Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Friday, 07 July 2006 16:38 (PST)اشاعت

میڈیلن البرائٹ نے کوفی عنان کا نام پیش کیا تھا

انسباط علوی ۔ نئی دہلی

مضمون نگارخود ریڈیو اقوام متحدہ سے کئی برسوں منسلک رہ چکے ہیں جبکہ یورپ کے ایک مشہور اخبار سے بھی تعلق رہا ہے(یہ آخری حصہ ہے)

جنرل سیکرٹری کےلیئے کوفی عنان کا نام میڈیلن البرائٹ نے پیش کیا

اقوام متحدہ کے پہلے سکریٹری جنرل ٹرگ وائی لائی 1950 میں اپنی پہلی ٹرم کےاختتام پر اس عہدہ سے مستعفی ہوناچاہتے تھے۔ لیکن اس دوران کوریا میں جنگ چھڑ گئی اور انہوں نےیہ سوچتے ہوئے کہ انہیں مذکورہ جزیرہ نما میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے ایک اہم

 

قوام متحدہ کا کردار اور عہدوں کی تقسیم، پہلی قسط

 

 کردار نبھانا ہے اس منصب کو ایک بار پھر قبول کرلیا۔ یوتھانٹ کا بھی ایک زمانہ میں یہ خوش فہمی تھی کہ اقوام متحدہ کے ہر سکریٹری جنرل کو مختلف حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں چنانچہ ضروری نہیں کہ ایک سکریٹری جنرل کے لئے جو کام ناممکن ہو اس کا جانشین بھی اسے انجام دینے سے قاصر رہے

 کرٹ والڈ ھائم کے مطابق سکریٹری جنرل کی اہم ترین ذمہ داری ہر بحران کو تدارکی سفارت کاری کی مدد سے حل کرنا ہے۔ اس طرح بطروس غالی کے پیشرو ہاویرپیرزڈی کویار کا بھی کہنا تھا کہ عالمی امن کو خطرہ میں ڈالنے والی بحرانی صورت حال اکثر بڑی پیچیدگیوں سے عبارت ہوتی ہے اور یہ اپنے سدباب کے لئے سکریٹری جنرل سے ہمیشہ لچکدار اور بڑے سوچے سمجھے رویوں کے مظاہرہ کا مطالبہ کرتی ہے

ان تبصروں کی روشنی میں جو بات سامنے آتی ہے وہ یہی ہے کہ اقوام متحدہ کا ہر سکریٹری جنرل اپنے فرائض منصبی کو آرٹیکل 99کے تنگنائے سے نکل کر انجام دینے کا خواہش مند رہا ہے

لیکن اسکی یہ یعلوہمتی واشنگٹن کی نظروں میں  ونادہند ہونے کے باوجود خود کو ہمیشہ سے اقوام متحدہ کا روح رواں تصور کرتا آیا ہے، ہمیشہ کھٹکتی رہی ہے۔ چنانچہ کلنٹن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار رچرڈ آرمٹیج نے جو برصغیرکے معاملات کا بھی ایک خاص درک رکھتےتھےکوئیار کے زمانہ میں اس حوالہ سے خطرہ کی گھنٹیاں بجانی شروع کردی تھیں۔ کرتا چلاجارہا ہے

چنانچہ ہمیں یعنی امریکیوں کو چاہئے کہ اس منصب پر فائز ہر شخص کو اپنے مفاد میں ایک بار پھر اقوام متحدہ کا کلرک اعظم بناکر رکھ دیں

بطروس غالی امریکہ کا پسندیدہ ترین انتخاب ہونے کے باوجوداس ناپسندیدہ عمل کی بدترین مثال ثابت ہوئے۔لیکن انہیں اپنے ’جرائم‘ کی سزا بھی قرار واقعی دی گئی

 بطروس غالی اب تک منتخب ہونے والے تمام ساتسی کریٹری جنرلوں میں پہلے شخص ہیں جنہیں اس عہدہ کی دوسری پانچ سالہ ٹرم سے محروم رکھا گیا۔ چنانچہ اپنی اس تذلیل کے بعد وہ متعدد مواقع پر انتہائی غم وغصہ کے عالم میں یہ بات کہتے سنائی دئے کہ ان کے ساتھ ووگ(Wog) جیسا سلوک کیا جارہا ہے

ووگ دراصل ایک معاشرتی گالی ہے جو جنوبی افریقہ میں ڈچ نوآباد کاروں کے تحت جانوروں کی سی زندگی گزارنے والے سیاہ فام باشندوں کے لئے مخصوص تھی۔ لیکن امریکی مخالفتکےباوجود بطروس غالی نے اپنیمکررنامزدگی کے لئے آخر تک امید کا دامن نہیں چھوڑا

ان کی اس خوش فہمی کی متعدد وجوہات تھیں۔ مثلاً اقوام متحدہ کا اگلا سکریٹری جنرل اُس بار بھی براعظم افریقہ سے چنا جانا تھا اورامریکیدھمکیوں کے باوجود کیمرون کے صدر پال بیانے جو اس سال تنظیم برائے افریقی اتحاد (او اے یو) کے صدر تھے، جنرل اسمبلی کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ بطروس غالی اس عہدہ کے لئے افریقہ کے متفقہ طور سے نامزد امیدوار ہیں

ادھر فرانس کا اصرار تھا کہ چونکہ انگریزی کے ساتھ ساتھ فرانسیسی بھی اقوام متحدہ کی دواسمبلی کارگزار زبانوں میں سے ایک ہے، لہٰذا سکریٹری جنرل خواہ کوئی بھی ہو اس کا فرانسیسی داں ہونالازمی ہے

لیکن جب نامزدگی کی گھڑی قریب آئی تو امریکی ویٹو کے خوف سے بطروس غالی کو نہ ان کی فرانسیسی دانی بچا سکی اور نہ او اے یو کی قرار نامزدگی، کیونکہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی اس وقت کی مندوب اعلیٰ میڈیلین البرائٹ اس تنظیم کےایوانوں میں پہلے ہی کینیا کے کوفی عنان کا تعارف اگلے سکریٹری جنرل کے طور پر کراتی پھر رہی تھیں

لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ دس سال تک نیویارک کے سٹن پلیس میں 20ملین ڈالر کی مالیت کی اپنی سرکاری رہائش گاہ میں بڑی حد تک ”ایک کلرک والا شان“ کی سی زندگی گزارنےوالےکوفی عنان تک بھی انکے ہمعصرامریکی مندوب جان بولٹن،جواقوا متحدہ کو ایک دو کوڑی کی تنظیم قرار دے چکے ہیں، آج بات چیت تک کے روادار نہیں ہیں

اقواممتحدہ جیسی تنظیم اوراسکےچیف ایڈ منسٹر یٹیو آفسر کےوقارکی یہ مزید پامالی دراصل اس وقت دنیا میں امریکی قیادت میں قائم ایک قطبی نظام کا شاخسانہ ہے

 امریکہ کسی بھی صورت میں اقوام متحدہ کو اتنی طاقت پکڑتے دیکھنا نہیں چاہتا کہ اس کا سکریٹری جنرل اصلاحات کےمجوزہ ایجنڈوں سمیت اس تنظیم کے کسی بھی معاملہ میں خود کو ترقی پذیر دنیا کے مفادات کا امین اور نگہبان تصور کرنے لگے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات