|
تمام ممالک تک دراز ہوچکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹر اب صحیح
معنوں میں ایک ’عالمی دیہات‘کا منظر پیش کرتا دکھائی دیتا ہے اور اسی
مناسبت سے اس جمعیی الاقوام کے سیکریٹری جنرل کو بھی
اکثروبیشترworld's first citizen یعنی کرہ ارض کے اولین شہری کا نام
دیاجاتاہے
لیکن دنیا کے اس ’اولین شہری‘کے
فرائض اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟کیا اپنی اس حیثیت میں اسے واقعتا
اقوام متحدہ کامنتظم اعلیٰ قراردیاجاسکتاہے؟اقوام متحدہ کے چارٹر کے
باب پندرہ کے آرٹیکل 97تا101 میں سکریٹری جنرل کو تنظیمی اعتبار سے
اس ادارہ کا ”چیف ایڈمنسٹریٹیو آفیسر“قراردیتے ہوئے اس کے دائرہ کار
کی نشاندہی کی گئی ہے
مثلا آرٹیکل98کے مطابق
”سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی، کونسل برائے اقتصادی ومعاشرتی امور اور
تولیتی کونسل کے اجلاس میں سکریٹری جنرل کی یہی حیثیت ہوگی اور وہ ان
اداروں کی طرف سے خود کو تفویض کی جانے والی تمام ذمہ داریوں کو پورا
کرے گا
سکریٹری جنرل اقوام متحدہ کی
کارکردگی کے بارے میں ہر سال اپنی رپورٹ جنرل اسمبلی کو پیش کیا کرے
گا۔“علاوہ ازیں آرٹیکل99 سکریٹری جنرل کو اپنی صوابدید سے سلامتی
کونسل کو ایسے تمام امور سے آگاہ کرنے کا اختیاربھی تفویض کرتاہے جو
اس کے خیال میں عالمی امن اور سلامتی کے لےے خطرہ بن سکتے ہوں۔“ لیکن
یہ الفاظ سننے میں جتنے شاندار معلوم ہوتے ہیں ان کا مفہوم شاید اتنا
ہی مبہم ہے
چنانچہ اقوام متحدہ کے قیام سے لے
کر زمانہ حال تک تمام سکریٹری جنرل اپنے اپنے انداز میں اس ابہام کی
شکایت کرتے آئے ہیں اور اس کے تیسرے سکریٹری جنرل یوتھانٹ نے تو ایک
موقع پر اپنے اس منصب کی بے وقعتی کے حوالہ سے یہاں تک کہدیاتھا کہ
”میں صرف ایک کلرک والاشان“(glorified clerk)ہوں
یوتھانٹ کایہ تبصرہ سیاسی طنز و
مزاح کی ایک بڑی پرلطف مثال ہے جس سے بین السطور نظام اقوام متحدہ کے
بارے میں ایک بڑی تلخ حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انگریزوں نے جب
کلکتہ، بمبئی اور مدراس میں یونیورسٹیاں قائم کی تھیں تو درپردہ
طورسے اس کا رخیرکامقصد ایسٹ انڈیا کمپنی کا دم بھرنے والے دیسی
کلرکوں کی ایک فوج ظفر موج پیداکرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کی بالادست قوت کے طور پر امریکہ بھی روز اول سے ہی یکے
بعد دیگرے تیسری دنیا کے اعلیٰ ترین دماغوں سے بادشاہوں جیسی آمدنی
کے مساوی تنخواہوں پر اپنے مفاد میں اقوام متحدہ کے کلر کان والاشان
کا کام لیتا رہا
لیکن زندگی کے ہر شعبہ کی طرح عالمی
سیاست بھی ایک ارتقاپذیر دنیا ہے جس کی حرکیات بسااوقات اقوام متحدہ
کے سکریٹری جنرل کو بھی اپنی چال چلنے پر مجبور کردیتی ہے۔ مصر کے
ڈاکٹر بطروس غالی امریکی نقطہ نظر سے اس حددرجہ مردود لیکن جبلّی
سفارتی آزادرومی کی ایک کلاسیکی مثال تھے
عربی، انگریزی اور فرانسیسی پر
یکساں عبور رکھنے کے لےے مشہور بطروس غالی کی اہلیہ یہودی اور وہ خود
قبطی عیسائی ہیں۔ لیکن ان کوائف کے باوجود شمس العین یونیورسٹی میں
سیاسیات کے پروفیسر سے لے کے وزیر خارجہ بننے تک انہیںمصر جیسے مسلم
اکثریتی ملک میں کبھی کوئی دقت پیش نہیں۔ بلکہ ایک نظریہ سازسیاسی
مفکر ہونے کی بنا پر وہ صدر انور سادات کے مزاج میں اتنے دخیل بتائے
جاتے تھے کہ انہیں بجا طورسے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کا اصل ارکٹیکٹ تصور
کیا جاتا ہے
لیکن مشرق وسطیٰ کا یہ ’ہنری کسنجر‘
جب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوا تو اس کی
قانونی موشگافیوں کی زد پہلے پہل صاف طورسے عربوں پر پڑتی دکھائی دی،
کیونکہ نیویارک میں آسمان سے باتیں کرتے اقوام متحدہ ٹاور میں معتکف
ہوتے ہی انہوںنے ایک عرب وفد پر یہ بات واضح کردی تھی کہ اسرائیل کو
1967کی سرحدوں تک لوٹنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا کیونکہ اس کے خلاف
اس مقصد کے لےے اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قرارداد کو اس تنظیم
کے منشور کے آٹھویں باب کی تائید حاصل نہیں ہے
آٹھواں باب جرم ثابت ہوجانے کی صورت
میں chapter eight سلامتی کونسل کو ’غلط کار‘ممالک کے خلاف تادیبی
کارروائی کا اختیار دیتا ہے۔ بطروس غالی بلاشبہ غیر معمولی
سفارتکارانہ صلاحیتوں کے حامل انسان ہیں لیکن اس کے باوجود اقوام
متحدہ کی حد تک ان کی یہ خوداعتمادی صرف ان کی خود فریبی تھی کیونکہ
اپنے آپ کو امریکہ کے لئے ناگزیر سمجھتے ہوئے انہوں نے وقت گزرنے کے
ساتھ ساتھ کلنٹن انتظامیہ سے اقوام متحدہ کی رکنیت کی فیس کی مد میں
کئی سال کے واجب الادا بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کرنا شروع
کردیا
ازاں بعد جب واشنگٹن نے سلامتی
کونسلی کی وساطت سے اقوام متحدہ کی قیام امن سے متعلق سرگرمیوں کے
بارے میں ان سے کچھ سفارشات طلب کیں تو انہوں نے امن کا لائحہ عمل
Agenda for Peace کے عنوان سے پوری ایک کتاب لکھ ماری، جس میں مانگے
تانگے کی سپاہ کی جگہ اقوام متحدہ کے لئے ایک مستقل اور باقاعدہ فوج
کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا
ان تجاوزات نے بطروس غالی کو کچھ
دیر کے لئے افروایشیائی دنیا کا مرجع تو ضرور بنادیا لیکن امریکہ کے
ساتھ ان کا سودا بگڑ گیا اور 1996 کے اواخر تک یہ بات بالکل واضح
ہوچکی تھی کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے طور پر ان کی پہلی ٹرم
ہی ان کی آخری ٹرم بھی ہوگی
اقوام
متحدہ دو کوڑی کی تنظیم، دوسرا حصہ پڑھنے کےلیئے کلک کریں |