Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Wednesday, 21 June 2006 19:14 (PST)اشاعت

بات چیت سے مذاکرات حل کیئے جاسکتے ہیں

منصور مہدی ، پاکستان بھارت مسائل پر تجزیاتی کالم۔ آخری حصہ

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

پاک بھارت بس سروس کے معاہدے پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں

سیاچن گلیشیئر سے فوجیں ہٹانے کے معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان دہلی میں دوروزہ بات چیت بھی بے نتیجہ ختم ہوگئی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ سیاچن مسئلے پر بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔بھارت کے وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے

ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور ہم نے آئندہ بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے‘

 

پاک بھارت، کون کس کو مات دیگا۔ حصہ اول

 

 

پاک بھارت مسئلہ کیا ہے ؟ کون کس کو مات دیگا۔ حصہ دوم

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ اس بار کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے اس لیئے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ آئندہ کی بات چیت کس نوعیت کی ہوگی

بھارت کا موقف ہے کہ سیاچن گلیشیئر پر فی الوقت جہاں فوج موجود ہے اگر اس پوزیشن کو تسلیم کرلیا جائے تو فوجیں ہٹائی جا سکتی ہیں

لیکن پاکستان صرف 1984 سے قبل کی صورتحال ماننے کو تیار ہے جب سیاچن گلیشیئرز بھارتی فوج سے پوری طرح خالی تھیں

بھارت کے سابق ایڈمرل رام داس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت میں امن کی تحریک کو اس وقت کئی چیلنج درپیش ہیں

ان میں دونوں ملکوں میں شدید غربت، مذہبی بنیاد پرستی، ملٹری کارپوریٹ کلچر، نیوکلیئر ، طرز فکر اورتعصبات اور بیرون ممالک خاص طور پر امریکہ کا اثر و نفوذ شامل ہیں

رام داس نے تجویز دی کہ امن کے عمل میں نوجوانوں کو شامل کیا جائے اور اس تحریک کا جائزہ لینے کے لیے سال میں ایک مرتبہ دونوں طرف کے لوگ مل بیٹھیں۔جبکہ بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کا بھی کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے سب سے بلند محاذ جنگ، سیاچن گلیشئر کو ’امن کی پہاڑیوں‘ میں تبدیل کر دیا جائے

لیکن اس کے ساتھ ساتھ من موہن سنگھ کا یہ بھی زور دیکر کہنا ہے کہ امن کے لیے سرحدوں کی از سرنوحدبندی نہیں کی جائیگی

منموہن سنگھ بھارت کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے سیاچن کا دورہ کیا ہے۔وہاں پر تعینات ہندوستانی فوجوں کو خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا ’سیاچن کو دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ کہا جاتا ہے جہاں زندگی گزارنا بڑا مشکل ہے

اب وقت آپہنچا ہے کہ اس محاذ جنگ کو پر امن پاڑیوں میں تبدیل کردیا جائے

اب جبکہ پاکستان اور بھارت تین جنگوں کی دشمنی رکھتے ہیں اور اسی دشمنی کی کیفیت نے انھیں ایٹمی قوتیں بھی بنا دیا ہے لہذا نہ تو پاکستان کی قیادت اور عوام اتنے بےوقوف ہیں اور نہ ہی بھارت کے عوام اور قیادت اتنی بے وقوف ہیں کہ وہ ایک دوسرے ملک پر ایٹم بموں سے حملہ کر کے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیں

کیونکہ ایسی صورت میں دونوں کی ہی تباہی ہے تو پھر اب وہ وقت اب آ جانا چاہیے کہ جب دونوں قومیں اور حکومتیں غیروں کی باتوں میں آئے بغیر اپنے تما م ترمسائل افہام و تفہیم سے طے کر لیں کیونکہ اس خطے میں ان کی ہی نسلیں آباد رہے گی

کہتے ہیں کہ حکمرانوں کے وقت پر کیے ہوئے درست فیصلے قوموں کو عروج پر پہنچا دیتے ہیں جبکہ بعض اوقات ذرا سے غلطیاں قوموں کیلئے صدیوں کی سزائیں بن جاتی ہیں

آج دنیا ایک گلوبل ویلیج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے تو پاکستان اور بھارت بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔جب یہ سب مسائل حل ہو جائیں گے تو واہگہ واقعی ایک بڑی مارکیٹ بن جائے گا

( کون کس کو مات دیگا، مسئلہ کیا ہے ؟ یہ آخری حصہ تھا )

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات