|
حکومت
اسرائیل سے حزب اللہ اور شام کے خلاف جارحیت جاری رکھنے کی اپیل کی
گئی ہے
،
رپورٹ
میں
ان ممالک کے
نام ظاہر نہیں کیے گئے
’لبنان کی حمایت نہیں کرینگے‘حسنی
مبارک
سعودی عرب ، اردن اور مصر اسرائیل کے ساتھ
لبنان پر اسرائیلی حملے ، خصوصی صفحہ
خط میں
مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطی میں بدامنی کی اصل محرک حزب اللہ ہے
جبکہ
شام
اور ایران اس کی مدد کر کے بد امنی کو ہوا دے رہے ہیں
،
لہذا
حزب اللہ اور شام کے خلاف کارروائی کے لیے اس سے زیادہ اور کوئی
مناسب موقع نہیں ہو گا-
مرکز اطلاعات فلسطین
کی رپورٹ کے مطابق
خطوط
لکھنے والے ممالک نے حزب اللہ اور شام کے خلاف کارروائی میں کو ان کا
تعاون بھی حاصل ہوگا اسرائیل کو چاہیے کہ جنگ بندی سے قبل حزب اللہ
کا خاتمہ کر دیا جائے
اسرائیلی سفارتی امور کے ماہر اور عرب ممالک میں تعینات رہنے والے
سابق یہودی
سفیر شمعون شیفرنے عبرانی روز نامے ’’یدیعوت احرونوت‘‘سے انٹرویو میں
کہا ہے حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے پس پردہ عرب ممالک کی
حمایت حاصل ہے
جبکہ
عرب
ممالک بھی حزب اللہ کے کردار سے نالاں ہیں وہ اس کا خاتمہ چاہتے ہیں
اور اس موقع سے زیادہ اور کوئی بہتر موقع ہاتھ نہیں آ سکتا جس میں
حزب اللہ کا خاتمہ کیا جا سکے
علاوہ
ازیں بعض عرب ممالک شام کے خلاف اسرائیلی حملے کی حمایت میں کیوں کہ
حزب اللہ کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک شام کے خلاف کھل کر
کارروائی نہ کی جا ئے
مرکز اطلاعات
فلسطین کے مطابق
اسرائیل کے اندرون ملک کام کرنے والے خفیہ ادارے’’شاباک‘‘ کے سر براہ
یو پال ڈیکسن نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنانی حزب اللہ کے خاتمے کے
بعداسرائیلی فوج ایک بار پھر غزہ میں فلسطینی
مزاحمتکاروں
اور
حماس کے قلع قمع کی طرف متوجہ ہو گی
اسرائیلی ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہو ں نے کہا کہ اگر
حماس کو کچھ عرصے کے لیے مزید موقع دیا گیا تو اسرائیل کا اس کے ساتھ
مقابلہ کرنا اتنا ہی مشکل ہو جائے گا جتنا کہ آج حزب اللہ کے ساتھ ہو
رہا ہے
انہوں نے کہا کہ اسرائیل حماس کے ان تمام خفیہ راستوں کو بند کر دے
گا جن سے وہ بیرونی قوتوں سے اسلحہ اسمگل کر کے اسرائیل کے خلاف
استعمال کر رہی ہے
مسٹر ڈیکسن نے کہا کہ حماس اور حزب اللہ کے مقاصد ایک ہیں اور وہ
اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینا چاہتی ہیں
لہذا
ہر وہ ہاتھ جو اسرائیل کے خلاف اٹھے گا توڑ دیا جائے گا |