Download urdu Font

 

 

 

 

 
 
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

   
 

ہم سے رابطہ کیجئے

ہمارے بارے میں

ہماری پالیسی

اشتہارات

 
 

Sunday, 09 July 2006 12:26 (PST)اشاعت

اخلاق باختگی پھل پھول رہی ہے، دنیا ویلج بن گئی

شاہد الاسلام

اردو سروس ڈاٹ نیٹ نئی دہلی

گاندھی کا مجسمہ

گاندھی کے اس دیش کو یقیناکسی کی نظر ہی لگ گئی ہے ،جبھی تو اس ملک میں گاندھیائی افکار وخیالات یکسر بالائے طاق رکھے جانے لگ گئے ہیں۔آزادی کے بعد محض نصف صدی کی مدت میں اس طرح اصولوں کی سوداگری کی جائےگی؟کسی نے خواب و خیال میں بھی

 

نہیں سوچا تھا،تاہم آج کے ناگفتہ بہ حقیقت اس صداقت کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہیں کہ اس ملک میں گاندھی کے ایک ایک فلسفے کا خون کیا جائے گااور اس ملک کو ایک نئی اور جبری قوت کے دام میں گرفتار کرکےصاحبان اقتداراپنی تن سامانی کے خوب خوب مزے لوٹیں گے

حالانکہ اس حقیقت کے اعتراف کے بجائے ہم میں سے بیشتر نے یہ خوش گمانی پال لی ہے کہ ہندوستان بابائے قوم مہاتما گاندھی کی فکری منہاج پر پیش قدمی کر رہا ہےمگرجب سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کا موقع آتا ہےتویاساورمحرومی کے سوا اور کچھ ہاتھ نہیں آتا

کہنے کو ہم نے اپنی معیشت کی گاڑی کو رفتار دیتے ہوئے دنیائے بے ثبات میں بقائے دوام کی جانب پیش بندی کی ہے اور اس دوران مختلف امور میں ہماری کار کردگی قابل اطمینان حد تک آگےبڑھتی دکھائی دیتی ہے مگر جب گہرائی کے ساتھ موضوع وار تجزیے کی نوبت آتی ہے تو عجیبوغریببےسروسامانی کا عالم دکھائی دیتا ہے

سوال یہ نہیں ہے کہ منفی سمت میں آگے بڑھنے کے باوجود ہم کیسے یہ دعوے کر رہے ہیں کہ ہم نے ترقی کے اعلیٰ مدارج طے کر لئے یا اس کی جانب ہم رواں دواں ہیں،بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ گاندھی کے اس ملک میں الٹی گنگا بہانے والوں کی آنکھیں کیوں پتھراگئی ہیں

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسی ترقی کے آخر کیا فائدے ہیں جن سے معاشرے کا ایک طبقہ مصائب و آلام سے لگاتارگھرتا ہی چلاجارہاہے؟جبکہ دوسرا گروہ اپنے عیش کدے میں مدہوش پڑا ہےاوردنیاومافیہا سے لاتعلقی کی بشارت صرف اور صرف اس وجہ سے سنا رہا ہے کیونکہ آسائش زندگی کے جملہ وسائل اسے دستیاب ہیں ۔آپ جس بھی شعبہ حیات کی جانب نگاہ رخ زیبا ڈالیے ،اورغور و فکر کی زحمت فرمائیے، یقیناآپ کو پشیمانی اور شرمندگی سے ہی واسطہ پڑے گا

خواہ ملک کی سالمیت،تحفظ، اور ترقی و استحکا م کی بات کی جائے یا جمہوری بے راہ روی اور اقتدار کی چاہ کے معاملے میں بیہودہ خیالی پرنگاہ دوڑائی جائے، چہارجانب یہی احساس غالب آتا ہے کہ بے ضمیر و ں نے اپنی اجارہ داری قائم کر لی ہے اور مستقل ان کا دائرہ عمل بڑھتاہی جا رہا ہے

دانشوری کے زعم میں مدہوش افراد کا گوشہ عافیت تلاش کر لینا اور جرائم کی دنیا کے بے تاج شہنشاہوں کاسیاست کی وادی میں وارد ہوجانا ہی غالباًان میںسے بیشتر مسئلوں کی جنی ہے ۔ خواہ راہ فرار اختیار کرنے کیلئے کچھ بھی کہہ لیا جائے اور دل کو بہلانے کی خاطر کسی ’خاص‘ اسباب و محرکات کوناگفتہ بہ حالات کے لیے ذمہ دار کیوں نہ قرار دے دیا جائے مگر سچائی یہی ہے

انارکی پیداکرنے میں معاشرے کا وہ طبقہ سب سے زیادہ قصوروار ہے جس نے اپنی آرائش و زیبائش کے اسباب کی فراہمی کے بعد’ گوشہ نشینی‘ کو راہ دینا اور عوام کے مسئلوں سے لا تعلقی کا اظہار کرنا ضروری سمجھا ہوا ہے۔اکیسوی صدی میں انفارمیشن ٹکنالوجی کا انقلاب کیاآیاگویادنیا ’گلوبل ولیج‘ بن گئی ۔ترقی کی برق رفتاری نے ہر کسی کو حیران اور ششدرتو کیا ہی مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ تنزلی کا ایک نیا باب بھی کھل گیاجومعاشرے کو دومتضاد نوعیت کے خانوں میں تقسیم کر تے ہوئےجابردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی نئی صورت بھی پیدا کر گئی ،جس کے روح فرساں مناظر کروڑوں میل کے طول وعرض میںپ ھیلے اس ملک میں دیکھےجاسکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک ایسادربھی کھل گیاجسنےایمانداری، شرافت اور عزت نفس جیسے الفاظ کی معنویت ہی ختم کردی

آج کا انسان’ ا نسانیت کےصفات سےمستثنی دکھائی دے رہا ہے تو اس کے درپردہ اصل محرک یہی ہے جسے اخلاقی دیوالیہ پن سے عبارت قرار دیاجاسکتا ہے۔یہ زمانہ اخلاق،اخلاص اور اطوار سے عاری ہی نہیں ہے بلکہ اس سچائی کا اظہار کیا جانا چاہئےکہ اکیسویں صدی کااشرف المخلوقات ’ مکارم بداخلاق‘ سے مکمل طورپر متصف دکھائی دے رہا ہے

یہ کہنے میں ہمیں کوئی عارمحسوس نہیں ہونا چاہیے کہ اس وقت جس طرح کے حالات ہیں ،ان میں کل کو مزید ابتری ہی پیدا ہوگی اور یقینی اعتبارسےاخلاقی قدروں کایہ زوال ہمیں مزید رو بہ زوال بنا کر رکھ دے گا ،کیونکہ صاحبوںنےاخلاقی بے ضمیری کی انتہا یہ کر دی ہے کہ اگر کوئی شخص خوش اخلاقی سے کسی کے ساتھ پیش آنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے تو اس کے بھی اسباب و علل تلاشے جانے لگ جاتے ہیں اور اس خوش اطواری کو’ مادیت ‘کے تقاضے کے تحت کسی منفعت کی حصولیابی کی کوشش کا نتیجہ ہی قرار دیا جاتا ہے

سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کیا یہ توقع کی جائے کہ ملک خود کفیل بن سکے گا اور عوام الناس کو سکون کی زندگی جینے کا حق مل جائے گا؟بظاہر اس سوال کاجواب دور دور تک نفی میںہی ملتا ہے۔کیا یہ المیہ نہیں کہ مساوات کے علم برداروں کی جماعت بظاہر کمزور طبقوں کی بہبودی کے لیے نعرے بازی کی تمام حدیں عبور کردے اور جب عملاًاس طبقےکومستفید کرانے کی بات سامنے آئے تو یہ لوگ بغلیں جھانکے لگ جائیں؟کیا یہ خبر کمزور وں ، مقہوروںاور معتوبوںکے لیے بجلی کی مانند دل کو جلانے والی نہیں ہےکہ اہل سیاست اورصاحبان اقتدار جو خود کو ہندوستان کی تقدیر کے مالک سمجھتے ہیں، ان کی تمام تر آرائش و زیبائش کے پس پردہ کلیدی کردار ان بھوکے اور ننگے عوام کے قیمتی ووٹوں کا ہی ہے جن کے سہارے وہ ایوان اقتدار تک کا سفر طے کرتے رہے ہیں

اس ستم ظریفی پر سچے دل سے سوچنے والا بھی کوئی نہیں ہے کہ ایک جانب یہ معتوب و مظلوم طبقہ دو اوقات پیٹ بھر روٹی کھانے سے بھی محروم ہے جبکہ اس کے ہی ووٹوں کے صدقے سیاسی بلند پروازی کے جوہر دکھانے والے صاحبان سیاست اپنے عشرت کدوں میں مدہوشی کے مزے لے رہے ہیں۔یہ صورت حال یقیناًترقی کی راہوں کو مسدود کر رہی ہے مگر حق یہ ہے کہ قحط الرجال کے اس دور میںدوسروں کے لئے سوچنا شجر ممنوعہ سے کم نہیں ۔بالفاظ دیگر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مادیت پرستی کے مرض میں مبتلا ہندوستانی عوام وخواص بھی اجتماعیت کے تصور کو بھلا بیٹھے ہیں

خواہ دیہی طرز زندگی پر نگاہ دوڑائی جائے یاشہروں کی بات کی جائے ،ہر دوجانب یہی حالاتپیدا ہوگئے ہیں کہ دنیاکی فکر چھوڑو،اپنی بات کرو ۔ اخلاق حسنہ سے عاری یہ طریق زندگی حالانکہ مستقل طور پر لوگوں کو پریشانیوں سے دوچار کر رہا ہے مگر اس کے باوجود ’اپنی فکر‘میں مبتلا لوگ اپنا چین و سکون غارت کر تے چلے جارہے ہیں

سوال یہ ہے کہ معاشرے کا تصور جس برق رفتاری کے ساتھ ناپید ہوتا جارہا ہے اس کے مضر اثرات سے کیسے بچا جائے ۔ قومیت کے جذبے کو بالائے طاق رکھنےوالےاحباب کی اس ’دانشوری‘پر سنجیدگی کے ساتھ افسوس ظاہر کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔آپکواگرموجودہ ہندوستان کی حقیقی تصویر دیکھنی ہویا اخلاق باختگی کے مناظرپرنگاہ ڈالنی ہو توکہیں جانے کی ضرورت نہیں

صرف اور صرف کسی معاصر روزنامہ پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑالیجئے ،بخوبی یہ اندازہ ہوجا ئے گا کہ ہماری معیشتاورمعاشرت کس ہیجانی دور سے گزر رہی ہے ۔آئے دن اخبارات کسانوں کی خود کشی اور بے روزگارطبقوں کی مفلسی کے تلخ حالات منظر عام پر لاتے ہیں جو کسی نہ کسی اعتبار سے حقائق کی چغلی کھانے کے ہی مترادف ہے

 حالانکہ اکیسویں صدی کا میڈیا بھی مادیت کے تقاضوں کو ہی بروئے کار لا رہا ہے باوجود اس کے حقیقی حالات کسی نہ کسی نہج پر سامنے آہی جاتے ہیں کیونکہ یہ شعاربھی کہیں نہ کہیں سے ’مادیت پرستی‘کو ہی مہمیز دیتے ہیں

یہ سہی ہے کہ ذرائع ابلاغ بھی عام شہریوں کے مسائل و معاملات کو اس دلچسپی کے ساتھ کوریج دینے سے گریزاں ہے،جیسی ملنی چاہئے،تاہم ذرائع ابلاغ کی ساکھ کو بہتر بنانے اور عوامی طور پر خود کو عوام کاغمخوار قرار دینے کے لیے ’مادیت پرستی‘کی جو بھی روش عام کی جارہی ہے ،اس سے کچھ حد تک عوام الناس کے مسائل و معاملات میڈیا میں آہی جاتے ہیں۔چنانچہ اخبارات و جدید ذرائع ابلاغ پر پہلی نگاہ ڈالتے ہی یہ نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ کمزور طبقے کی زندگی کسمپرسی سے ہی دوچار ہے۔ جدھر نظر اٹھا کر دیکھیے،آپ کو حیوانیت انسانوں کی سرشت میں داخل دکھائی دے گا

کیا دانشور،کیا طبقہ اشرافیہ اور کیا صاحبان اقتدار،ہر کوئی اس دیش میں الٹی گنگا بہانے میں مصروف کار دکھائی دےتا ہے

ہندوستان کی ترقی کے دعویداروں کو یہ کیوں نظر نہیں آتا کہ ملک کی نصف سے بھی زائد آبادی اس وقت غربت کی شکار بنی ہوئی ہے اور ان کی طرز زندگی میں بہتری کی دور دور تک کوئی موہوم سی امید بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے

افلاس اور تنگ دستی کے شکار لوگوں کا پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر گمراہی کے راستے کو اختیار کرنا کیا ہندوستان کی شانتی،امن اور سا لمیت کیلئے خطرہ نہیں ہے؟کیا یہ خطرہ جب کوئی ’بھیانک ‘شکل اختیار کر لے گی،جب ہی اس سے بچنے کی سبیل تلاش کی جائے گی

یہ اور اس طرح کے کئی سلگتے سوالات ہندوستان کے ہر ایک ذمہ دار شہری سے جواب کے متقاضی ہیں۔مگر مسئلہ ہے کہ ان امور پر غور کون کرے اور کیوں؟کیونکہ اس دیش کی گنگا الٹی سمت میں بہہ رہی ہے

 

Print This Page صفحہ پرنٹ کریں

صفحہ اول

 

2006 ©تمام جملہ حقوق بحق اردو سروس  جرمنی محفوظ ہیں

 
 

صفحہ اول

پاکستان

ہندوستان

مشرق وسطی

یورپ

حالات جہاں

میڈیا فوکس

اردو نشریات