|
جبکہ
مصر
، سعودي عرب اور اردن تين عربي ممالك لبنان كي اسلامي جدوجہد
كو اسرائيلي حملوں كا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہيں
القدس العربي نے لكھا ہے كہ اگر چہ مصر اور اردن نے فلسطينيوں اور
لبنانيوں كے ذريعہ تين اسرائيليوں كو قيد كرنے اور اسرائيلي حملوں
كي مذمت كي ہے ليكن سعودي عرب نے اس سےآگے بڑھ كر اسرائيل كے خلاف
اسلامي جہادي كارروائيوں كو اپني تنقيد كا نشانہ بنايا ہے اور ان كو
عربي ممالك كے مفاد كے خلاف قرارديا ہے
’مہر‘ کے
مطابق
عبدالباري نے سعودي عرب ، مصر اور اردن كے اس موقف پر يہ سوال اٹھايا
ہے كہ اسلامي ممالك ميں اسلامي مقاومت كب ان كے ساتھ ہم آہنگي كركے
غاصب اسرائيل كے خلاف مسلح اقدامات كرتے ہيں كہ آج سعودي حكومت ان سے
يہ مطالبہ كرے كہ وہ اس قاعدہ كي پابندي كريں
عبد الباري نے لكھا ہے كہ سعودي عرب كا يہ نظريہ مبہم اور غير واضح
ہے القدس العربي نے افغانستان ، عراق ، لبنان اور فلسطين ميں ہونے
والے مظالم پر عربي ممالك كے سكوت اور خاموشي پر شديد تنقيد كي ہے
اور كہا ہے كہ عرب ممالك كا عالم اسلام كي پيشرفت اور ترقي ميں كوئي
اہم كردار نہيں ہے اور ان كا جھكاؤ مسلمانوں كے بجائے مغربي ممالك كي
طرف كہيں زيادہ ہے
انہوں نے
لکھا کہ
عربي ممالك اسرائيل كے خلاف كوئي بھي اقدام كرنے سے گھبراتے اور
بزدلي كا مظاہرہ كرتے ہيں
اخبار نے لكھا ہے كہ لبنان كي حكومت اور ديگر لبناني سياسي تنظيميں
حزب اللہ كے جرات مندانہ اقدام كي حمايت كرتے ہيں اور بعض ڈرپوك عربي
ممالك حزب اللہ لبنان اور حماس كے دفاعي اقدام پر تنقيد كرتے ہيں جس
پر عالم اسلام كو كافي افسوس ہے
عبدالباري
نے لكھا ہے كہ لبنان اور فلسطين كے عوام كي حفاظت كے لئے سعودي عرب
اور ديگر عربي ممالك كو چاہيے كہ وہ اپني فوجوں كو غزہ اور لبنان كے
عوام كي مدد كے لئےروانہ كريں اور دو عربي ممالك كا دفاع كريں
القدس
العربي نے لكھا ہے كہ حزب اللہ لبنان نے اسرائيل كو ہلا كر ركھ ديا
ہے اور آج حزب اللہ كے ميزائل حيفا ، نہاريہ اور عكا پر بارش كي طرح
گررہے ہيں اور اسرائيل پر وحشت طاري ہے
عبدالباری
کا کہنا ہے کہ
حزب اللہ كا يہ وہ اقدام ہے جو كسي عرب ملك يا سربراہ ميں انجام دينے
كي جرات اور طاقت نہيں ہے |