|
کردار نبھانا ہے
اس منصب کو ایک بار پھر قبول کرلیا۔ یوتھانٹ کا بھی ایک زمانہ میں یہ
خوش فہمی تھی کہ اقوام متحدہ کے ہر سکریٹری جنرل کو مختلف حالات میں
اپنی ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں چنانچہ ضروری نہیں کہ ایک سکریٹری
جنرل کے لئے جو کام ناممکن ہو اس کا جانشین بھی اسے انجام دینے سے
قاصر رہے
کرٹ والڈ ھائم کے مطابق سکریٹری جنرل کی
اہم ترین ذمہ داری ہر بحران کو تدارکی سفارت کاری کی مدد سے حل کرنا
ہے۔ اس طرح بطروس غالی کے پیشرو ہاویرپیرزڈی کویار کا بھی کہنا تھا
کہ عالمی امن کو خطرہ میں ڈالنے والی بحرانی صورت حال اکثر بڑی
پیچیدگیوں سے عبارت ہوتی ہے اور یہ اپنے سدباب کے لئے سکریٹری جنرل
سے ہمیشہ لچکدار اور بڑے سوچے سمجھے رویوں کے مظاہرہ کا مطالبہ کرتی
ہے
ان تبصروں کی روشنی میں جو بات سامنے آتی ہے
وہ یہی ہے کہ اقوام متحدہ کا ہر سکریٹری جنرل اپنے فرائض منصبی کو
آرٹیکل 99کے تنگنائے سے نکل کر انجام دینے کا خواہش مند رہا ہے
لیکن اسکی یہ یعلوہمتی واشنگٹن کی نظروں میں
ونادہند ہونے کے باوجود خود کو ہمیشہ سے اقوام متحدہ کا روح رواں
تصور کرتا آیا ہے، ہمیشہ کھٹکتی رہی ہے۔ چنانچہ کلنٹن انتظامیہ کے
ایک اعلیٰ اہلکار رچرڈ آرمٹیج نے جو برصغیرکے معاملات کا بھی
ایک خاص درک رکھتےتھےکوئیار کے زمانہ میں اس حوالہ سے خطرہ کی گھنٹیاں
بجانی شروع کردی تھیں۔ کرتا چلاجارہا ہے
چنانچہ ہمیں یعنی امریکیوں کو چاہئے کہ اس
منصب پر فائز ہر شخص کو اپنے مفاد میں ایک بار پھر اقوام متحدہ کا
کلرک اعظم بناکر رکھ دیں
بطروس غالی امریکہ کا پسندیدہ ترین انتخاب
ہونے کے باوجوداس ناپسندیدہ عمل کی بدترین مثال ثابت ہوئے۔لیکن انہیں
اپنے ’جرائم‘ کی سزا بھی قرار واقعی دی گئی
بطروس غالی اب تک منتخب ہونے والے تمام
ساتسی کریٹری جنرلوں میں پہلے شخص ہیں جنہیں اس عہدہ کی دوسری پانچ
سالہ ٹرم سے محروم رکھا گیا۔ چنانچہ اپنی اس تذلیل کے بعد وہ متعدد
مواقع پر انتہائی غم وغصہ کے عالم میں یہ بات کہتے سنائی دئے کہ ان
کے ساتھ ووگ(Wog) جیسا سلوک کیا جارہا ہے
ووگ دراصل ایک معاشرتی گالی ہے جو جنوبی
افریقہ میں ڈچ نوآباد کاروں کے تحت جانوروں کی سی زندگی گزارنے والے
سیاہ فام باشندوں کے لئے مخصوص تھی۔ لیکن امریکی مخالفتکےباوجود
بطروس غالی نے اپنیمکررنامزدگی کے لئے آخر تک امید کا دامن نہیں
چھوڑا
ان کی اس خوش فہمی کی متعدد وجوہات تھیں۔
مثلاً اقوام متحدہ کا اگلا سکریٹری جنرل اُس بار بھی براعظم افریقہ
سے چنا جانا تھا اورامریکیدھمکیوں کے باوجود کیمرون کے صدر پال بیانے
جو اس سال تنظیم برائے افریقی اتحاد (او اے یو) کے صدر تھے، جنرل
اسمبلی کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ بطروس غالی اس عہدہ کے لئے
افریقہ کے متفقہ طور سے نامزد امیدوار ہیں
ادھر فرانس کا اصرار تھا کہ چونکہ انگریزی کے
ساتھ ساتھ فرانسیسی بھی اقوام متحدہ کی دواسمبلی کارگزار زبانوں میں
سے ایک ہے، لہٰذا سکریٹری جنرل خواہ کوئی بھی ہو اس کا فرانسیسی داں
ہونالازمی ہے
لیکن جب نامزدگی کی گھڑی قریب آئی تو امریکی
ویٹو کے خوف سے بطروس غالی کو نہ ان کی فرانسیسی دانی بچا سکی اور نہ
او اے یو کی قرار نامزدگی، کیونکہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی اس وقت
کی مندوب اعلیٰ میڈیلین البرائٹ اس تنظیم کےایوانوں میں پہلے ہی
کینیا کے کوفی عنان کا تعارف اگلے سکریٹری جنرل کے طور پر کراتی پھر
رہی تھیں
لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ دس سال تک نیویارک
کے سٹن پلیس میں 20ملین ڈالر کی مالیت کی اپنی سرکاری رہائش گاہ میں
بڑی حد تک ”ایک کلرک والا شان“ کی سی زندگی گزارنےوالےکوفی
عنان تک بھی
انکے ہمعصرامریکی
مندوب جان بولٹن،جواقوا متحدہ کو ایک دو کوڑی کی تنظیم قرار
دے چکے ہیں، آج بات چیت تک کے روادار نہیں ہیں
اقواممتحدہ جیسی تنظیم اوراسکےچیف ایڈ منسٹر
یٹیو آفسر کےوقارکی یہ مزید پامالی دراصل اس وقت دنیا میں امریکی
قیادت میں قائم ایک قطبی نظام کا شاخسانہ ہے
امریکہ کسی بھی صورت میں اقوام متحدہ کو
اتنی طاقت پکڑتے دیکھنا نہیں چاہتا کہ اس کا سکریٹری جنرل اصلاحات
کےمجوزہ ایجنڈوں سمیت اس تنظیم کے کسی بھی معاملہ میں خود کو ترقی
پذیر دنیا کے مفادات کا امین اور نگہبان تصور کرنے لگے |