Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Saturday, 10 June 2006 13:09 (PST)اشاعت

پاک بھارت تنازعات، کون کس کو مات دیگا

منصور مہدی کا تجزیاتی کالم

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

دونوں اطراف سر کریک ، کشمیر اور سیاچن پر درجنوں ناکام مذاکرات ہوچکے ہیں

لاہور کے سرحدی علاقے واہگہ میں زمینوں کی قیمتوں میں اضافے اور اہم اداروں اور شخصیات کی طرف سے زمینیں خریدنے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جلد ہی دوستی اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہونے والی ہے کہ جس کی

وجہ سے سرحدوں پر آمد رفت بڑھ جائے گی اور مختلف کاروبار شروع ہو جائیں گے ، کیونکہ متعد سرکاری محکموں نے بھی بارڈر کے ساتھ پلاٹ خریدنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے

کچھ عرصہ پہلے تک ہزاروں میں ملنے والی زمین لاکھوں میں پہنچ گئی اور لاکھوں والی کروڑوں تک جا پہنچی تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے  جبکہ ابھی پاکستان اور بھارت میں بہت سے تنازعات تصفیہ طلب پڑے ہیں

اگر چہ ان مسائل پر دونوں قوموں کے درمیان کئی بار مذاکرات بھی ہو چکے ہیں مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ۔جون 1997 میں پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ حکام نے اتفاق رائے سے جن آٹھ اہم مسائل کی نشاندہی کی تھی اور جن کو مشترکہ طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا اگر یہ مسائل حل ہو جائیں توپاک بھارت میں تعلقات ہمسائے جیسے ہو جائے گے ایک ایسا ہمسایہ جو دوسرے کو اپنے جیسا ہی سمجھتا ہو

اگرچہ چھوٹے بڑے دیگر مسائل بھی ہیں مگر سب سے زیادہ اہمیت کے حامل اور حساس مسائل یہی آٹھ ہیں

 پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر ایک ساتھ بات ہونی چاہیے لیکن پاکستان کہتا ہے کہ دیگر تمام مسائل کی بنیاد کشمیر کا تنازعہ ہے اس لئے اس معاملے پر پہلے بات ہونی چاہئے کیونکہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرلیا جائے تو دیگر مسائل کا حل تلاش کرنے میں دیر نہیں لگے گی

جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ کشمیر کے علاوہ دیگر مسائل پر بھی گفتگو ساتھ ساتھ ہونی چاہے اور دیگرامور پر پیش رفت کو کشمیر میں کشیدگی کی وجہ سے نہیں روکا جاسکتا۔سب سے اہم تنازعہ جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے وہ کشمیر کا تنازعہ ہے

تقسیم ہندکے معاہدے کے مطابق ہندوستان کے مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان اور ہندواکثریت والے علاقے بھارت میںشامل ہو نگے جبکہ ملحقہ ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت کسی کے ساتھ مل جائیں چنانچہ کئی ایک ریاستیں پاکستان میں شامل ہو گئیں اور متعدد بھارت کا حصہ بن گئیں

مگر بعض ایسی ریاستوں کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ بھارت میں شامل ہوں یا پاکستان میں کہ جہاں پر عوام کی اکثریت مسلم اور حکمرانی غیر مسلموں کے پاس تھی یا وہ کہ جہاں پراکثریت یا اثر و رسوخ غیر مسلموں کے پاس تھا ایسی ہی ریاستوں میں ایک کشمیر بھی شامل ہے کہ جہاں پر مسلم اکثریت پاکستان میں اور وہاں کے سکھ حکمران بھارت میں شامل ہونا چاہتے تھے مگر تقسیم ہند کا قانون آڑے آیا کیونکہ مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شمار ہو نگے چاہے وہ مشرقی ہندوستان میں واقع ہوں یا ایک ہزار میل دور مغربی ہندوستان میں ہوں کی شق کی مطابق مسلم اکثریت والا علاقہ کشمیر پاکستان کا حصہ بننا چاہیے تھا مگر حکمران تقسیم ہند کے قانون کی دوسری شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت سے الحاق کرنا چاہتے تھے جس پر مسلم اکثریت اور وہاں کے حکمرانوں کے درمیان ایک چپقلش کا آغاز ہوا

عوام کا پاکستان میں شمولیت اختیار کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا گیا مگر حکمران خاندان نے بھارت سے الحاق کرنے کا اعلان کر دیا

اگر اسی وقت برطانیہ کشمیر جیسی ریاستوں کی تقسیم کا بھی طریقہ کار مقرر کر دیتا توکشمیر کا تنازعہ نہ پیدا ہوتا۔بھارت میں شمولیت کے ساتھ ہی کشمیر ی عوام اس فیصلے کے خلاف ہو گئے اور جلسے جلوس اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آج تک جاری ہے بھارت کا اصرار ہے کہ ریاست کشمیر ہمارا حصہ ہے اور پاکستان کا اصرار ہے کہ کشمیر ہمارا حصہ ہے اس پر اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں

جبکہ وہاں کی عوام کی جدوجہد علیحدہ سے جاری ہے۔1948کے آغاز میں ہی یہ مسئلہ عالمی برادری کی نظر میں آچکا تھا چنانچہ اس وقت کے بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کشمیری عوام کی رائے جاننے کے لیے اقوام متحدہ میں کشمیر میں ریفرینڈم کرانے کا وعدہ کر لیا یعنی کہ اگر عوام کی اکثریت پاکستان میں شامل ہونا چاہے گی تو کشمیر پاکستان کا حصہ اور اگر عوام کی اکثریت نے بھارت میں شامل ہونے کیلئے ووٹ ڈالا تو کشمیر بھارت کا حصہ ہو گا

بھارت کے اس جمہوری طریقہ کار کے مطابق اور اخلاقی طور سے مناسب فیصلے کو ساری عالمی برادری نے سراہا مگر دوسری طرف بھارت نے ریفرینڈم کرانے کی بجائے کشمیر کو آئینی طور پر اپنا حصہ قرار دے دیا ۔اس کے بعد دونوں ریاستیں ایک دوسرے کی جانی دشمن بن گئی ۔جس کی وجہ سے دیگرتصفیہ طلب مسائل بھی پیدا ہوتے چلے گئے

مفاد پرست طاقتیں بھارت اور پاکستان میں مفاہمت کرانے کی بجائے مزید ہوا دیتی رہیں

چنانچہ اب تک پاکستان کہتا ہے کہ کشمیری عوام ہندوستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ 1987 تک کشمیری ہندوستان کے آئین کے مطابق اس کے زیرانتظام علاقے میں ہونیوالے عام انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں اور اب کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ 1987میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہونیوالے انتخابات میں اس وقت کی بھارتی حکومت کے ایما پر کافی بدعنوانیاں ہوئی جس کو ناانصافی سمجھتے ہوئے کشمیر کے عوام نے بھارت کے خلاف اپنے حق کے حصول کی خاطرجاری جنگ آزادی کو تیز کر دیاجس کو ہمیشہ کی طرح قابض حکمرانوں کی طرح حریت پسندوں کی آزادی کی جدوجہد کو بغاوت قرار دے دیا جیسا ہندوستان میں انگریز حکمرانوں سے آزادی کی جنگ لڑنے والے حریت پسندوں کو باغی بنایا تھا۔

اس بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسندی پاکستان کی شہ پر ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے وہ کشمیریوں کی صرف سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت کرتا ہے۔دوسرا مسئلہ پاکستان اور بھارت میں جونا گڑھ کا تنازعہ بھی موجود رہا ہے کہ جہاں کی سمندری حدود پر متعدد بار گفتگو ہو چکی ہے جبکہ تیسرے نمبر پر انتہائی اہمیت کے علاقے سر کریک کا مسئلہ بھی موجود ہے

ہندوستانی ریاست گجرات اور پاکستانی صوبے سندھ کے علاقے میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین بین الاقوامی سرحد کے تعین پر بھی اتفاق ہونا باقی ہے

یہ بھی 1947سے پینڈنگ چلا آرہا ہے

یہ علاقہ سر کریک کا علاقہ کہلاتاہے۔ ساٹھ سے سو کلومیٹر کے اس علاقے میں بہت سی کریک یعنی خلیج اور دریاوں کے دہانے ہیں۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960 کی دہائی میں سامنے آیا تھاجس پر 1968میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ویسٹرن باونڈری ٹرائیبیونل ایوارڈ قائم کیا گیا لیکن یہ طے نہیں ہوسکا کہ سر کریک کے علاقے میں بین الاقوامی سرحد کا تعین کس قانونی بنیاد پر کیا جائے

اس علاقے کا کچھ حصہ آبی ہے اور کچھ حصہ خشک۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کئی دفعہ اس مسئلہ پر مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن اس پر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سرحد کے تعین کے لئے بین الاقوامی قانون کا وہ اصول استعمال کیا جائے جو سمندر کے اندر سرحد کے تعین کے لیئے بین القوامی قانون کا وہ اصولاستعمال کیا جائے جو سمندر کے اندر سرحد کے تعین کے لئے بنایا گیا ہے

جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ اصول صرف پانی والے علاقے پر عائد ہوتا ہے لیکن یہاں پانی اور خشکی دونوں موجود ہیں لہذا بھارت کی استدلال غلط ہے

دونوں ممالک کی اس علاقے میں دلچسپی یہاں پر ماہی گیری کی وسیع صنعت اور تیل کے وافر ذخائر ہے

دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف اس بات پر ہے کہ آخر سرحد کس جگہ ہے

پاکستان کا کہنا ہے کہ سرکریک کا پورا علاقہ اسکا اپنا ہے۔ لیکن ہندوستان اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے

سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لیے دونوں ممالک نے گزشتہ برس ایک مشترکہ سروے بھی کیا تھا جس کو مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا مگر پھر بھی کوئی بات نہیں بنی

چوتھا اہم مسئلہ وولر پروجیکٹ کا ہے جو بھارت دریائے جہلم پر کشمیر میں وولر پروجیکٹ کے نام سے ایک ڈیم بنا رہا ہے جس کی پاکستان شروع سے ہی مخالفت کرتا رہا ہے

( منصور مہدی کے تجزیاتی کام کا یہ پہلا حصہ تھا )

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات