglo-Saxon Protestants) پر مشتمل ہے جس کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ دو سو سال پر محیط امریکی تاریخ میں آج تک صرف ایک رومن کیتھولک صدر گزرا ہے۔ میری مراد جان ایف کینیڈی سے ہے


 ج: لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ وہ امریکی بھی جوWASPS کہلاتے ہیں مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کے موجودہ صدر جارج بش میتھوڈ سٹ ہیں


 س: جی ہاں! اورcold warrior رچرڈ نکسن کا تعلق کوئےکر ( Quaker )فرقہ سے تھا جو اپنی امن پسندی کےلئے مشہور ہے


 ج( ہنستے ہوئے):ہاں! صدر نکسنQuaker تھے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات