Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 18 June 2006 12:23 (PST)اشاعت

ایک ہفتے میں دو افراد کو مبینہ توہین پر قتل کردیا گیا

امریکہ نے بھی توہین رسالت کے قانون پر تنقید کی تھی

آل پاکستان مینارٹیز الائنس نے گزشتہ ہفتے مبینہ توہین رسالت کے الزامات پر بہاولپور کے قریب مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک امام مسجد حافظ قمر جاوید کے دن دیہاڑے قتل اور مظفر گڑھ میں پولیس کی زیر حراست عبدالستار گوپانک نامی شخص کی بھی

 دن دیہاڑے احاطہ کچہری میں قتل کے واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ان واقعات کا فوری اور ازخود نوٹس لینے اور ملک کے تمام طبقات کی طرف سے ان واقعات کی کھل کر مذمت کرنے کی اپیل کی ہے

 جبکہ حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مقدمات میں گرفتار افراد اور جیلوں میں بند ایسے ملزموں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے

 آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے سربراہ شہباز بھٹی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ یہ دونوں واقعات کھلے عام مذہبی اشتعال اور جنونیت کے سنگین ترین وجود کا ثبوت ہیں جن کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیئے اور توہین رسالت کے نام پر آئے روز بڑھتے ہوئے ان واقعات کا ملک کی اعلی عدلیہ اور چیف جسٹس آف پاکستان کو فوری نوٹس لینا چاہیئے

شہباز بھٹی نے کہا کہ ایک ہفتے میں ایسے دو واقعات کا رونما ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس قانون کا کس طرح غلط استعمال خطر ناک حد تک بڑھتا جارہا ہے اور حکام امن و امان کے نفاذ اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں کس حد تک ناکام ہوچکے ہیں

انہوں نے کہا کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ توہین رسالت کیخلاف قانون لوگوں کیخلاف ایک ایسا ”ڈیتھ وارنٹ “بن چکا ہے جو ذاتی عناد مٹانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور بارہا مرتبہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اس قانون کے الزامات من گھڑت ہوتے ہیں جبکہ ملک کی اعلی عدلیہ کے کئی فیصلے بھی یہ ثابت کرچکے ہیں کہ اس قانون کی مسلسل انتہائی غلط استعمال کیا جارہا ہے اور تحقیقات سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایسے مقدمات کے پس پردہ محرکات میں میں مذہبی عناد، ذاتی پرخاش ، مفاد پرستی اور فرقہ ورانہ اختلاف موجود ہوتے ہیں

انہوں نے کہا کہ یہ سب پر واضح ہے کہ بات اگر اقلیتوں کی ہو تو ملک کی تمام مذہبی اقلیتیں خصوصا مسیحی یہ بارہا واضح کرچکی ہیں کہ وہ تمام مذاہب اور پیغمبروں کا مکمل احترام کرتے ہیں اور انکی توہین کا کسی طور تصور بھی نہیں کرسکتے جبکہ دوسری طرف مختلف مسلم فرقوں میں موجود شدت پسند عناصر ایک دوسرے کیخلاف اس قانون کا غلط استعمال کررہے ہیں

شہباز بھٹی نے کہا کہ مسلما ن اور غیر مسلم اس قانون کے انتہائی غلط استعمال کا شکار رہے ہیں اور کئی مواقع پر تو وہ گمراہ انتہاءپسند عناصر کے عزائم کی بھینٹ بھی چڑھ جاتے ہیں اور اکثر اوقات تو یہ عناصر قانون اپنے ہاتھ میں لے کر عدالتی فیصلوں کا انتظار کیئے بغیر ہی اپنے عزائم کو سرانجام دے دیتے ہیں

شہباز بھٹی نے کہا کہ اس صورتحال کے ساتھ ساتھ دوسری طرف امتناع توہین رسالت کے قانون کے الفاظ مبہم اور غیر واضح ہیں ، یہ قانون ملزم کی حقیقی عمل یا اسکے محرکات کا ثبوت تک جاننے کی کوشش نہیں کرتا ، اس قانون کی شکنجے میں جکڑے جانے والے سینکڑوں بے گناہ افراد جیلوں میں ڈال دیئے گئے یا پھر انہیں جنونیوں کے ہاتھوں اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں

 شہباز بھٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ قانون جوکہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سروں پر لٹکتی ننگی تلوار بن چکا ہے اور اسکے غلط استعمال کو روکنے کیلئے فوری اور سخت ترین اقدام کرنے کی اشد ضرورت ہے ، حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس قانون کو فوری طور پر منسوخ کرے اور اس قانون کے مقدمات میں جکڑے ہوئے بیگناہ افراد کی زندگیوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے ایک ایسا جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جا ئے جو ان تمام مقدمات کا ایک مخصوص عرصے میں ازسرنو جائزہ لے تاکہ برسوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے بیگناہوں کو رہائی نصیب ہوسکے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات