|
ایک
بیان میں کہا ہے کہ ’بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں
ہوئی ہے اور ہم نے آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے‘
پاک
بھارت، کون کس کو مات دیگا۔ حصہ اول
پاک
بھارت مسئلہ کیا ہے ؟ کون کس کو مات دیگا۔ حصہ دوم
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ اس بار کوئی نتیجہ نہیں
نکلا ہے اس لیئے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ آئندہ کی بات چیت کس نوعیت کی
ہوگی
بھارت کا موقف ہے کہ سیاچن گلیشیئر پر فی الوقت جہاں فوج موجود
ہے اگر اس پوزیشن کو تسلیم کرلیا جائے تو فوجیں ہٹائی جا سکتی ہیں
لیکن پاکستان صرف 1984 سے قبل کی صورتحال ماننے کو تیار ہے جب سیاچن
گلیشیئرز بھارتی فوج سے پوری طرح خالی تھیں
بھارت کے
سابق ایڈمرل رام داس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت میں امن کی
تحریک کو اس وقت کئی چیلنج درپیش ہیں
ان میں دونوں ملکوں میں شدید
غربت، مذہبی بنیاد پرستی، ملٹری کارپوریٹ کلچر، نیوکلیئر ، طرز فکر
اورتعصبات اور بیرون ممالک خاص طور پر امریکہ
کا اثر و نفوذ شامل ہیں
رام داس نے تجویز دی کہ امن کے عمل میں نوجوانوں کو
شامل کیا جائے اور اس تحریک کا جائزہ لینے کے لیے سال میں ایک مرتبہ
دونوں طرف کے لوگ مل بیٹھیں۔جبکہ بھارت کے
وزیراعظم منموہن سنگھ کا بھی کہنا ہے کہ اب وقت آگیا
ہے کہ دنیا کے سب سے بلند محاذ جنگ، سیاچن گلیشئر کو ’امن کی
پہاڑیوں‘ میں تبدیل کر دیا جائے
لیکن اس کے ساتھ ساتھ من موہن سنگھ
کا یہ بھی زور دیکر کہنا ہے کہ امن کے لیے سرحدوں کی از سرنوحدبندی
نہیں کی
جائیگی
منموہن سنگھ بھارت کے پہلے وزیراعظم ہیں
جنہوں نے سیاچن کا دورہ کیا ہے۔وہاں پر تعینات
ہندوستانی فوجوں کو خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا
’سیاچن کو دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ کہا جاتا ہے جہاں زندگی
گزارنا بڑا مشکل ہے
اب وقت
آپہنچا ہے کہ اس محاذ جنگ کو پر امن پاڑیوں میں تبدیل کردیا جائے
اب
جبکہ پاکستان اور بھارت تین جنگوں کی دشمنی رکھتے ہیں اور اسی دشمنی
کی کیفیت نے انھیں ایٹمی قوتیں بھی بنا دیا ہے لہذا نہ تو پاکستان کی
قیادت اور عوام اتنے بےوقوف ہیں اور نہ ہی بھارت کے عوام اور قیادت
اتنی بے وقوف ہیں کہ وہ ایک دوسرے ملک پر ایٹم بموں سے حملہ کر کے
اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیں
کیونکہ ایسی صورت میں دونوں کی ہی تباہی ہے
تو پھر اب وہ وقت اب آ جانا چاہیے کہ جب دونوں قومیں اور
حکومتیں غیروں کی باتوں میں آئے بغیر اپنے تما م ترمسائل افہام و
تفہیم سے طے کر لیں کیونکہ اس خطے میں ان کی ہی نسلیں آباد رہے
گی
کہتے ہیں کہ حکمرانوں کے وقت پر کیے ہوئے درست فیصلے قوموں کو
عروج پر پہنچا دیتے ہیں جبکہ بعض اوقات ذرا سے غلطیاں قوموں کیلئے
صدیوں کی سزائیں بن جاتی ہیں
آج دنیا ایک گلوبل ویلیج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے تو پاکستان اور
بھارت بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔جب یہ سب مسائل حل ہو جائیں گے تو
واہگہ واقعی ایک بڑی مارکیٹ بن جائے گا
( کون کس کو مات دیگا، مسئلہ کیا ہے ؟ یہ آخری
حصہ تھا )
|