Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Thursday, 22 June 2006 22:25 (PST)اشاعت

اردو صحافت، روائتی مریضانہ روش ترک کرنا ہوگی

ہندوستان میں اردو اور اردو صحافت، شاہد الاسلام ۔ نئی دہلی

اردو سروس ڈاٹ نیٹ

کشمیر میں اردو صحافت بہتر طور پر کام کررہی ہے

اردو صحافت کے تعلق سے کی جانے والی ان باتوںکے بعد اب ضروری ہے کہ مسلم میڈیا پر کچھ روشنی ڈال لی جائے تاکہ ان دونوں موضوعات کا احاطہ ہو جائے اور ان نکتوں کی باریکی بھی زیر بحث آسکے۔جہاں تک قومی میڈیا میں مسلم صحافیوں کو

 فیصلہ ساز عہدوں پر فائز کیے جانے کا تعلق ہے تو یہاں بھی کم و بیش وہی صورتحال دیکھی جاسکتی ہے،جیسی حکومت کے محکمہ جات میں بالعموم دیکھی جاتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ سرکارسے متعلقہ شعبہ حیات میں بعض کلیدی عہدوں پر مسلم عہدیدار مصلحتاً مامور کیے جاتے ہیں تاکہ حکومت پر عصبیت کا لیبل نہ لگے

ہندوستان میں اردو اور اردو صحافت ۔ حصہ اول

ہندوستان میں اردو اور اردو صحافت ۔ حصہ دوم

اس کے برخلاف قومی ذرائع ابلاغ بالخصوص ہندی میڈیاکو اس بات کی ذرابھی پرواہ نہیں ہے کہ اس پر جانبداری کے الزامات عائد ہوں ۔چنانچہ بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عمداًہندی میڈیا مسلم ارباب حل و عقد کو کلیدی اور فیصلہ ساز عہدوں پر فائز نہیں کرتے کیونکہ انہیں یہ خوف دامن گیر ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں ان کا وہ مشن کمزور پڑسکتا ہے جس کے ذریعہ وہ میڈیا سے فرقہ وارانہ عصبیت کو ہوا دیتے چلے آرہے ہیں

اس مقام پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ قومی میڈیا کیا مسلمانوں کا دشمن یا حریف ہے؟اگر ہاں تو کیسے اور اگر نہیں تو پھریہ الزام کیوں؟تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ہمیں کوئی ہچک نہیں کہ قومی میڈیا پر مکمل طور پر اعلیٰ ذات کے ہندووں کا تسلط قائم ہے جس کا کھلے دل سے اعتراف اس مشترکہ سروے میں بھی کیا گیا ہے جو اس مضمون کی شان نزول قرار پاسکتاہے

اس سروے سے جو نتیجے اخذ ہوئے ہیں اس سے تھوڑاآگے پیش قدمی کرتے ہوئے ہم اس مقام پر یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ قومی میڈیاسے متعلقہ بیشتر افراد فی نفسہ کٹر قسم کی فسطائی ذہنیت رکھنے کے عادی ہیں

مادیت کے اس عہد میں بجائے خود یہ ایک بڑااور اہم سوال ہے کہ ہمارا میڈیا کس حد تک اپنے اصل مقصد پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے نیز مفلوک الحال طبقوں کی امیدوں اور توقعات کی ترجمانی کا فرض کہاں تک نبھا رہا ہے؟کیونکہ مسابقت کے اس عہد میںہر ادارہ یا کارپوریٹ اپنے مفادات کو مقدم ٹھہرائے ہوئے ہے اور وسیع تر عوامی ضروریات ذیلی درجے میں جگہ پارہے ہیں

ظاہر ہے جب پوری نوع انسانی مادی تقاضوں کو برتنے کے تعلق سے دریا دلی کا مظاہرہ کررہی ہے ،بھلا کیوں کر نیشنل میڈیا مادیت سے پرے ہو کر اپنے فرض منصبی کو ادا کرے گا۔ہندوستانی ذرائع ابلاغ کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرنے والوں کا یہ الزام کہ قومی ذرائع ابلاغ بھی بڑی حد تک مادیت کا دست نگر بنا ہوا ہے ،ہمیں اس بابت سوچنے کو مترغب کر رہا ہے کہ کیا واقعی صورت حال نا گفتہ بہ ہوتی جارہی ہے

عصری صحافت اس وقت جس رجحان کا اشارہ دے رہی ہے اس نے بلاشبہ اہل نظر کو تشویش سے دوچار کیا ہوا ہے۔یہ اندیشے اس وقت اور بھی بھیانک تصویر پیش کرنے لگ جاتے ہیں جب یہ حقیقت ہم پر عیاں ہوتی ہے کہ اعلیٰ اور فیصلہ ساز عہدوںپر ایک مخصوص ذہنیت کے پروردہ افراد کا تسلط قائم ہوچلا ہے

 کیا اس امر پر کسی کلام کی گنجائش باقی ہے کہ جب معاشرے کے ہر ایک طبقے کی نمائندگی کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے کار پردازوں کی نیت صاف نہ ہو توایسی حالت میں یہ خوش فہمی پال لی جائے کہ میڈیا کی تصویر کشی حقائق کو پیش کرنے جیسا عمل ہے؟ہر گز ہرگز یہ بات قابل گوارا قرار نہیں دی جاسکتی

اب سوال یہ ہے کہ میڈیا میں متناسب نمائندگی کے فقدان سے کیا نقصانات ہو رہے ہیں اور ان کے تدارک کی کیا سبیل تلاش کی جائے؟’اردو میڈیا ‘اور’ مسلم میڈیا ‘کے حوالے سے کیا جانے والا تجزیہ ہمیں اس نتیجے پر لا کر کھڑا کر رہا ہے کہ ہم ان دونوں شعبہ جات کو استواریت بخشنے کا قصد کریں۔اگر ایک جانب ’اردو میڈیا‘ کو انقلاب آفریں عہد میں قدم رنجہ ہونے کے لیے مختلف چیلنجوں سے گزرنے کا جوکھم مول لینا ہوگا تو دوسری جانب اس سلسلے میں خاصے کی چیز یہ ہوگی کہ اہالیان اردو فکری منہاج کو یکسر تبدیل کریں اور عالم اسلام کی خبروں کو سنسنی خیزسرخیوں کے ذریعہ ’شبنم ‘سے’ شعلہ‘ بنانے کی روش ترک کردیں جو اب تک اردو ذرائع ابلاغ کا طرہ امتیاز قرار پاتا رہا ہے

بلاشبہ یہ خبریں اپنی معنویت کے اعتبار سے کم اہمیت کی حامل نہیں قرار پاتیں مگر ستم گروں نے مسلمانوں کے جذبات کی سوداگری کی ایسی ایسی صحافتی کوششیں کی ہیں جن سے آج کا اردو قاری اکتاہٹ کا شکار ہو چکا ہے۔چنانچہ بنیادی عصری تقاضا یہی ہے کہ اردو صحافت کو فکری یر غمالی سے آزادی دلائی جائے

اس کے ساتھ ہی ساتھ اردو میڈیا کو روایت پرستی کی مریضانہ ذہنیت بھی ترک کرنا ہوگی،جس سے آج تک آزادی نہیں دلائی جاسکی ہے۔کہنے کا ماحصل یہ ہے کہ جدید سائنسی تقاضوں کو برتنے کے حوالے سے پس و پیش کی جو کیفیت اردو میڈیا کے ہاں پائی جاتی رہی ہے اس سے سرمو انحراف کے بغیر بات بننے والی نہیں ہے

انٹرنیٹ اور ای لرننگ کے اس عہد میں اردو میڈیا کا خبروں کی ترسیل کے معاملے میں کاہلانہ رویہ بھی عصری حسیت سے بُعد کی ایک بڑی وجہ ہے

کہنے کو ہر کوئی اس دعوے کا علم بردار بنا بیٹھا ہے کہ وہ جدید تقاضے کو برتنے کے تعلق سے بیدار مغز واقع ہوا ہے مگر حق یہ ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر باقی ماندہ افراد ابھی بھی ترسیلی امور میں روایت کے حصار میں قید دیکھے جاسکتےہیں

اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس وقت ہندوستان کے طول وعرض سے اردو کے ویب ایڈیشن شائع کرنے والے اخباروں کی مجموعی تعداد چارسے متجاوز نہیں ہوسکی ہے

علاوہ ازیں دوسرا کرنے کا اہم کام یہ ہے کہ قومی میڈیا میں متناسب نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے ترجیحی بنیاد پر بعض اہم فیصلے لئے جائیں تاکہ لسانی اور مذہبی اقلیت کے دیرینہ مسائل و معاملات کو اسی طرح کوریج ملنا آسان ہوجائے جو ان کا واجب حق ہے

اس مقصد کے حصول کیلئے یہ لازم ہے کہ نئی نسل کو میڈیا کی فیصلہ ساز اہمیت سے واقف کرانے کیلئے وسیع پیمانے پر بیداری مہم چلائی جائے تاکہ مسلم طلباءمیڈیا میں کو اپنے کیریر کیلئے منتخب کرنے لگ جائیںمگر صرف اتنا ہی کرنا ناکافی ہوگا بلکہ ’مسلم میڈیا ‘کو جائز مقام و مرتبہ دلانے کیلئے بعض صاحب ثروت افراد کو بھی آگے آنا ہوگا تاکہ ’مسلم میڈیا‘ کےلئے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کئے جاسکیں اور عصری تقاضوں کے بموجب مسلم میڈیا اپنے فرائض کا ادا رک کر سکے

بلا شبہ یہ ایک مشکل اور دیر پا عمل ہوگا،مگر وسیع تر مفادات کاحصول اس کے بغیرممکن نہیں ہوسکتا۔

( ہندوستان میں اردو اور اردو صحافت پر یہ آخری حصہ تھا )

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات