|
رائیلے اس ہفتہ بر صغیر کے دورہ پر نکلے ہوئے تھے
اس دوران دہلی میں ان کے قیام کے دوران راقم الحروف کو بھی برطانوی
ہائی کمیشن کی دعوت پر ان کے ساتھ تا دیر تبادلہ خیال کا موقع ملا
مغربی دنیا اور اسلام کے باہمی تعلقات کے بارے میں میرے افکار و
عقائد وہی ہیں جو کسی بھی ایسے شخص کے ہوسکتے ہیں جسے اپنے مسلمان
ہونے پر کوئی شرمندگی نہ ہو۔ چنانچہ رائیلے کے ساتھ بات چیت کے دوران
جو بھی امور زیر بحث آئے ان پر کھل کر بحث و مباحثہ ہوا
رائیلے نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ غیر عرب مسلمانوں کی
اکثریت عربی زبان سے نا بلد ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ حافظ قرآن ہونے
کے باوجود بر صغیر کے مسلمان قرآن میں تدبر کی کسی حقیقی صلاحیت کے
مالک ہوسکتے ہیں۔ اعتراض بالکل بجا تھا اور ظاہر ہے کہ اس کا جواب
صرف مدافعانہ ہی ہوسکتا تھا۔ لہٰذا میں نے اس مشاہدہ کی حقیقت کو
تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ قرآن فہمی کے معاملہ میں عربی زبان سے
ناواقفیت یقینا غیر عرب مسلمانوں کی ایک بڑی کوتاہی ہے
, لیکن تراجم کے مطالعہ سے کسی نہ کسی حد تک اس کی تلافی ضرور
کی جاسکتی ہے
علاوہ ازیں اس حوالہ سے میرا اصرار اس بات پر بھی رہا کہ اس وقت
دستیاب اناجیل کے تمام نسخے بھی تو آخر تراجم ہی ہیں کیونکہ ےہ بات
تو طے ہے کہ مسیحی ناصری پروحی لا طینی، یونانی اور انگریزی زبانوں
میں نازل نہیں ہوئی تھی۔میراخیال تھا کہ حضرت عیسیٰ پر وحی سر یانی
زبان مین نازل ہوتی تھی
لیکن رائیلے نے عہد حاضر کی اناجیل کے ترجمہ ہونے کی حقیقت کو تسلیم
کرتے ہوئے کہا کہ آں حضرت کی مادری زبان آ رامی تھی ۔ میں نے ان کی
یہ تصحیح شکریے کے ساتھ قبول کی
بین السطور رائیلے کا اصل اعتراض یہ تھا کہ با اعتبار مجموعی اسلامی
معاشرہ اپنے اوپر اجتہاد کے دروازہ کبھی کے بند کرچکا ہے اور اس وقت
اسے در پیش بہت سی مشکلات اور مسائل اجتہاد سے اس پہلو تہی کا براہ
راست نتیجہ ہےں۔ اس میں شکل نہیں کہ مذہبی اور عصری علوم کی بیجا
تفریق نے مسلم دنیا کو ذہنی افلاس کی ایک مستقل کیفیت سے دوچار کردیا
ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صنعتی انقلاب کا فریق بننے سے بھی قاصر رہی
لیکن چونکہ یہ عالم اسلام کا داخلی معاملہ ہے لہٰذا مناسب ہوگا کہ
اجتہادی بصیرت کو بروئے کار لانے کا کام ان مسلم طبقات پر چھوڑ دیا
جائے جو اپنے ماضی اور حال سے واقفیت کی بنا پر اس کام کو بہتر طور
سے انجام دے سکتے ہوں، کیونکہ اس معاملہ میں اگر مغربی مفکرین نے پند
و نصائح کا کوئی باب کھولنے کی کوشش کی تو مغرب کے لئے اس ”مداخلت
بیجا“ کے نتائج خصوصیت کے ساتھ خطرناک ہوں گے
رائیلے نے مےرے اس استدلال سے اتفاق توضرور کیا لیکن وہ جاننا چاہتے
تھے کہ وہ لبرل مسلم طبقہ جس سے اصلاح احوال کی توقعات وابستہ کی
جاسکتی ہوں کتنا بڑا اور کتنا موثر ہے۔ اس طبقہ کے حجم کے بارے میں
ان کا اپنا تخمینہ کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھا اور ایمانداری کی
بات ہے کہ میں خود کو بھی اس سلسلے میں کوئی ناقابل یقین حد تک خوش
آئند رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں پاتا تھا
دوران گفتگو عالمی امور میں برطانیہ کی موجودہ حیثیت پر اپنا مشاہدہ
بیان کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلم دنیا ان کے ملک کو امریکہ کا
حاشیہ بردار سمجھتی ہے اور عراق اور افغانستان کے واقعات اس بات کے
گواہ ہیں کہ بش جہاں بھی جائیں گے ٹونی بلیئربھی ”میری کا
میمنہ“(Mary's Lamb ) کی طرح لامحالہ طور سے ان کا فدویانہ تعاقب
کرتے دکھائی دیں گے
رائیلے نے سختی کے ساتھ اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امور
میں برطانیہ کا اپنا تشخص اور اثر ونفوذ قائم ہے اسے اپنی مرضی اور
مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام کی ترغیب نہیں دی جاسکتی۔ میرا جواب
تھا کہ ممکن ہے آپ کی یہ بات درست ہو۔ لیکن اس سلسلے میں عالم اسلام
کا مشاہدہ یہی ہے کہ برطانیہ امریکہ کا جونیئر پارٹنر ہے اوربرطانیہ
اپنے بارے میں اس رائے کو اگر تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے وہ تمام
اقدامات اٹھانے ہوں گے جن سے اس معاملے میں مثبت نتائج کی امید کی
جاسکتی ہے
اسلامیات سے اپنی واقفیت اپنی زباں وبیان کی روشنی میںرائیلے بلاشبہ
اسلام اور عالم اسلام کے ایک بڑے زیرک مشاہد نظرآئے۔ واقعہ یہ ہے کہ
انہیں ان تمام خدشات اور ذہنی تحفظات کا پورا علم ہے جو مسلم دنیا اس
وقت برطانوی حکومت کے تعلق سے رکھتی ہے
لیکن دوران گفتگو انہوں نے اس بات پر خصوصیت کے ساتھ زور دیا کہ
برطانیہ مسلمانوں کے ساتھ گفت وشنید کی ضرورت کا بڑی شدت کے ساتھ
قائل ہے۔ تاہم ان کا شکوہ تھا کہ عالم اسلام کے روایتی طبقات کی طرف
سے اس سلسلے میں کوئی پرجوش ردعمل سامنے نہیں آرہا ہے۔ علاوہ ازیں
انہوں نے دوران گفتگو اس خدشہ کا بھی اظہارکیا کہ روایتی طبقہ ان
”اعتدال پسند“ مسلمانوں کی بھی بھرپور مخالفت کرے گا جن سے اجتہاد
اور غیراسلامی دنیا سے تعلقات کی وکالت کی امید کی جاسکتی ہے
اس نقطہ نظرسے شدید اختلاف کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ذاتی طور سے میں
خود بھی اپنا شمار اجتہاد اور اعتدال کے قائل مسلمانوں میں کرتا ہوں
لیکن محض اس وجہ سے کسی بھی طبقہ کے افراد کے ساتھ میرے تعلقات کبھی
کسی الجھاو کا شکار نہیں رہے
رائیلے کے ساتھ یہ گفتگو اس اتفاق رائے پر حتم ہوگئی کہ ماضی
اور حال کے کچھ تاریخی اسباب کی بنا پر عالمی سیاسی صورت حال اپنے
اندر بڑی پیچیدگیاں رکھتی ہے اور اس صورت حال کو حل کرنے کے لیے
فریقین کو خلوص نیت کے ساتھ ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کرنی ہوگی۔
دریں رابطہ سازی اور گفت وشنید کا دو طرفہ عمل جاری رہنا چاہیے
|